ایکسیئن سیکنڈ بلڈنگ ڈویژن ٹو لاہورمیں کروڑوں کی خورد برد کا انکشاف

ایکسیئن سیکنڈ بلڈنگ ڈویژن ٹو لاہورمیں کروڑوں کی خورد برد کا انکشاف

  



لاہور (ارشد محمود گھمن/سپیشل رپورٹر) ایکسیئن سیکنڈ بلڈنگ ڈویژن ٹو لاہور (سی اینڈ ڈبلیو) کا ائیر کنڈیشنر کی مد میں قومی خزانہ کے کروڑ و ں روپے خورد برد کر نے کا انکشاف ہوا ہے۔ چیف انجینئرہمایوں شہزاد،ایکسیئن عبدالخالق اور سب انجینئر مظفر کی مبینہ ملی بھگت سے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ ،سول سیکرٹریٹ ،پی اینڈ ڈی ،جی او آر زاورسی اینڈ ڈبلیو کے دفاترکے ایئرکنڈیشنر ز کی مینٹیننس کی آڑ میں قومی خزانے کے 7کر و ڑ روپے نکلوا کر آپس میں بندر بانٹ کرلی ۔یاد رہے روزنامہ پاکستان نے 21جون 2018ء کو بلڈنگ ڈویژن ایم اینڈ آر ٹو لاہور کی بابت 5کروڑ روپے ٹینڈر کے نام پر خوردبرد کرنے کے حوالے سے خبر شائع کی تھی جس پر ڈی جی اینٹی کرپشن مظفر علی رانجھا نے بروقت ایکشن لیتے ہوئے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو سے ر پورٹ طلب کی تو ایکسیئن طیب منیر نے ٹینڈر اوپن کرنے کی بجائے منسوخ کردیئے جس پر چیف انجینئر ہمایوں زاہد نے کروڑ وں روپے کرپشن کرنے کی نیت سے غیر قانونی طور پر 3کروڑ روپے 22جون کو بلڈنگ ڈویژن ایم اینڈ آر ٹو لاہور سے ایکسیئن سیکنڈ بلڈنگ ڈویژن ٹو لاہور ٹرانسفر کردیئے ،ٹرانسفر کرکے ایکسیئن عبدالخالق اور سب انجینئر مظفر کیساتھ مبینہ ملی بھگت کرتے ہوئے قومی خزانے سے مینیٹننس کے نام پر پڑی رقم نکلوا کر آپس میں بندر بانٹ کرنے کی نیت سے ٹی او آفس سے مبینہ ملی بھگت کرتے ہوئے چیک جمع کرواکر رقم خورد برد کرنے کا پلان بنا رکھا ہے ۔یاد رہے حکومت پنجاب کے احکامات کی روشنی میں بلڈنگ ڈو یژ ن ایم اینڈ آر ٹو لاہور (سی اینڈ ڈبلیو )کے فنڈز استعمال نہ کرنے پر ٹی او کو 22جون 2018ء کے بعدچیک وصول نہ کرنے کے واضح احکا ما ت جاری کئے جاچکے تھے جبکہ ٹی او آفس نے باقاعدہ طور پر 22جون 2018ء تک ادائیگی کیلئے چیک جمع کرانے کا نوٹس لگا رکھا تھا ۔ ذرا ئع کے مطابق یہ فنڈز استعمال نہ ہونے کی بنا ء پر قومی خزانے میں واپس چلے جانا تھے مگر ان افسروں نے خورد برد کرنے کی نیت سے 22جو ن کو ہی رقم ٹرانسفر کرکے کنٹریکٹر کو چیک جاری کرکے آپس میں بندر بانٹ کرنے کا تہیہ کررکھا ہے ۔ذرائع کے مطابق سب انجینئر مظفر سب ڈویژن ایئر کنڈیشنر میں عرصہ دراز سے اس سیٹ پر روب جمائے بیٹھا ہے ،جو 2013ء سے لے کر 2018ء تک ایئر کنڈیشنرکی مد میں اعلیٰ افسروں کی مبینہ ملی بھگت سے قومی خزانے سے کروڑوں روپے نکلوا کرخورد برد کرچکا ہے ۔اس حوالے سے چیف انجینئر ہمایوں زاہد کاکہنا ہے فنڈز کا استعمال کرنا میرے صوابدیدی اختیارات میں آتا ہے اور اپنے اختیارات کا استعمال کرکے فنڈٹرانسفر کئے ہیں ، کرپشن کے الزامات میں بھی کوئی صداقت نہیں ہے ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...