دھاندلی شروع ، ن لیگ نشانے پر : نواز شریف ، امیدواروں کی گرفتاریوں پر شہباز شریف کا الیکشن کمیشن سے رجوع ، کسی ایک پارٹی کو ٹارگٹ نہیں کیا جا رہا : چیئر مین نیب

دھاندلی شروع ، ن لیگ نشانے پر : نواز شریف ، امیدواروں کی گرفتاریوں پر شہباز ...

  



لاہور ،لندن ( جنرل رپورٹر ،مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) سابق وزیراعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دھاندلی کی نئی تاریخ رقم کی جارہی ہے، دھاندلی نہ روکی گئی تو نتائج ہولناک ہوں گے۔لندن کی ہارلے اسٹریٹ کلینک کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ایک جیسے مقدمات میں دوسروں کے فیصلے کچھ اور ہمارے کچھ اور آتے ہیں، پچھلے کئی مہینوں کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں، صرف میں اورمیرے ساتھی نشانہ بنے ہیں۔نوازشریف نے کہا کہ 25 جولائی کو جو ہوگا وہ نوشتہ دیوار ہے، پوری پارٹی کو ہدایت کی ہے کہ قمرالاسلام کی بیٹی اور بیٹے کے کندھے سے کندھا ملا کرچلیں۔انہوں نے کہا کہ کبھی دانیال عزیز کو تو کبھی شاہد خاقان عباسی کو نااہل قرار دیا جاتا ہے، شاہد خاقان عباسی اور دانیال عزیز کی نااہلی پرافسوس ہوا۔نواز شریف نے کہا کہ نیب، ریٹرننگ افسران اور دیگر نے یہ کیا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، بہت خطرناک کھیل کھیلا جارہا ہے، الیکشن سے پہلے دھاندلی کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے، قمرالاسلام کی گرفتاری انتخابات سے قبل دھاندلی کا ثبوت ہے۔مسلم لیگ ن کے قائد نے کہا کہ اس وقت ایسی ذہنی کیفیت ہے کہ سیاسی امور پر بات کرنے سے گریز کر رہا ہوں، اس وقت میری ساری توجہ اپنی بیوی کی صحت پر ہے لیکن میں اپنے آپ کو قومی فرض سے بھی دورنہیں رکھ سکتا۔نوازشریف نے کہا کہ یہ جو کھیل کھیلا جارہا ہے یہ پاکستان کے لیے ہمیشہ خطرناک ثابت ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ووٹ کو عزت دو گھر گھر کا نعرہ بن چکا ہے، یہ سب لوگ پاکستان پر رحم کریں،کھیل کھیلنا چھوڑ دیں، نیب نے کچھ دن قبل قمرالاسلام کوکلین چٹ دیا تھا، ن لیگ کے ٹکٹ دینے کے اگلے دن ہی گرفتار کیا گیا۔نوازشریف نے کہا کہ قمرالاسلام کی گرفتاری کس چیز کی نشاندہی کر رہی ہے،پارٹی کو کہوں گا کہ ووٹ کوعزت دو کا نعرہ گھر گھر پہنچائے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ اس کھیل کو کسی بھی صورت میں قبول کرنے کو تیار نہیں، انتخابات سے قبل دھاندلی کافی عرصے سے شروع ہے جس کو بند ہونا چاہیے، ٹارگٹ صرف مسلم لیگ ن اور اس کے رہنما ہیں۔ دوسری طرف سابق وزیرِاعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ لیگی امیدواروں کی گرفتاریوں نے شفاف انتخابات پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔شہباز شریف نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کی گرفتاریوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب کو تاثر ختم کرنا چاہیے کہ ن لیگ اس کے نشانے پر ہے، گرفتاریوں نے شفاف انتخابات پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے صورتحال کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ (ن) لیگ کیخلاف نیب کی انتقامی کارروائیاں انتخابی مہم کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔ آرٹیکل 218(3) کے تحت نیب کی کارروائیوں کے خلاف الیکشن کمیشن سے رجوع کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا فرض ہے کہ سیاسی جماعتوں کو آزادانہ انتخابی مہم کے یکساں مواقع دے۔شہباز شریف نے کہا کہ ہماری خدمت کی سیاست کو جرم بنانا درست نہیں ہے۔ مسلم لیگ (ن) اس ملک کی مقبول ترین جماعت ہے، ہمیں عوام کے ساتھ رشتے پر فخر ہے۔ ماضی میں بھی ایسے ہتھکنڈوں کو عوامی عدالت کے فیصلوں سے ناکام بنایا۔ عوام کی عدالت مسلم لیگ (ن) کے خلاف جاری تمام ہتھکنڈوں کو ناکام بنا دے گی۔ مجھے امید ہے کہ الیکشن کمیشن اس صورتحال کا فوری نوٹس لے گا۔انہوں نے کہا کہ قمرالاسلام کی انتخابی مہم کے دوران گرفتاری قابلِ مذمت ہے۔ لیگی امیدواروں کیخلاف چھاپے اور گرفتاریوں کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے

