تبدیلی کے دو علمبرداروں کی سیاست میں فرق !!!

29 جون 2018 (17:17)

عائشہ نور

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے سیاسی نظریات اور طریقہ جدوجہد میں خاصا فرق رہا ہے۔ طاہرالقادری نے فرسودہ سیاسی نظام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس کا حصہ نہ بننے کو ترجیح دی۔ مگر عمران خان نے اسی نظام کا حصہ بننے کا راستہ اپنالیا۔ طاہرالقادری نے 2013 اور 2018 کے انتخابی عمل کا بائیکاٹ کیا تو عمران خان نے دونوں مرتبہ عام انتخابات میں پوری قوت سے حصہ لیا۔ طاہرالقادری نے احتساب , اصلاحات اور پھر انتخابات کو پاکستان کے سیاسی نظام میں موجود خامیوں کا حل قرار دیا۔ مگر عمران خان نے اصلاحات کے بغیر انتخابی عمل کا حصہ بننے کا فیصلہ کرلیا۔ پھر 2013 کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی بنیاد پر عمران خان کو اسلام آباد دھرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ جن چار حلقوں کے کھولنے کا مطالبہ پی ٹی آئی نے کیا , وہاں سابق چیف جسٹس ( موجود نگران وزیراعظم ) کو کوئی منظم دھاندلی نظر ہی نہیں آسکی اور یوں عمران خان کا احتجاج رائیگاں ثابت ہوا۔ اس کے برعکس طاہرالقادری نے اپنے دھرنے کے دوران قوم کی توجہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قوم کو آرٹیکل 62اور 63 کا سبق پڑھایا۔ وقت اور حالات نے ثابت کردیا کہ یہ آرٹیکل 62اور 63 قومی چور خاندان شریفیہ کو عدالت کے کٹہرے میں لا کھڑا کرنے کا سبب بنا اور وہ تاحال پیشیاں بھگتنے پر مجبور ہیں۔ یہ آرٹیکل 62 اور 63 ہی کا ثمر تھا کہ قومی چور نواز شریف کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے۔ پھر بھی نادان لوگ سوال کرتے ہیں کہ طاہرالقادری کے دھرنے کا کیا فائدہ ہوا؟؟؟ 

پاکستان کی آنے والی نسلیں بھی ڈاکٹر طاہرالقادری کے پڑھائے ہوئے صداقت اور امانت کے سبق کو اپنے لیے مشعلِ راہ پائیں گی اور وقت یہ ثابت کردے گا کہ آرٹیکل 62اور 63 کا انتخابی عمل میں نفاذ ہی بدعنوان سیاسی مافیا کو لگام ڈالنے کا واحد آئینی و قانونی راستہ ہے۔ اس کے برعکس عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی قومی اسمبلی میں ایسی قانون سازی کا حصہ بن گئی کہ جس سے کاغذاتِ نامزدگی فارم سے آرٹیکل 62اور 63 کو ختم کرکے بدعنوان سیاسی مافیا کیلیے برسراقتدار آنے کے تمام تر چور دروازے کھل گئے۔ پھر ہم نے دیکھا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق بیان حلفی میں وہ تمام تر شقیں جو آرٹیکل 62اور 63 کے مطابق اسکروٹنی کیلیے ضروری تھیں , دوبارہ شامل ہونے کے باوجود بھی مؤثر ثابت نہیں ہو سکیں۔ ایسے میں ڈاکٹر طاہرالقادری نے عام انتخابات امراء اور الیکٹیبلز کا مشغلہ قرار دے کر مسترد کردینے کا جرات مندانہ فیصلہ کیا۔ اس کے برعکس عمران خان نے انہی آزمائے ہوئے الیکٹیبلز کو برسراقتدار آنے کیلیے بطور سیڑھی استعمال کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

وقت اور حالات نے ثابت کردیا کہ وزارتِ عظمیٰ کے شوقین عمران خان اپنے تمام تر سیاسی اصول و نظریات بالائے طاق رکھ کر خوشی خوشی بدعنوان سیاسی نظام اور دھاندلی پر مبنی لاحاصل انتخابی مشق کا حصہ بن گئے ہیں۔ اس وقت سینکڑوں چور , قاتل , لٹیرے , اسمگلر , منی لانڈرنگ میں ملوث افراد , دہری شہریت کے حامل , اپنے اثاثے چھپانے کیلیے جھوٹ بولنے اور جعل سازی کرنے والے , قومی اداروں اور بینکوں کے نادہندگان اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث افراد دھڑادھڑ انتخابی عمل کیلیے کی جانے والی اسکروٹنی سے بچ کر نکل رہے ہیں اور ا نتخابی امیدواروں کی فہرست میں شامل ہو رہے ہیں۔ آج پاکستان تحریک انصاف نے پشتون تحفظ موومنٹ جیسی غدار ملت تنظیم کے علی وزیر کو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی پیشکش کر دی ہے۔ مراد سعید کے نادہندہ ہونے , فیصل واوڈا کی امریکی شہریت سامنے آنے , فواد چوہدری کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہونا اس کے علاوہ ہے۔ پس ثابت ہوا کہ تحریک انصاف کے وہ نظریاتی کارکن جو انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم پر مطمئن نہیں تھے , سمجھ لیں کہ تبدیلی آنے سے پہلے ہی جا چکی ہے۔ اور تبدیلی کے خواہشمندوں کے ساتھ دھوکے بازی ہورہی ہے۔ کیونکہ 2 جون 2014 کو عمران خان نے خود ہی تو کہا تھا کہ "اگر انتخابی نظام ٹھیک نہ ہوا تو اگلا الیکشن نہیں ہونے دیں گے" تو کیا یہ بدعہدی نہیں ہے عمران خان صاحب موجودہ دھاندلی زدہ انتخابی عمل کا حصہ بن کر عمران خان ووٹ کے ذریعے کون سی تبدیلی لانا چاہتے ہیں ؟کیا یہ تبدیلی موجودہ بدعنوان سیاسی مافیا کے ہاتھ مضبوط کرکے لائی جائے گی؟

۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں