نوشہرہ ورکاں،ٹکٹوں میں تبدیلی ،پی ٹی آئی نے اپنے پاؤں پر خود ہی کلہاڑی مار لی

نوشہرہ ورکاں،ٹکٹوں میں تبدیلی ،پی ٹی آئی نے اپنے پاؤں پر خود ہی کلہاڑی مار لی

  



نوشہرہ ورکاں (نمائندہ خصوصی) ٹکٹوں کی غلط تقسیم اور بار بار تبدیلی سے تحریک انصاف نے اپنے پاوں پر خود ہی کلہاڑی مار لی۔ تفصیلات کے مطابق علاقہ نوشہرہ ورکاں کی سیاست ذات برادری اور گروپ بندی کے گرد گھومتی ہے یہاں سے راجپوت برادری کے رانا بلال اعجاز سابق ایم این اے ان کے والد رانا اعجاز احمد اور چچا رانا احمد رضا ایم این اے جٹ برادری کے چوہدری خالد پرویز ورک سابق ایم پی اے ان کے بھائی چوہدری خالد جاوید ورک ایم پی اے جبکہ ان کے والد چوہدری غوث محمد ورک چیئرمین ضلع کونسل جبکہ گوجر برادری کے چوہدری عرفان بشیر گوجر سابق ایم پی اے ان کے بھائی چوہدری عبدالرحمن گوجر اور والد چوہدری بشیر احمد گوجر ایم پی اے منتخب ہوتے رہے ہیں۔ علاقہ کی ان بااثر شخصیات پر مشتمل اتحاد گروپ تحریک انصاف میں شامل تھا جو این اے 84 سے رانا بلال اعجاز پی پی 63 سے چوہدری خالد پرویز ورک اور پی پی 64 سے چوہدری عرفان بشیر گوجر امیدوار تھے، پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم کا فیصلہ اسی گروپ کی سفارشات پرہونے کا امکان تھا مگر مرکزی قیادت نے پہلے این اے 84 کی ٹکٹ ڈاکٹر عامر علی حسین کو دیا بعدازاں رانا بلال اعجاز کے احتجاج پر ٹکٹ ڈاکٹر عامر علی حسین سے واپس لے کر رانا بلال اعجاز کو دے دیا گیا جس پر ڈاکٹر عامر علی حسین نے آزاد الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا۔ پی پی 63 کی ٹکٹ مسلم لیگ (ن) سے چند دن پہلے تحریک انصاف میں شامل ہونے والے کامونکی کے رانا عمر نذیر کو دی گئی جبکہ اتحاد گروپ پی پی 63 کیلئے چوہدری خالد پرویز ورک کا سفارشی تھا لہٰذاپی پی 64 سے چوہدری عرفان بشیر گوجرسے ٹکٹ واپس لے کرچوہدری خالد پرویز ورک کو دے دیا جس سے نوشہرہ ورکاں کی مقتدر سیاسی قوتوں پر مشتمل اتحاد گروپ ٹوٹ گیا یوں تحریک انصاف نے غیر سنجیدہ اور غیر سیاسی فیصلوں سے اپنے پاوں پر خود ہی کلہاڑی مار لی جبکہ مسلم لیگی قیادت نے ٹکٹوں کی تقسیم مقامی مسلم لیگی راہنماء حاجی مدثر قیوم ناہرا کے مشورے سے کر رہی ہے جو تحریک انصاف کے غلط فیصلوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور مضبوط پینل کی تشکیل کیلئے کوشاں ہیں۔

نوشہرہ ورکاں/الیکشن ڈائری

مزید : صفحہ اول


loading...