حلقے کے لوگوں کو اپنے نمائندے کیخلاف ’’عدم اعتماد ‘‘ کا قانونی حق حاصل ہونا چاہیے

حلقے کے لوگوں کو اپنے نمائندے کیخلاف ’’عدم اعتماد ‘‘ کا قانونی حق حاصل ...

  



تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

بڑے بڑے نامور سیاستدان اب انتخابی مہم کے لئے اپنے حلقوں میں جارہے ہیں تو کہیں کہیں ان کے خلاف ووٹروں کی جانب سے غصے کا اظہار ہوتا ہے بعض حلقوں میں تو ایسی شکایات سامنے آتی ہیں جن کا تعلق مجموعی طورپر لوگوں کے مسائل سے ہوتا ہے پاکستان میں چونکہ بلدیاتی ادارے مضبوط نہیں ہوسکے، اور عملاً ان اداروں کے کام بھی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کرتے ہیں۔ غالباً جو ینجو دور سے یہ رسم مستحکم ہوچکی ہے کہ ارکان اسمبلی کو اپنے حلقوں میں ترقیاتی کام کروانے کیلئے باقاعدہ فنڈز الاٹ ہوتے ہیں۔ رکن اسمبلی بھی اپنے آ پ کو بلدیاتی کونسلر یا ناظم کی سطح پر لاکر بات کرتا ہے ۔ حالانکہ ارکان قومی اسمبلی کاکام بلدیاتی اداروں کی ذمے داریاں نبھانا نہیں ہے لیکن ترقیاتی کام چونکہ خود کار طریقے سے نہیں ہوتے اس لئے ووٹر یہی سمجھتے ہیں کہ الیکشن سے پہلے وہ اپنے نمائندے سے جوکام کراسکتے ہیں وہ کرالیں، بعد میں تو ان ارکان سے ملاقات بھی مشکل ہوجاتی ہے کیونکہ بڑی تعداد میں ارکان اسمبلی دیہی علاقوں سے منتخب ہوتے ہیں لیکن ان کا زیادہ تر وقت شہروں میں گذرتاہے۔ اپنے حلقوں کو وہ ظاہرہے زیادہ وقت بھی نہیں دے سکتے لیکن بہت سے ارکان ایسے ہیں جو اپنے حلقوں میں باقاعدہ رابطہ رکھتے ہیں۔ ووٹروں کے ساتھ رابطے کیلئے انہوں نے سٹاف بھی رکھاہوتا ہے جو حلقے کے مسائل ایم این اے یا ایم پی اے کے نوٹس میں لاتا ہے اور جہاں تک ممکن ہوتا ہے ووٹروں کو مطمئن رکھنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے لیکن ان دنوں میڈیا اپنی ضرورت کیلئے ایک ایسی تصویر پینٹ کررہا ہے جو زمینی حقائق کے مطابق نہیں ہے۔ فرض کریں کوئی سابق ایم این اے اپنے حلقے میں گیا اور اس کے کسی ووٹر نے یا کسی ایسے شخص نے جو ووٹر تو کسی دوسرے کا ہے لیکن موقع سے فائدہ اُٹھا کر اس نے اگر ایم این اے کو دوچار باتیں سنا دیں یا یہ گلہ کردیا کہ اب آپ ووٹ کیلئے تو آگئے ہیں پانچ سال کہاں غائب رہے۔ حالانکہ عمومی تجربہ یہ ہے کہ ارکان اسمبلی اگر بہت زیادہ نہیں تو مہینے دو مہینے بعد اپنے حلقوں کا چکر ضرور لگاتے ہیں۔ اگر براہ راست نہیں تو بالواسطہ ہی رابطہ رکھتے ہیں لیکن اس وقت ہویہ رہا ہے کہ حلقے کے تین لاکھ کے لگ بھگ ووٹروں میں سے دو چار دس لوگوں نے امیدوار کو سخت سنا دیں تو تاثر یہ دینے کی کوشش کی جاتی ہے جیسے پورا حلقہ ہی ان کے خلاف بغاوت پر اُترا ہوا ہے۔ ایسا قطعاً نہیں ہے کہ اگر سوپچاس لوگ بھی کہیں احتجاج کرتے ہیں اور ان کی ویڈیو بن جاتی ہے تو اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ ووٹر اس امیدوار کے خلاف یغاوت پر تل گئے۔ اسے آپ زیادہ سے زیادہ چند سو لوگوں کی جانب سے اپنے جذبات کے اظہار کی ایک کوشش کہہ سکتے ہیں۔ یہ بھی ہوسکتاہے کہ اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے بعد وہ مان بھی جائیں اور ووٹ پھر اس امیدوار کو دیں ۔دیہات کے کلچر میں روٹھ جانا اور مان جانا حیرت کی بات نہیں ہوتی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو جوارکان آٹھ آٹھ مرتبہ رکن منتخب ہوجاتے ہیں وہ کیسے طویل عرصے تک حلقے میں اپنی دھاک بٹھاسکتے ہیں۔