نواز /شہباز

لاہو (خبر نگار ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیٹوں حسن نواز اور حسین نواز کو انٹرپول کے ذریعے پاکستان لانے کی منظوری دے دی۔نیب لاہور آفس کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا کہ ہمارے کوئی سیاسی عزائم نہیں اور نہ ہی کسی ایک پارٹی کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ قانون پر عملدرآمد ضروری ہے، جو نہیں کرے گا، اس سے کرایا جائے گا۔ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ نیب کے نوٹس دعوت نامے نہیں بلکہ تحقیقات کے لیے قانون کے مطابق بھجوائے جا رہے ہیں۔چیئرمین نیب نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے نیب الیکشن سے پہلے بھی کام کر رہا تھا اور یہ کارروائی الیکشن کے بعد بھی جاری رہیں گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ امیدوار الیکشن مہم بھی چلائیں اور جب نیب بلائے تو پیش بھی ہوں جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ، نیب قانون کے مطابق اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا جسے روکا نہیں جا سکتا،یہ پوچھا جائے کہ جہاں 5لاکھ خرچ ہونا تھے وہاں5کروڑ کیوں ہوئے تو یہ کوئی گستاخی نہیں ہے یہ عوام کا حق ہے،ہم کسی کو زحمت نہیں دیتے نیب کے نوٹس کو سنجیدگی سے لیا جائے ۔ ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کی جانب سے انہیں مختلف کیسز پر جامع بریفنگ دی گئی۔دوران بریفنگ ایڈن ہاؤسنگ کرپشن کیس پر نیب لاہور کی جانب سے اب تک کے اٹھائے گئے اقدامات پر تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔ بعد ازاں ایڈن متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے چیئر مین نیب نے کہا کہ نیب کا ہر ایکشن قانون کے مطابق ہے ماورائے قانون کوئی اقدام نہیں اٹھایاگیا۔پہلے بھی استدعا کی تھی کہ نیب آپ کا اپنا ادارہ ہے نیب کا سیاست سے قطعی کوئی تعلق نہیں اور نیب قانون کے مطابق اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا جسے روکا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شعور وآگاہی کے سامنے کرپشن کی دیوار زیادہ دیر کھڑی نہیں رہ سکتی۔چیئرمین نیب نے اس تاثر کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر قطعی غلط ہے کہ پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں میں نیب کارروائی نہیں کر رہا۔ ان کا کہنا تھاکہ جہاں مبینہ کرپشن ہے وہاں کارروائی ہو رہی ہے قانونی تقاضوں میں وقت درکار ہوتا ہے آج وہ دور نہیں جب عوام کو رعایا کہا جاتا ہو آج حکمرانوں سے پوچھا جا سکتا ہے کہ ہمارے ٹیکس کے پیسے کا کیا استعمال کیا گیاہے؟ اگر کسی سے پوچھا ہے کہ جہاں 500روپے خرچ ہونے تھے وہاں 5000کیوں ہوئے اور جہاں 5لاکھ خرچ ہونا تھے وہاں5کروڑ کیوں ہوئے تو یہ کوئی گستاخی نہیں ہے یہ عوام کا حق ہے۔کسی نے کچھ نہ کیا ہو اور اسے نیب تنگ کرے ایسا کبھی نہیں ہوگا ہم کسی کو زحمت نہیں دیتے نیب کے نوٹس کو سنجیدگی سے لیا جائے ۔

چیر مین نیب

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...