این اے 249، شہباز شریف کے حلقہ انتخابات پر پورے ملک کی نظریں مرکوز

این اے 249، شہباز شریف کے حلقہ انتخابات پر پورے ملک کی نظریں مرکوز

  



کراچی (رپورٹ /غلام مرتضیٰ) کراچی ضلع غربی کے این اے 249پر اس وقت ملک بھر کے عوام کی نظریں جمی ہوئی ہیں کیونکہ اس نشست سے مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں شہباز شریف پہلی مرتبہ کراچی سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں ۔نئی حلقہ بندیوں کے بعداین اے 249قرار دیا جانے والے میں سابقہ حلقوں این اے 240اور 241کے علاقے بلدیہ ٹاؤن ،سعید آباد ،اتحاد ٹاؤن،مہاجر کیمپ ،مسلم مجاہد کالونی ،نئی آبادی ،رشید آباد اورگلشن غازی شامل ہیں ۔حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 3لاکھ 31 ہزار 430 ہے، جس میں مرد ووٹرز 2لاکھ 154اور خواتین ووٹرز ایک لاکھ 29ہزار 889 ہیں۔اس حلقے پشتو ،پنجابی اور اردو بولنے والوں کی اکثریت ہے ۔2002سے قبل اس حلقے سے مسلم لیگ (ن) کے میاں اعجاز شفیع نے دومرتبہ قومی اسمبلی کی نشست پر کامیابی حاصل کی تھی تاہم 2002میں نئی حلقہ بندیوں کے بعد اس نشست پر ایم کیو ایم کے امیداروں نے کامیابی حاصل کی ہے ۔2002کے انتخابی نتائج کی بات کی جائے تو یہاں سے ایم کیو ایم سرکار الدین ایڈوکیٹ 30408ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے جبکہ ان کے مدمقابل ایم ایم اے کے مولانا شیریں محمد نے 22764ووٹ حاصل کیے تھے ۔2008کے انتخابات میں ایم کیو ایم کے خواجہ سہیل منصور 67798اور 2013میں 87803لے کر کامیاب ہوئے۔ماضی کے نتائج کا جائزہ لیا جائے تو بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ اس حلقے میں ایم کیو ایم کا بڑا ووٹ بینک موجود ہے تاہم ایم کیو ایم کے امیدوار کے حاصل کردہ ووٹوں پر نظر ڈالی جائے تو 2002سے 2013تک انتخابات میں اس کے ووٹوں میں ناقابل یقین حد تک اضافہ ہوا ہے ۔2002میں 30408ووٹ حاصل کرنے والی ایم کیو ایم کے ووٹ 2013کے انتخابات میں 87ہزار سے بھی تجاوز کرگئے ۔اب اس میں ایم کیو ایم کے اصل ووٹ کتنے تھے اس کا تعین کرنا انتہائی مشکل ہے کیونکہ 2008اور 2013کے انتخابات میں ٹھپہ مافیا نے کھل کر کراچی کے انتخابات کو ہائی جیک کیا تھا ۔کراچی آپریشن اور ایم کیو ایم کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد یہ حلقہ تمام جماعتوں کے لیے اوپن ہوگیا ہے ۔مسلم لیگ (ن) نے اپنے سربراہ کے لیے اس حلقے کا انتخاب کیا ہے اس کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات میں مذکورہ حلقے سے 2یونین کمیٹیوں پر مسلم لیگ (ن) کی کامیابی ہے ۔مسلم لیگ (ن) میاں شہباز شریف کی کامیابی کے لیے انتہائی متحرک ہے اور خود شہباز شریف نے بھی اپنے حالیہ دورہ کراچی میں دو مرتبہ اپنے حلقہ انتخاب کا دورہ کیا ۔مسلم لیگ کے دیگر سینئر رہنما ؤں نے بھی این اے 249میں ڈیرے ڈال لیے ہیں ۔مسلم لیگ (ن) شہباز شریف کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے دیگر جماعتوں سے بات کررہی ہے اور ممکن ہے کہ اس کی کسی جماعت کے ساتھ اس نشست پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوجائے ۔میاں شہباز شریف کے علاوہ اس حلقے سے تحریک انصاف کے معروف رہنما فیصل واوڈا ،پیپلزپارٹی کے قادر خان مندو خیل ،ایم ایم اے کے عطاء اللہ شاہ ،پی ایس پی کی ڈاکٹر فوزیہ بھی میدان میں موجود ہیں جبکہ ایم کیو ایم نے اس حلقے سے تاحال اپنے امیدوار کا اعلان نہیں کیا ہے ۔ماضی کے نتائج کو مدنظر رکھا جائے تو بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ نشست ایم کیو ایم کی روایتی نشستوں پر شامل رہی ہے جس میں اس نے 2002سے اب تک تواتر کے ساتھ کامیابی حاصل کی ہے لیکن اب ایم کیو ایم کے لیے حالات اتنے سازگار نہیں ہیں جتنے ماضی میں تھے ۔تنظیمی سطح پر موجود اختلافات اورکارکنوں کی بڑی تعداد کی مختلف جماعتوں میں شمولیت نے ایم کیو ایم کو شدید نقصان پہنچایا ہے ۔اگر اب گزشتہ انتخابات کی طرح ’’ٹھپہ مافیا‘‘ کو کھلی آزادی نہیں دی گئی تو ایم کیو ایم کے لیے اس نشست کو حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا ۔تحریک انصاف کے امیدوار فیصل واوڈا اس حلقے کے لیے اجنبی ہیں ۔تحریک انصاف کا ڈیفنس میں رہائش پذیر شخص کو بلدیہ ٹاؤن سے ٹکٹ کا فیصلہ سیاسی پنڈتوں کے لیے حیران کن ہے ۔تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے مقابلے کے لیے کسی ایسے امیدوار کا انتخاب ناگزیر تھا جس کے پاس بے پناہ وسائل موجود ہوں ۔اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف نے اس نشست پر فیصل واوڈا کو ٹکٹ ان کی دولت کو دیکھ کر دیا ہے ۔فیصل واوڈا انتخابات تک کے لیے بلدیہ ٹاؤن منتقل ہوگئے ہیں اور بھرپور انداز میں انتخابی مہم چلارہے ہیں لیکن کیا وہ اس حلقے کے عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوجائیں گے اس حوالے سے شکوک و شبہات موجود ہیں ۔ایم ایم اے عطاء اللہ شاہ انتہائی سادہ طبعیت کے مالک شخص ہیں ۔2002کے نتائج کو دیکھا جائے تو اس وقت ایم ایم اے کے امیدوار نے 22ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے تھے اور ایم کیو ایم کے امیدوار کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا ۔دینی جماعتوں کا اتحاد ایک مرتبہ بحال ہوا ہے جس کے مثبت نتائج مرتب ہوں گے اور عطاء اللہ شاہ اس سیٹ سے اپ سیٹ بھی کرسکتے ہیں ۔پی ایس پی کے ڈاکٹرفوزیہ سابق رکن قومی اسمبلی ہیں ۔پاک سرزمین پارٹی کا یہ پہلا انتخابی تجربہ ہے اس لیے اس کے حوالے سے کوئی پیش گوئی کرنا آسان نہیں ہے ۔ایم کیو ایم چھوڑ کر پی ایس پی میں شامل ہونے والے کارکنان نے اگر منظم انداز میں انتخابی مہم چلائی تو ڈاکٹرفوزیہ خاطر خواہ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہیں تاہم ان کی کامیابی کے امکانات بظاہر نظر نہیں آرہے ہیں ۔ا یم کیو ایم کا تاحال اس نشست پر امیدوار نامزد نہ کرنا اس کے اختلافات کو ظاہر کررہا ہے تاہم پھر اس حلقے میں اس کا مضبوط ووٹ بینک موجود ہے ۔اب تک کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو اس حلقے میں اصل مقابلہ شہباز شریف ،فیصل واوڈا ،عطاء اللہ شاہ اور ایم کیو ایم کے درمیان دیکھنے میں آئے گا ۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...