اور قارئین محترم یہ صرف ہمارے ملک میں نہیں ہے دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں بھی ہوتا ہے ارکان باربار پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوتے ہیں امریکہ میں تو ایسے لوگ بھی ہیں جو بیس بیس تیس تیس سال سے ایوان نمائندگان کے رکن منتخب ہوتے چلے جاتے ہیں۔سینیٹ کی بھی یہی پوزیشن ہے امریکہ میں بھی اشرافیہ کے خاندان ہیں۔ جن سے سینیٹروں ،گورنروں اور صدور کا تعلق ہوتاہے۔ بش خاندان کے باپ بیٹا امریکہ کے صدر رہ چکے ہیں جیب لش بھی ایک ریاست کے گورنر رہے ہیں گویا دو بیٹے اور ایک باپ صف اول کے سیاستدان رہے، عین ممکن ہے ان کی اولادوں میں سے بھی کوئی سینیٹر، گورنر یا صدر بن جائے۔ کینیڈی خاندان طویل عرصے تک امریکہ کی سیاست پر چھایا رہا۔ مقتول صدر جان ایف کینیڈی کے بھائی رابرٹ کینیڈی سینیٹر رہے وہ صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل تھے کہ بڑے بھائی کی طرح قتل ہوگئے۔ ایڈورڈکینیڈی بھی طویل عرصے تک امریکہ کے سیاسی منظر پر چھائے رہے کلنٹن صدر تھے تو ان کی اہلیہ سینیٹر اور وزیر خارجہ رہیں پھر انہوں نے ٹرمپ کے مقابلے میں صدارتی الیکشن بھی لڑا، اسی طرح برطانیہ میں سیاسی خاندان ہیں انگریزوں اور مقامی باشندوں کو توچھوڑیئے، چودھری محمد سرور تین مرتبہ پارلیمنٹ کے رکن رہے ۔ ان کے صاحبزادے انس بھی ایک بار منتخب ہوئے تھے۔ لیبر پارٹی نے انہیں شیڈومنسٹر بھی بنائے رکھا جس کا مطلب یہ ہے کہ جب کبھی لیبر پارٹی کی حکومت آئیگی وہ وزیر ہوں گے۔ چودھری محمد سرور پاکستان آچکے ہیں وہ اور ان کے چھوٹے بھائی رمضان تحریک انصاف کی سیاست کرتے ہیں رمضان چودھری نے ٹوبہ ٹیک سنگھ سے الیکشن لڑنے کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے جو غالباً مسترد ہوگئے اب وہ اپیلوں کے مراحل سے گذر رہے ہیں ۔ بھارت میں بھی سیاسی خاندانوں کی اجارہ داریاں ہیں نہرو خاندان تو معروف ہے۔ پنجاب میں باپ بیٹا وزیر اعلیٰ رہے بہارمیں بھی یہی پوزیشن ہے لالو پرشادیادیو اور ان کی اہلیہ دونوں وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں درجنوں ایسی مثالیں دی جاسکتی ہیں کہ باپ یا بیٹا یا بیٹی مسلسل سیاسی مناصب پر فائز رہے۔ یہ لوگ الیکشن بھی جیت جاتے اور ہار بھی جاتے ہیں ۔ کئی صوبوں میں تو روایت سی بن گئی ہے کہ ہر پانچ یا دس سال بعد پارٹی کی حکومت بدل جاتی ہے اور ایک ہی پارٹی دوسری یاتیسری مدت کے بعد دوبارہ برسراقتدار آجاتی ہے ۔کانگریس طویل عرصے تک بھارت کی حکمران رہی پھر اسے جنتا پارٹی اور اب بھارتیہ جنتا پارٹی نے چیلنج کیا۔ کچھ نہیں کہا جاسکتا، کہ 2019کے الیکشن میں کانگریس جیتے گی یا بی جے پی

حلقوں میں احتجاجی سیاست کو اگر سٹریم لائن کرنا ہے تو اس کا بہترین قانونی حل یہ ہے کہ ایک قانون بنادیا جائے کہ پانچ سالہ مدت کے دوران اگر حلقے کے ووٹروں کی مخصوص تعداد(10یا12قیصد) اپنے کسی رکن کے خلاف ’’عدم اعتماد‘‘ کردے تو اس حلقے میں ضمنی انتخاب کرایا جاسکتا ہے یہ جمہوری طریقہ بھی ہے۔اور رکن اسمبلی اگر اپنے حلقے کے عوام کی توقعات پر پورا نہیں اُترتا یا ان کے اجتماعی مطالبات سے صرف نظر کرتا ہے یا کسی بھی وجہ سے حلقے کے لوگ اپنے نمائندے کو تبدیل کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں تو اس طریقے سے الیکشن کمیشن میں ایک پٹیشن دائر کرکے ضمنی انتخاب کا انعقاد کراسکتے ہیں لیکن اس کیلئے قانون سازی کرنا ہوگی ۔ خالی خولی احتجاج یا چند لوگوں کا کسی رکن کو برا بھلا کہہ کر ویڈیو بنالیا تو کوئی حل نہیں ہے۔

مزید : صفحہ اول /تجزیہ /رائے