وہ پاکستانی جس نے ایمنسٹی سکیم میں 130 ارب روپے کی دولت ڈکلیئر کر دی ، یہ کون ہے ؟ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

وہ پاکستانی جس نے ایمنسٹی سکیم میں 130 ارب روپے کی دولت ڈکلیئر کر دی ، یہ کون ہے ...
وہ پاکستانی جس نے ایمنسٹی سکیم میں 130 ارب روپے کی دولت ڈکلیئر کر دی ، یہ کون ہے ؟ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

  



کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن )بڑی کاروباری شخصیت حبیب اللہ خان نے حال ہی  میں پاکستان میں جنوبی ایشیا کی اب تک کی سب سے بڑی متعارف کروائی جانے والی ایمنسٹی سکیم سے بھر پور فائدہ اٹھانے کیلئے ملک سے باہر 130 ارب روپے ظاہر کر دیئے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق حبیب اللہ میگا کونگلومیریٹ ، میگا اینڈ فوربز گروپ آف کمپنیز کے بانی اور چیئرمین ہیں ، اس کمپنی کا کاروباروسیع پیمانے پر ہر شعبے میں پھیلا ہواہے جن میں کنٹینر ٹرمینل ، ملک کا سب سے بڑا شپنگ کا کاروبار ، ڈیری ایشیا ءاور سیمنٹ کی کمپنی شامل ہے ۔ حبیب اللہ ملک کی انتہائی کامیاب رئیل سٹیٹ کمپنی ” ایل ای ای ڈی “ کے بھی مالک ہیں۔

حبیب اللہ نے 10 اپریل 2018 کو ایف بی آر کی جانب سے اعلان کر دہ سب سے بڑی ایمنسٹی سکیم کے پیش نظر اپنے 130 ارب روپے کے اثاثے ظاہر کیے ہیں۔ جس میں چیئرمین ایف بی آر طارق محمود پاشا نے بیرون ملک اثاثے رکھنے والی شخصیات کو انہیں قانونی بنانے کیلئے سکیم سے فائدہ اٹھانے کا مشورہ دیا تھا ۔تاہم سکیم سے فائدہ اٹھانے کیلئے اب صرف ایک ہی دن باقی رہ گیاہے ، یہ سکیم 30 جون 2018کو اختتام پذیر ہو نے جارہی ہے ۔حبیب اللہ فلاحی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں انہوں نے کچھ عرصہ قبل ہی کراچی کی یونیورسٹی ’ آئی بی اے ‘ میں پروفیسر ز کیلئے ایک عمارت عطیہ کی ہے ۔

آپ کو یہ جان کر بہت ہی حیرت ہو گی کہ حبیب اللہ خان کے والد اسد اللہ خان پاکستان کے وہ پہلے گیس انجینئر ہیں جنہوں نے سوئی گیس کے مقام کو تیار کرنے میں مدد کے علاوہ اپنا تعاون فراہم کیا تھا ۔حبیب اللہ خان نے کراچی گرائمر سکول داخلہ لیا لیکن جب ان کے والد نے 1972 میں پاکستان کو چھوڑا تو وہ پڑھنے کیلئے انگلینڈ کے بورڈنگ سکول میں چلے گئے ،سکول کے بعد انہوں نے ایمپریل کالج لندن میں تعلیم حاصل کی اوریہ 1979 میں کمپیوٹر انجینئرز بننے والے طلباءکے پہلے بیچ میں شامل تھے۔

اس کے بعد انہوں نے یونیورسٹی آف سینٹیاگو میں ڈیرے جمائے اور وہاں پر کولمبیا کی سیٹیلائٹ پر بطور کمپیوٹر انجینئر کام کیا لیکن اس کے بعد وہ برکیلے میں انڈسٹریل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے چلے گئے جس کے بعد وہ پاکستان واپس آ گئے ۔حبیب اللہ نے سب سے پہلے سافٹ فیئر بنانے سے کاروبار کاآغاز کیا لیکن پھر انہوں نے اپنے قدم ٹیکسٹائل میں جمائے جس کے بعد 1985 میں شپنگ کا کاروبار شروع کیا ، 2000 میں ان کی کمپنی نے قاسم انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل حاصل کر لیا ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...