انتخابات میں اکثریت نہ ملی تو اپوزیشن بنچوں پر بیٹھیں گے : عمران خان

انتخابات میں اکثریت نہ ملی تو اپوزیشن بنچوں پر بیٹھیں گے : عمران خان

  



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے آصف زرداری کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اکثریت نہ ملی تو اپوزیشن میں بیٹھیں گے۔ عمران خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کارکن بہت مایوس ہے، میرا بھی دل ٹوٹتا ہے، اگر میں جیتوں گا تو کچھ کروں گا، باہر بیٹھ کر کچھ نہیں ہو سکتا، آنے والا الیکشن شریف خاندان کا آخری الیکشن ہو گا۔نجی ٹی وی کے پروگرام ’’آن دی فرنٹ‘‘ میں اپنی سابقہ اہلیہ ریحام خان کی متنازعہ کتاب کے بارے میں بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ شریف برادران کے مقابلے میں فرشتہ ہوں، ان کے جتنا سیاست میں کسی کو گرتے نہیں دیکھا۔ جمائمہ کیخلاف اتنی باتیں ہوئیں کبھی ان کو جواب نہیں دیا تھا۔ انہوں نے ہی پیسے دے کر فرمائشی کتاب لکھوائی جبکہ انہوں نے نصرت بھٹو اور بے نظیر شہید کو بھی نہیں بخشا تھا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 22 سال سے میرے خلاف گند اچھالا جا رہا ہے، جیسے ہی الیکشن آتا ہے، یہ معاملات شروع ہو جاتے ہیں، الیکشن سے دو ہفتے پہلے ان کو کتاب یاد آ گئی جبکہ گارنٹی دیتا ہوں کتاب کو پڑھنے کے بعد شریف برادران کو ہی ذلت ملے گی،انہوں نے کہا کہ مگرمیرے مخالفین جو مرضی کر لیں، 25 جولائی کو پتہ چل جائے گا کہ اللہ نے کس کو عزت دینی ہے۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ دانیال عزیز اور ریحام خان بارے واٹس اپ والی کوئی بات نہیں جبکہ شیرو کا ریحام سے شادی ٹوٹنے سے بھی کوئی تعلق نہیں ۔بابا فریدؒ ؒ کے مزار پر حاضری اور بوسا دینے کے معاملے پر سوشل میڈٰیا پر اٹھنے والے اعتراضات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے مزار پر عاجزی اور عقیدت کی وجہ سے بوسہ دیا، بابا فریدؒ ایک عظیم انسان تھے۔ صوفی ازم کا مطلب انسان اپنی ’’میں‘‘ کو ختم کرتا ہے۔ میں فرشتہ نہیں انسان ہوں، شروع سے دین کی طرف نہیں تھا، اپنے آپ کو تبدیل کیا، میاں بشیر کو دیکھ کر 30سال پہلے میرا ایمان مضبوط ہوا تھا۔ملکی معاشی صورتحال بارے بات کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ملکی خسارے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، پاکستان تباہی کی طرف جا رہا ہے، ہمیں نئی سوچ لانا ہو گی۔ گارنٹی دیتا ہوں اگر اقتدار میں آئے تو 8 ہزار ارب ٹیکس اکٹھا کر کے دکھاؤں گا۔انہوں نے اعلان کیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے پیسے کو پاکستان میں لائیں گے، حکومت آئی تو سادگی اختیار کریں گے، لوگوں کے ٹیکس کا پیسہ عوام پر خرچ کریں گے اور کاشت کاروں کی مدد کریں گے۔ وزیراعظم ہاؤس کے بجائے اپنے گھر میں رہی رہونگا، نواز شریف نے بھی اعلان کیا تھا لیکن میں کر کے دکھاؤں گا۔سابق وزیرِاعلیٰ پنجاب کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شوکت خانم ہسپتال پشاور پر چار ارب روپے لاگت آئی۔ شہباز شریف نے ساڑھے چھ ہزار ارب ڈویلپمنٹ فنڈز خرچ کیا لیکن چار ارب کا ایک بہترین ہسپتال نہیں بنا سکے۔ شریف خاندان نے رشتہ داروں کو نوازا ،ان کے بچے اور داماد بھی اربوں پتی بن گئے۔ شہباز شریف اور ان کے دونوں بیٹے کرپٹ ہیں۔ اورنج لائن کا معاہدہ آج تک نہیں دکھایا گیا۔ شہباز شریف نے اورنج لائن کا قوم پر 200 ارب کا قرض چڑھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مجرموں کا قبضہ ہے، حکمران امیر اور ملک مقروض ہو گیا، پاکستانی ان سے نجات پر شکر ادا کریں گے۔الیکشن میں اگر مطلوبہ نشستیں حاصل نہ ملیں تو کیا ہو گا؟ اس سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ اگر کولیشن حکومت زرداری سے مل کر بنانی ہے تو اقتدار میں آنے کا کیا فائدہ؟ ہمیں کولیشن حکومت کا خیبر پختونخوا میں بڑا تلخ تجربہ ہوا، کولیشن حکومت کو کنٹرول کرنا آسان نہیں، اگر اکثریت نہ ملی تو اپوزیشن میں بیٹھنا پسند کریں گے۔بیگم کلثوم نواز کی علالت بارے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ میں نے انھیں لندن میں پھول بھجوائے، فیصل واوڈا نے اگر سیاسی وینٹی لیٹر کہا تو سخت مذمت کرتا ہوں، میرے علم میں نہیں کہ انہوں نے ایسا کہا۔ انہوں نے کہا کہ نواز حکومت نے لاہور میں ایک ہسپتال نہیں بنایا جس میں بیگم کلثوم کا علاج ہوتا جبکہ نواز شریف، شہباز شریف، اسحاق ڈار اور داماد بھی بیرون ملک سے علاج کراتے ہیں۔ حلقہ این اے 131میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ انشا اللہ عام انتخابات میں زبردست مقابلہ ہوگا ،ہم نے لاہور سے انتخابی مہم اٹھانی ہے ، جتنا کارکنوں کا جذبہ اور جنون نظر آتے ہم اتنا کامیاب ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی مفادات ، جائیدادیں اور مال بنانے کیلئے سیاست میں آنے والے پی ٹی آئی کے جنون اور نظریے کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔ کیا کارکن 25جولائی کے لئے تیار ہیں جس پر کارکنوں نے پرجوش انداز میں نعرہ لگایا ۔ عمران خان نے کہا کہ انتخابات میں لاہور پنجاب اور پنجاب پورے پاکستان کا فیصلہ کرے گا۔مخالف کو کمزور نہ سمجھا جائے بلکہ آخری گیند تک مقابلہ کرنا ہے ،مقابلے کے لیے کسی بھی پارٹی کو کمزور نہیں سمجھنا چاہیے۔ این اے 131 میں زبردست مقابلہ ہو گا ،ہمارا مقابلہ اس جماعت سے ہے جو 30سال سے پنجے گاڑھ کر بیٹھی ہے۔عمران خان نے کہا کہ عبدا لعلیم خان یہاں سے مہم چلائیں گے ان کے ساتھ حافظ فرحت ایک پی پی میں ذمہ داری نبھائیں گے، اسی طرح ولید اقبال کو بھی یہاں ذمہ داری سونپی ہے ۔عبد العلیم خان سے کہا ہے کہ وہ پورے لاہور میں انتخابی مہم کیلئے پلان بنائیں ہم مل کر انتخابی مہم کیلئے نکلیں گے۔ قبل ازیں عمران خان سے شاہ محمود قریشی، عبد العلیم خان ، عون چوہدری ، چوہدری محمد سرور سمیت دیگر نے ملاقاتیں کیں جس میں مجموعی سیاسی صورتحال ،انتخابی مہم اور آئندہ کے حوالے سے تفصیلی لائحہ عمل طے کیا گیا ۔

عمران خان

مزید : صفحہ اول