قانونی کارروائی ضرور ہو گی ، جسے اعتراض ہے عدالت سے رجوع کر سکتا ہے

قانونی کارروائی ضرور ہو گی ، جسے اعتراض ہے عدالت سے رجوع کر سکتا ہے

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ،آئی این پی ) نگران وزیر اطلاعات ونشریات علی ظفر نے کہا ہے کہ اگر کسی کو اعتراض ہے کہ تحقیقاتی ایجنسی اس کے خلاف کام کر رہی ہے توآئین اورقانون کے مطابق وہ عدالت سے رجوع کر سکتا ہے ،جو بھی قانونی کاروائی ہے وہ ضرور ہو گی چاہے کسی کے خلاف بھی ہو ، ہم تحقیقاتی اداروں کے کام میں مداخلت نہیں کر سکتے، پولنگ اسٹیشنز پر سیکیورٹی کی جتنی بھی ضرورت ہوگی وہ دی جائے گی، یہ کوئی گارنٹی نہیں کر سکتا کہ پولنگ والے دن بجلی کی لوڈشیڈنگ نہیں ہو گی۔جمعرات کو نگران وزیر اطلاعات ونشریات علی ظفر نے چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا سے ملاقات کی ، جس کے بعد الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی ظفر نے کہا کہ نگران حکومت کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی بھرپور مدد کر نی ہے کہ آنے والے الیکشن 25جولائی کو بر وقت ہوں ، صاف شفاف ہوں اور پر امن ہوں ،اس سلسلے میں آج میری میٹنگ تھی الیکشن کمیشن میں کہ ہم کس طرح لوگوں کو اطلاعات دے سکتے ہیں تاکہ جو الیکشن آنے والا ہے یہ مکمل طور پر نہ صرف صاف شفاف ہو بلکہ لوگوں کو نظر بھی آئے کہ یہ صاف شفاف ہے ، مجھے خوشی ہے کہ جو بریفنگ دی گئی جو قدامات کئے گئے ہیں اور جو الیکشن کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں وہ دنیا کے لئے مثال ہو گا ،بہت سارے مسائل ہم نے ڈسکس کر نے تھے فاٹا کے بارے میں بھی ہم نے بحث کی ، فارن میڈیا کے مبصر ین کے بارے میں بھی گفتگو کی، انہوں نے کہا کہ جو ہدایات یہاں سے آئیں ہیں ان پر دس بارہ دن میں عملدرآمد کریں گے جو ہم نے درخواست کی اس پر بھی الیکشن کمیشن غور فکر کر ے گا،امیدوارکی گرفتاری سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم کسی قسم کا بلیم گیم ، یا کسی کے خلاف بات نہ کرنا چاہتے ہیں نہ کسی کے حق میں کرنا چاہتے ہیں ہمار ا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم حقائق آپ کے سامنے لائیں ، جو بھی قانونی کاروائی ہے وہ ضرور ہو گی چاہے کسی کے خلاف بھی ہر ادارے نے اپنا کام کر نا ہے ہم اس میں مداخلت نہیں کر سکتے ، اس طرح عدالت میں کوئی کاروائی ہو رہی ہے ٹرائل چل رہی ہے ہمارا ایک حکومت کے طور پر کوئی اختیار نہیں ہے کہ اس میں کسی قسم کی مداخلت کریں ، کسی قسم کی اس پر بات کریں ،انہوں نے کہا کہ حکومت کا فرض ہے کہ جو پولنگ کے دن کے لئے ضروریات ہیں وہ پوری کرے ،پولنگ کے دن کے لئے جو فنڈز چاہئے ہوں گے وہ حکومت کا فرض ہے وہ پوری کرے گی ، انہوں کہا ہے کچھ پولنگ اسٹیشنز ہیں جو بہت حساس ہیں ، حساس پولنگ اسٹیشنز کی صورتحال کے مطابق جو سیکیورٹی اقدامات کرنے ہیں وہ کئے جائیں گے ، پولنگ اسٹیشنز پر سیکیورٹی کی جتنی بھی ضرورت ہوگی وہ دی جائے گی ، انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو اعتراض ہے کہ تحقیقاتی ایجنسی اس کے خلاف کام کر رہی ہے تو آئین اورقانون کہتا ہے کہ وہ عدالت سے رجوع کر سکتا ہے ، نہ ہم نے تحقیقاتی ایجنسی کو کچھ کہنا ہے کہ آپ اس طرح کریں نہ ہم عدالت کو کہہ سکتے ہیں کہ عدالت کس طرح اپنی کاروئی چلائے ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے کہ پولنگ والے دن پولنگ اسٹیشنز پر بجلی فراہم ہو انہوں نے کہا کہ یہ کوئی گارنٹی نہیں کر سکتا کہ پولنگ والے دن بجلی کی لوڈشیڈنگ نہیں ہو گی ، سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آپ بجلی پیدا بھی کرتے ہیں لیکن اس کو جگہ جگہ ٹرانسمیشن لائنز کے ذریعے اور ڈسٹری بیوشن کمپنیز کے ذریعے پہنچانا ایک بہت مشکل کام ہے ہمارا سسٹم ڈویلپ ہی نہیں کیا گیا اس کو اتنا بڑھایا ہی نہیں گیا کہ آپ انرجی ہر جگہ دے سکیں تو یہ کوشش ضرور ہوگی لیکن گارنٹی نہیں ہے ۔

مزید : صفحہ اول


loading...