مالک مکان نے میری بیوی کیساتھ بداخلاقی کی ،خاوند محمدنواز

مالک مکان نے میری بیوی کیساتھ بداخلاقی کی ،خاوند محمدنواز

  

ٹیکسلا ( نمائندہ پاکستان )واہ کینٹ پولیس اہلکار نے ساتھیوں سے مل کر غریب ڈرائیور کی زندگی اجیرن بنا دی ،مالک مکان کی کرایہ دار کی بیوی کے ساتھ زبردستی بداخلاقی ،پولیس اہلکا ر نے عدالتی احکامات بھی ہوا میں اڑا دیئے،عدالتی حکم امتناعی کے باوجود غریب ڈرائیور کا سامان اٹھا کر باہر پھینک دیا ،اے ایس آئی واجد نے ملزمان سے مل کر زبردستی گھر خالی کرالیا ،تفصیلات کے مطابق تھانہ واہ کینٹ چوکی نمبر3پر تعینات اے آئی ایس واجدنے عدالتی حکم امتناعی کے باوجود غریب سووزکی ڈرائیور جو کہ کرائے کے مکان میں رہاش پذیر تھا جس کی بیوی کو اس کی عدم موجودگی میں مالک مکان ضمیر شاہ نے بداخلاقی کا نشانہ بنایا اور مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس نے اسے گرفتار بھی کیا کے گھر پر زبردستی ہلہ بول دیا اور عدالتی احکامات کو ہوا میں اڑاتے ہوئے زبردستی غریب سوزوکی ڈرائیور کا سامان باہر پھینک دیاواہ کینٹ کے علاقہ نوری ہسپتال روڈ کے قریب کرائے کے مکان میں رہائش پذیر غریب سوزوکی ڈرائیور محمد نواز اور اس کی بیوی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان ،وزیر اعلی پنجا ب ،آئی جی پنجاب ،آر پی او ،سی پی او راوالپنڈی سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ مورخہ 31مئی کو میری عدم موجودگی میں مالک مکان ضمیر حسین شاہ نے میری بیوی کو زبردستی بداخلاقی کانشانہ بنایابیوی کی اطلاع پر میں فورا گھر پہنچا اور پولیس چوکی نمبر3میں اپنی رپورٹ درج کرائی لیکن چوکی پرموجود اے ایس آئی واجد نے مقدمہ درج کرنے کی بجائے مجھے صلح پر مجبور کیا بعدازاں جب تھانہ واہ کینٹ میں اس حوالے مقدمہ نمبر 187/18درج کیا گیا اور مالک مکان ضمیر حسین شاہ کو گرفتار کرکے ڈی این اے کروایا اور اسے جیل بھیج دیا گیاجس کے بعد اے ایس آئی واجد مالک مکان کے بیٹوں کے ساتھ مل کر ہمیں مکان خالی کرنے کا کہتا اور دھمکیاں دیتا کہ یا صلح کرو یا مکان خالی کرو جس پر میں نے 6جولائی کو میں نے سول جج ٹیکسلا کی عدالت سے حکم امتناعی حاصل کیا اور اسی رات ساڑھے تین بجے کے قریب واجد اے ایس آئی ،مالک مکان ضمیر شاہ کے تین بیٹے سراج بٹ ،وقاص شاہ اور تیرہ نامعلوم افراد کن میں چار عورتیں اور نو مرد شامل تھے اچانک میرے گھر پہنچے مجھے زبردستی گھر سے باہر نکالا اور مجھے اور بیوی کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور میرے گھر کا سارا سامان اٹھا کر باہر پھینک دیا محمد نواز نے کہا کہ ایک تو میری بیوی کی عزت تار تار کی گئی اور دوسرا پولیس اہلکار عزت لوٹنے والوں کے ساتھ مل کر اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مجھے نہ صرف ذہنی طور پرہراساں کرتا رہا بلکہ مجھے تشدد کا بھی نشانہ بنایا خدارا مجھے انصاف دلایا جائے محمد نواز کی بیوی مسماۃ ( ی ) نے روتے ہوئے فریاد کی کہ کیا میں کسی کی بیٹی نہیں ہوں میری عزت تار تار کی گئی اور انصاف مانگنے پر مجھے دربدر کردیا گیا خوف کے سبب بچوں کو گاؤں بجھوا دیا اپنے بچوں سے دور ہو گئی ہوں کیا انصاف مانگنا غلط ہے پولیس نے ہماری مدد کرنے کی بجائے ہمیں دھمکانا شروع کردیا خدارا مجھے انصاف دیا جائے

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -