فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر464

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر464
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر464

  



فلم کے آخری منظر میں اس گانے کے بول اوور لیپ ہوتے ہیں اور کیمرا بلندی سے آہستہ آہستہ حرکت کرتا ہوا نیچے فرش پر پڑی ہوئی ناصر اور شبنم کی لاشوں پر اور پھر شبنم کے کلوز اپ پرجاتا ہے تو اس وقت پتا چلتاہے کہ ’’گڑیا بھی شبنم کے ہاتھ میں تھی۔ دونوں خاموش تھیں اور نیرہ نور کی آواز گونج رہی تھی۔

بول ری ۔ گڑیا بول ذرا۔

لیجئے بات نیرہ نور سے چلی تھی اورفلم ’’آس‘‘ کی کہانی کا ذکر درمیان آگیا۔ اسکا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ابھی دو روز قبل ایک صاحب ہم سے ملنے کے لیے آئے۔ اب یہ امریکا میں مقیم ہیں۔ طالب علمی کے زمانے میں فلمیں دیکھتے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس زمانے میں فلمیں دیکھنا ان سب کا مرغوب ترین مشغلہ تھا پھر انہوں نے ہماری فلموں کا ذکر چھیڑ دیا۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر463 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

پوچھنے لگے’’آپ نے جتنی فلمیں خود بنائی ہیں ان میں آپ کے نزدیک سب سے اچھی فلم کون سی ہے؟‘‘

ہمارے جواب دینے سے پہلے ہی وہ بول پڑے’’مجھے سب سے زیادہ ’’آس‘‘ پسند آئی تھی جو میں نے کئی بار دیکھی۔ اس کے گانے اور مکالمے مجھے آج تک یاد ہیں۔ ان دنوں ہم سب دوست آپس میں یہ بحث کیا کرتے تھے کہ’’آس‘‘ میں ولن کون ہے؟‘‘

اس طرح بات سے بات نکلتی رہی۔ نیرہ نور اور ان کے حوالے سے فلم’’آس‘‘ کے نغمے کاذکر آیا توپرانی یادیں اور باتیں ایک بار پھر تازہ ہوگئیں۔

نیرہ نور سے ہماری باقاعدہ ملاقاتیں بہت کم ہوئی ہیں لیکن جب بھی آمنا سامنا ہوا یا بات چیت کا موقع ملا تویوں محسوس ہوا جسے ہم بہت قریبی دوست یا رشتے دارہیں۔ انہوں نے کبھی اجنبیت اور غیریت کا احساس نہیں ہونے دیا۔ نہ جانے کیوں نیرہ بھی ہمیں ہمیشہ اپنی اپنی سی ہی لگی ہیں۔

نیرہ نور کی شادی شاہ نواز زیدی صاحب سے ہوئی توہم اس میں شریک نہیں تھے۔ شاہ نواز کے عم زاد میرٹھ میں ہمارے کلاس فیلو تھے اور اتنامیل جول تھا کہ ہمیں ایک ہی خاندان کا گمان گزرتا تھا۔ اس حوالے سے شاہ نواز بھی ایک طرح ہمارے دوست اور عزیز ہی ہوگئے۔ نیرہ نور سے ان کی شادی کے بعدہم نے بعض محفلوں میں جب ان دونوں کو دیکھاتو دیکھتے ہی رہ گئے۔ شاہ نواز کی کوشش ہوتی کہ وہ اسٹیج کے بالکل نزدیک بلکہ سامنے بیٹھیں تاکہ نیرہ نغمہ سرا ہوں تو انہیں دیکھتے ہی رہیں اور سنتے ہی رہیں۔ اس محفل میں اگر کوئی شخص والہانہ اور مسحورکن انداز میں نیرہ کودیکھتا اور سنتا ہوا نظر آتا ہے تو وہ شاہ نواز زیدی ہوتے ہیں۔ کسی کو یقین نہیں آتا کہ یہ شخص جو اس قدر انہماک سے ٹکٹکی لگائے انتہائی انہماک، استغراق اور شوق کے عالم میں نیرہ نور کو دیکھ اور سن رہا ہے وہ ان کا شوہر ہے اور یہ دونوں ایک ہی گھرمیں ہوتے ہیں۔ شاہ نواز زیدی کو تخلیقی فنون ورثے میں ملے ہیں وہ مصور بھی ہیں۔ غالباً شاعری بھی کرتے ہیں لیکن بے قاعدہ، بہت اچھے منتظم اور اس سے بھی زیادہ شائستہ اور خلیق انسان ہیں۔

ان کاایک اور جوہر اس وقت کھلا جب انہوں نے ٹیلی ویژن کے چند ڈراموں میں اداکاری کی اور اپنی فطری اور بے ساختہ اداکاری سے دیکھنے والوں کو حیران کر دیا۔ مگرجس طرح گلوکاری نیرہ نور کا محض شوق اور جز وقتی مشغلہ ہے اسی طرح اداکاری شاہ نواز زیدی کا شوق اور جزوی مشغلہ ہے اگر وہ باقاعدہ اداکاری کریں تو بہت سے سکہ بند جگادری ادکاروں کو پیچھے چھوڑ دیں۔ مگر یہ دونوں من موجی اور درویش صفت لوگ ہیں۔ نہ پیسے کا لالچ ہے نہ شہرت کی تمنا اپنی پسند، مرضی اور شوق سے جو چاہتے ہیں کرتے ہیں۔

کچھ دن قبل یکایک ہمیں ٹیلی فون پرنیرہ نور سے بات کرنے کا موقع ملا۔ وہ کافی عرصے سے کراچی میں رہائش پذیر ہیں۔ دراصل کراچی میں ہماری خاتون رپورٹر ان کا فیملی فیچر بنانا چاہتی تھیں مگر ہزار کوشش کے باوجود یا تو نیرہ نور سے رابطہ نہیں ہوتا تھا یا پھر وہ مصروفیت کا عذر کرکے ’’آئندہ‘‘ کی مہلت لے لیا کرتی تھیں۔ ہم نے ان خاتون سے نیرہ کا ٹیلی فون نمبر حاصل کیا۔ ٹیلی فون ملایا توخودنیرہ نے ہی ریسور اٹھایا۔ ہم نے علیک سلیک کے بعد باتیں شروع کر دیں۔ وہ بھی اس طرح مخاطب تھیں جیسے کہ ہم دونوں روزانہ ملتے ہیں یا ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہیں۔

ہم نے ان سے شکوہ کیا کہ قدرت نے انہیں اتنی اچھی آواز اور گلوکاری کی فطری صلاحیت عطا کی ہے مگر وہ اسکو اہمیت نہیں دے رہیں جو کہ ’’کفران نعمت‘‘ کے زمرے میں آتا ہے۔

وہ ہنسیں اور بولیں’’ کیا کروں۔ فلموں میں اب گانوں کی گنجائش نہیں ہے۔ معقول فلمیں بھی نہیں بنتی ہیں‘‘

پھر پرانے دنوں کی یادیں تازہ کرنے لگیں۔ انہوں نے فلموں کے لیے جو مقبول گیت گائے تھے وہ ہم دونوں کو یاد تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اب وہ سنجیدگی سے گلوکاری کی طرف توجہ دے رہی ہیں اور کچھ البم تیار کرنے میں مصروف ہیں۔

ہم نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ لتا منگیشکرکی ’’گیتا نجلی‘‘ کے اندازمیں معروف گلوکاروں کے مقبول گیتوں اور غزلوں کواپنی آواز میں اور ان ہی پرانی دھنوں میں دوبارہ ریکارڈ کیوں نہیں کرتیں؟یہ خیال انہیں پسند آیا۔ ممکن ہے ہمارا دل رکھنے کے لیے انہوں نے پسندیدگی کا اظہارکیا ہو لیکن انہوں نے ہم سے وعدہ کیا کہ وہ اس مشورے کو ضرور عملی جامہ پہنائیں گی۔

نیرہ نور موسیقی اور گائیکی کے ایک ایسے زیر زمین پویشدہ ذخیرہ کی طرح ہیں جسے پوری طرح دریافت کرکے باہر نکالنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ جس طرح پاکستان زیر زمین معدنیات کی بے پناہ دولت سے مالا مال ہے لیکن بدقسمتی سے یہ بے بہا خزانے ابھی تک زمین ہی میں دفن ہیں۔ انہیں برآمد کرکے ان سے فائدہ اٹھانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ اسی طرح نیرہ نورکی آواز مو موسیقی کی دولت سے بھی فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ اس میں زیادہ قصور خود نیرہ نورکا بھی ہے۔ انہوں نے اپنے اس فن اور ہنر کو ’’گھر کی مرغی دال برابر‘‘ سمجھ کر نظر انداز کر رکھا ہے۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں )

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ


loading...