سرگودھا،این اے 92، پی پی 80، سیالوی گروپ دو دھڑوں میں تقسیم

سرگودھا،این اے 92، پی پی 80، سیالوی گروپ دو دھڑوں میں تقسیم

  



دھیروال/ سرگودھا( نامہ نگار) سیالوی گروپ دو دھڑوں میں تقسیم، حلقہ این اے 92 اور پی پی 80 میں تحریک لبیک کے امیدوار صاحبزادہ اظہر عباس سیالوی اور زین عباس بلوچ ایڈووکیٹ نے رابطہ مہم تیز تر کر دی صاحبزادہ اظہر عباس سیالوی امیدوار این اے 92 کی حمایت میں صاحبزادگان آف سیال شریف صاحبزادہ غیاث الدین سیالوی ۔ صاحبزادہ ناصر عباس سیالوی ۔ حضرت خواجہ حمیدالدین سیالوی سجادہ نشین کے داماد صاحبزادہ مسعود احمد ۔ صاحبزادہ محمد جنید سیالوی ۔ صاحبزادہ اظہر عباس سیالوی کی حمایت میں سرگرم عمل ہو کر سامنے آگئے ہیں جس سے حلقہ این اے 92 میں تحریک انصاف کے امیدوار سیال شریف کے صاحبزادہ نعیم الدین سیالوی کو شدید سیاسی دھچکا لگ گیا ہے ان صاحبزادگان نے دعویٰ کیا ہے کہ انشاء اللہ صاحبزادہ نعیم الدین سیالوی کو ہم یونین کونسل سیال شریف میں بھی شکست دیں گے کیونکہ علاقہ بھر کے ووٹرز کی اکثریت ہمارے ساتھ ہے ادھر حلقہ پی پی 80 میں تحریک لبیک کے امیدوار زین عباس بلوچ ۔تحریک لبیک کے علاوہ اپنی بلوچ برادری کے ووٹ حاصل کرنے کے دعویٰ دار ہیں اس علاقہ میں تحریک لبیک کے مذہبی ووٹ اگر حلقہ این اے 92 اور پی پی 80 کے امیدوار کو حمایت کرتے ہیں تو تحریک انصا ف کے نعیم الدین سیالوی کو نقصان پہنچے گا۔ حلقہ پی پی 80 میں غلام علی اصغر لاہڑی تو مضبوط امیدوار ہیں لیکن تحریک لبیک کے مذہبی ووٹوں کا نقصان ہوگا جبکہ حلقہ این اے 92 میں امیدوار پی ٹی آئی کمزور ہے کیونکہ ان کے بھائی صاحبزادہ غلام نظام الدین سیالوی نے رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں جب وزیراعلیٰ پنجاب دریائے جہلم پل کے افتتاح کیلئے اسپورٹس اسٹیڈیم آئے تو انہوں نے میاں محمد شہباز شریف کے ساتھ اسٹیج پر قسم کھا کر کہا کہ مرتے دم تک میاں شہباز شریف اور ن لیگ کے ساتھ رہوں گا لیکن اب وہ تحریک انصاف کے امیدوار حلقہ 92 کیلئے اپنے بھائی نعیم الدین سیالوی کیلئے ووٹ مانگ رہے ہیں اور پاکستان مسلم لیگ ن کی مخالفت میں سرگرم عمل ہیں لیکن علاقائی عوام کی طرف سے ان کو خاص پذیرائی حاصل نہ ہورہی ہے صاحبزادہ نظام الدین سیالوی اور امیدوار حلقہ این اے 92 صاحبزادہ نعیم الدین سیالوی کا علاقائی عوام سے رابطہ نہ ہونے کے برابر ہے حلقہ این 92 اور پی پی 80 پاکستان مسلم لیگ ن کا گڑھ ہے جسکی وجہ سے سیالوی خاندان کے اس گروپ کو پاکستان مسلم لیگ ن کا ووٹ حاصل نہ ہوگا جبکہ ان کے مقابلہ میں تحریک لبیک کے صاحبزادہ اظہر عباس سیالوی ایک نمایاں امیدوار کے طور پر سامنے ہے اور پی ٹی آئی کے امیداروں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا تاہم کسی بھی امیدوار کی کامیابی یا ناکامی آئندہ آنے والا وقت ہی بتائے گا جب کہ دوسری جانب قریشی میکن اتحاد بھی آزاد امیدواروں کی حیثیت سے میدان میں اُتر چکا ہے۔ قریشی خاندان کے امیدوار قومی اسمبلی حلقہ92 حاجی میاں ظفر احمد قریشی اور میکن خاندان کی طرف سے امیدوار صوبائی اسمبلی حلقہ پی پی 81 سردار آصف حیات خان میکن میدان میں اتر چکے ہیں۔ ان دونوں امیدواروں کا الیکشن آزاد حیثیت سے لڑنے کے اعلان پر علاقہ میں ہلچل مچ چکی ہے اور کئی علاقوں و قصبوں سے لوگ ان دونوں امیدواروں کی حمایت کا اعلان کر رہے ہیں اور یہ دونوں امیدوار تمام پارٹیوں سے مقبولیت میں نمایاں نظر آرہے ہیں جب کہ حلقہ پی پی 80 تحصیل ساہیوال کو قریشی میکن اتحاد نے اوپن رکھنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ اس فیصلہ سے سردار غلام علی اصغر خان لاہڑی کی جیت تو یقینی نظر آرہی ہے جب کہ سیال شریف کا مخالف ووٹ اور بلوچ گروپ کے ووٹ آزاد گروپ کو ملنے کی توقع ہے۔

سرگودھا

مزید : صفحہ اول


loading...