احتساب عدالتوں میں 1138کرپشن کے مقدمات التواء کا شکار

احتساب عدالتوں میں 1138کرپشن کے مقدمات التواء کا شکار

  



اسلام آباد(آن لائن)نیب کے پراسیکیوٹر برانچ میں نااہل لوگ کی موجودگی میں کرپشن کے1138 مقدموں مختلف عدالتوں میں التواء کاشکار ہوگئے ہیں،ان مقدموں میں سینکڑوں کرپٹ لوگ آزادانہ گھوم پھر رہے ہیں جبکہ ان مقدمات میں قومی خزانہ سے لوٹے گئے960 ارب روپے کی ریکوری بھی نہیں ہوسکی۔ذرائع سے ملنے والی دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ نیب مختلف عدالتوں میں 1138 مقدموں کافیصلہ کرانے میں ناکام ہوا ہے،اس ناکامی کی بڑی وجہ نیب کے پراسیکیوشن برانچ ہے جس میں تعینات لوگ نااہل اور کرپٹ افراد سے مک مکا ؤکئے ہوئے ہیں۔ان مقدموں میں 50فیصد مقدمات احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ باقی مقدموں ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں التواء کا شکار ہیں۔انمقدموں کا جلد فیصلہ نہ ہونے کی وجہ نیب کے نااہل پراسیکیوٹرز ہیں جو مقدموں کی سماعت میں تیاری کے بغیر پیش ہوتے ہیں اور اکثر مقدموں میں تاریخیں لے لی جاتی ہیں۔جسٹس جاوید اقبال نے چیئرمین نیب کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کا جلد فیصلہ کراکے قوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے لیکن 8ماہ کا عرصہ تعینات ہونے کو ہے لیکن ان آٹھ ماہ میں کوئی بڑا فیصلہ نہیں کراسکے ہیں کیونکہ نیب کے اندر کرپٹ افراد کا جم غفیر ہے جو کرپٹ لوگوں کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔1138 مقدموں میں قرار دئیے ملزم لوگ مختلف سرکاری عہدوں پربراجمان ہیں اور دوبارہ لوٹ مار مچا رہے ہیں اور پہلے سے زیادہ دیدہ دلیری سے قومی دولت لوٹ رہے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر


loading...