تجاوزات کیس:کیا بندوق والوں کیلئے الگ قانون ہے؟ ،اسلام آباد ہائیکورٹ

تجاوزات کیس:کیا بندوق والوں کیلئے الگ قانون ہے؟ ،اسلام آباد ہائیکورٹ

  



اسلام آباد( آن لائن ) اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہر میں تجاوزات ختم کرنے کے معاملے پر وزارت دفاع کی متفرق درخواست پر مزید سماعت آج(جمعہ کو) ہوگی ۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر مشتمل سنگل رکنی بنچ نے وزارت دفاع کی متفرق درخواست پر سماعت کی فاضل بینچ نے جب سماعت شروع کی تو سیکرٹری دفاع کی جانب سے بیرسٹر خرم ہاشمی عدالت میں پیش ہوئے درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے استدعا کی کہ بائیس جون2018ء کے فیصلے سے اس کے موکل اور عوام کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا ۔جس پر فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ کیا بندوق والوں کیلئے الگ قانون ہے سکیورٹی خدشات کے نام پر کوئی بھی کسی جگہ قبضہ کرسکتا ہے، اگر سکیورٹی خدشات ہیں تو اس بنا پر میریٹ ہوٹل کو زیادہ زمین پر قبضہ کرنا چاہیے ایف ایٹ کچہری میں ججوں اور وکیلوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ، جس پر درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی عدالت حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔ واضح رہے کہ عدالت عالیہ اسلام آباد نے بائیس جون کے فیصلے میں شہر سے تجاوزات ہٹانے اور تمام راستے کھولنے کا حکم دیا تھا اور وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کو ہدایات جاری کی تھیں کہ آبپارہ میں حساس ادارے کے دفتر کے باہر سے روڈ کو کھولا جائے جس پر وزارت دفاع کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ آئی ایس آئی ملک کی سب سے بڑی ایجنسی ہے اس لئے انہیں دوسروں کی نسبت زیادہ سکیورٹی خدشات کا سامنا ہے تفصیلی فیصلہ آنے سے قبل دائر درخواست کو رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ نے اعتراضات لگا کر واپس کردیا تھا لیکن بعد ازاں گزشتہ روز جب غیر قانونی اڈا کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو وزارت دفاع کی جانب سے ایک متفرق درخواست دائر کی گئی جس پر عدالت نے دلائل سننے کے بعد مزید سماعت انتیس جون تک کیلئے ملتوی کردی۔

تجاوزات کیس

مزید : صفحہ آخر


loading...