خیبرپختونخوا جویشل اکیڈمی میں بلوچستان کے جوڈیشل افسروں کی تربیتی پروگرام

خیبرپختونخوا جویشل اکیڈمی میں بلوچستان کے جوڈیشل افسروں کی تربیتی پروگرام

  



پشاور(نیوزرپورٹر)خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے جوڈیشل افسرز (قاضی خواتین و حضرات ) کیلئے قبل از ملازمت چھ روزہ تربیتی پروگرام کا آغاز ہو گیا ہے ۔ایک ہفتے پر محیط پری سروس ٹریننگ پروگرام میں صوبہ بلوچستان کے نئے تعینات ہونے والے پندرہ قاضی شریک ہیں ۔واضح رہے کہ خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی اور بلوچستان جوڈیشل اکیڈمی کے مابین جوڈیشل افسرز کی ٹریننگ میں تعاون کے حوالے سے ایک سمجھوتے کی یاداشت(ایم او یو) پر دستخط ہو ئے تھے اور یہ چھ روزہ ٹریننگ پروگرام اسی ایم او یو کے تحت منعقد کیا گیاہے۔تربیتی پروگرام کے شرکاء کی خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی آمد کے موقع پر انہیں جوڈیشل اکیڈمی کے مختلف شعبوں کا دورہ کرایا اور انہیں اکیڈمی کے مختلف شعبوں سے متعلق بریفنگ بھی دی گئی۔ ٹریننگ کی افتتاحی تقریب میں سید انیس بادشاہ بخاری ، ڈین فیکلٹی /ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مہمان خصوصی تھے جبکہ اکیڈمی کی فیکلٹی بھی موجود تھی ۔افتتاحی تقریب سے اپنے خطاب میں ڈین فیکلٹی نے بلوچستان کے قاضی خواتین و حضرات ٹریننگ کے سلسلے میں اکیڈمی آمد پر ان کو خوش آمدید کہتے ہوئے تربیتی پروگرام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے لئے باعث فخرہے کہ اکیڈمی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے جوڈیشل افسرز(قاضی خواتین و حضرات) کی ایک ہفتے پر محیط تربیتی پروگرام منعقد کر رہی ہے ۔ ڈین فیکلٹی نے کہا کہ اکیڈمی نے قاضی خواتین و حضرات کی پیشہ وارانہ ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹریننگ کورس مرتب کیا اور انہیں امید ہے کہ اس سے ان کے علم میں اضافہ کے ساتھ ساتھ شرکاء کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو تقویت ملے گی ۔بعد میں تربیتی پروگرام کے پہلے دن ڈین فیکلٹی نے "اخلاقیات اور رویہ "کے موضوع پر لیکچر دیا جبکہ ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ پبلی کیشن نے "اسلامک لاء اورعلم اصول قوانین کے تناظر میں قاضی کی اہلیت " کے موضوع پر اور ڈاکٹر اسماعیل ولی نے " کمیونی کیشن انگلش لینگوج: سکیلز اینڈ ٹیکنیکس " کے موضوع پر لیکچرز دیئے۔یاد رہے کہ اکیڈمی میں صوبے کے مختلف اضلاع میں نئے تعینات ہونے والے سول ججز/ جوڈیشل مجسٹریٹس کیلئے تین ماہ پر محیط پری سروس ٹریننگ بھی جاری ہے جس میں نئے تعینات ہونے والے اکتالیس جوڈیشل افسرز شریک ہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...