ایسی روایت اور مثال چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں جو آنے والی منتخب حکومت کیلئے بھی قابل تقلید ہو:وزیر اعلیٰ پنجاب ڈاکٹر حسن عسکری

ایسی روایت اور مثال چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں جو آنے والی منتخب حکومت کیلئے بھی ...
ایسی روایت اور مثال چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں جو آنے والی منتخب حکومت کیلئے بھی قابل تقلید ہو:وزیر اعلیٰ پنجاب ڈاکٹر حسن عسکری

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)نگران وزیراعلیٰ پنجاب  ڈاکٹر حسن عسکری نے کہاہے کہایسی روایت اور مثال چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں جو آنے والی منتخب حکومت کیلئے بھی قابل تقلید ہو،حکومتی امور کی انجام دہی، گورننس کی بہتری اور عوام کے مسائل کے حل کیلئے سول سرونٹس بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، روزمرہ معاملات کو بہتر کرنا اور نئے چیلنجز سے نبردآزما ہونا سول سرونٹس کی ذمہ داری ہے، سول سرونٹس کو تمام امور کی ادائیگی کیلئے پیشہ ورانہ انداز میں کام کرنا ہوتا ہے اور فرائض کی ادائیگی کے دوران کوالٹی اور جسٹس کو مدنظر رکھنا ہوتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق دربار ہال سول سیکرٹریٹ میں انتظامی سیکرٹریوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نگران وزیراعلیٰ پنجاب ڈاکٹر حسن عسکری کا کہنا تھا کہ  آپ کو اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی پیشہ ورانہ انداز میں کرکے ایک مثال قائم کرنی ہے،ذمہ دارانہ اور آزادانہ فیصلے کرنا بھی آپ کے فرائض میں شامل ہے ، قواعد و ضوابط اور قوانین کا نفاذ کرنا بھی آپ کی ذمہ داری ہے اور پالیسی سازی میں بھی آپ کا مشاورتی کردار ہے۔ نگران وزیراعلیٰ نے عام انتخابات کے صاف، شفاف اور پرامن انعقاد پر زور دیتے ہوئے انتظامی سیکرٹریز سے کہا کہ عام انتخابات کے غیر جانبدارانہ انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے آپ کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے،غیر جانبدارانہ انتخابات کیلئے سول سرونٹس کو اپنے سرکاری فرائض انتہائی ایمانداری اور پروفیشنل انداز میں ادا کرنے ہیں اور اس قومی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے مکمل طور پر غیر جانبدارانہ اور پروفیشنل انداز میں کام کرنا ہے،آپ نے اپنے عمل سے ثابت کرنا ہے کہ آپ ریاست کے ملازم ہیں، کسی فرد کے نہیں اور مجھے توقع ہے کہ آپ یہ ذمہ داری پوری تندہی سے نبھائیں گے اور ثابت کریں گے کہ آپ کا کسی سیاسی جماعت کی طرف جھکاؤ نہیں۔ نگران وزیراعلیٰ نے کہا کہ مجھے آپ پر پورا اعتماد ہے اور آپ بھی مجھ پر پورا اعتماد رکھیں، قواعد و ضوابط سے ہٹ کر کوئی کام نہیں ہوگا،مجھے امید ہے نگران حکومت نے آپ پر جو اعتماد کیا ہے، آپ اس پر پورا اتریں گے۔ انہوں نے کہا کہ نگران حکومت مخصوص مدت کیلئے صاف، شفاف اور غیر جانبدارانہ الیکشن کرانے کیلئے آئی ہے اور ہم سب کو مل کر صاف شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانا ہے۔

ڈاکٹر حسن عسکری نے کہا کہ ہماری کارکردگی کا اصل فیصلہ عوام کی رائے کرے گی، نگران حکومت اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ایسی روایت اور مثال چھوڑ کر جانا چاہتی ہے جو آنے والی منتخب حکومت کیلئے بھی قابل تقلید ہو۔ انہوں نے کہا کہ غیرجانبدارانہ اور اور پروفیشنل انداز میں اس قومی ذمہ داری کو نبھانے سے آپ کی عزت میں اضافہ ہوگا، ہم نے مقررکردہ مدت میں شفاف اور غیر جانبدار طریقے سے الیکشن کی ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک موقع فراہم کیا ہے۔ نگران وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے کی پالیسی کا قائل ہوں اور میں نے وزراء کو مکمل بااختیار بنایا ہے،وزراء اور محکمے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں اور اگر تمام فیصلے وزیراعلیٰ نے کرنے ہیں تو وزراء کی پھر کوئی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اختیارات کے ساتھ ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے ، سب کو لیگل فریم ورک کے اندر قواعد و ضوابط کے تحت کام کرنا ہے اور تمام امور کو جلد اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق نمٹانا ہے کیونکہ شہریو ں کو ریلیف دینے کیلئے ان کی شکایات کا فوری ازالہ ضروری ہے لہٰذا متعلقہ محکموں کو عوام کی شکایات کے ازالے کیلئے متحرک انداز میں کام کرنا چاہیئے۔انہوں نے ہدایت کی کہ محکموں کے اندر زیرالتواء معاملات کو رولز کے تحت جلد سے جلد نمٹایا جائے کیونکہ شکایات کے ازالے سے ہی شہریوں کو ریلیف ملے گا۔

مزید : قومی