عام انتخابات :حساس ترین شہر کراچی کیلئے تا حال سکیورٹی پلان مرتب نہیں ہو سکا

عام انتخابات :حساس ترین شہر کراچی کیلئے تا حال سکیورٹی پلان مرتب نہیں ہو سکا

  



کراچی (رپورٹ/ندیم آرائیں )ملک بھر میں عام انتخابات 25جولائی 2018کو منعقد ہوں گے ۔وفاقی و صوبائی نگراں حکومتیں اور الیکشن کمیشن آف پاکستان انتخابات کے انعقاد کی تیاریوں کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں ۔انتخابات میں سکیورٹی کے لیے پاک فوج سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے فرائض سرانجام دیں گے ۔کراچی ملک کا حساس ترین شہر ہے ۔گزشتہ تین دہائیوں سے بدامنی کا شکار رہنے والے شہر میں آپریشن کے نتیجے میں معمولات زندگی بحال ہوئے ہیں ۔ایم کیو ایم کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ شہر قائد کے باسی آزادانہ طور پر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے ۔تاہم ملک دشمن عناصر انتخابات کو سبوتاژ کرنے کے لیے شہر میں تخریب کاری کے واقعات کرواسکتے ہیں ۔کراچی میں پر امن انتخابات کے انعقاد کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فول پروف سکیورٹی انتظامات کرنا ہوں گے ۔اب جبکہ انتخابات کے انعقاد میں ایک ماہ سے بھی کم کا عرصہ رہ گیا ہے تاحال پولیس اور دیگر اداروں کی جانب سے الیکشن کی سکیورٹی کے حوالے سے کوئی مربوط پلان سامنے نہیں آیا ہے ۔کراچی شہر کی حساسیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے محکمہ داخلہ سندھ کو تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہاں کے ساتھ مل کر سکیورٹی پلان مرتب کرنا ہوگا اس کے لیے انتخابات میں حصہ لینے والی تمام جماعتوں کے نمائندوں کو اعتماد میں لیا جائے ۔ماضی میں کراچی میں ہونے والے انتخابات میں دیکھنے میں آیا ہے کہ یہاں پر مختلف مافیاز انتخابی عمل کو یرغمال بناتی رہی ہیں ۔اس مرتبہ فوج کی تعیناتی سے پولنگ اسٹیشنز اور اس کے اطراف میں اس طرح کے واقعات کا پیش آنا ناممکن نظرآرہا ہے لیکن فوج پورے شہر کا انتظام نہیں سنبھالے گی اس کے لیے پولیس اور رینجرز کو اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دینا ہوں گی ۔ووٹرز کے تحفظ کے لیے بھی جامع اقدامات کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ضروری نہیں ہے کہ صرف پولنگ اسٹیشنز کے اطراف میں ہی افراتفری پھیلانے کی کوشش کی جائے ۔انتخابی مہم کے آغاز کے ساتھ ہی مختلف جماعتوں کی جانب سے کارنرمیٹنگز اور جلسوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ۔سیاسی رہنماؤں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے صرف روایتی انداز میں پولیس کی تعیناتی سے کام نہیں چلے گا ۔محکمہ پولیس کو چاہیے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے جلسہ گاہوں کو سکیورٹی فراہم کرے ۔محکمہ پولیس میں ہونے والے تبادلوں پر بھی بعض سیاسی جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔شفاف انعقاد کے لیے ضروری ہے کہ غیر جانبدار پولیس افسران تعینات کیے جائیں ۔سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو تصادم سے روکنا پولیس کے ساتھ سیاسی رہنماؤں کی بھی ذمہ داری ہے ۔ماضی قریب میں ایک جلسے انعقاد کے سلسلے میں گلشن اقبال میں واقع حکیم سعید گراؤنڈ میں پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی کے کارکنوں کے درمیان مسلح تصادم ہوا تھا ۔انتخابات سے قبل اس طرح کے واقعات کی روک تھام انتہائی ضروری ہے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...