روس اور سعودی عرب نے مل کر وہ کام کردیا جس کی کسی کو توقع نہ تھی، ایران کے لئے سب سے پریشان کن خبر آگئی

روس اور سعودی عرب نے مل کر وہ کام کردیا جس کی کسی کو توقع نہ تھی، ایران کے لئے ...
روس اور سعودی عرب نے مل کر وہ کام کردیا جس کی کسی کو توقع نہ تھی، ایران کے لئے سب سے پریشان کن خبر آگئی

  



ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک)شام کے میدان جنگ میں تو روس اور ایران اتحادی ہو سکتے ہیں لیکن جب تیل کی جنگ کی بات ہو تو یہ دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ کون کس کا حلیف بنا ہوا ہے۔ اس میدان میں معاملہ بالکل مختلف ہے کیونکہ وہی روس جو شام کی جنگ میں ایران کا اتحادی ہے، تیل کی جنگ میں اس کے مخالفین سعودی عرب اور امریکا کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے ۔

امریکہ کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں میں مزید سختی آنے کے بعد ایران کی کوشش ہے کہ اوپیک ممالک تیل کی پیداوار میں اضافہ نہ کریں کیونکہ اس کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں آنے والی کمی سے ایران سب سے زیادہ متاثر ہوگا۔ اس کے برعکس سعودی عرب اور روس مل کر تیل کی پیداوار بڑھا رہے ہیں کیونکہ یہ ان کے مفاد میں ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق رواں سال مئی میں سعودی عرب اور روس نے اس ضمن میں یکجان ہوکر کام کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ تیل کی پیداوار میں قابل ذکر اضافہ کیا جاسکے۔ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ہونے والی ملاقاتیں ایک اور مثال ہیں کہ کس طرح سعودی عرب اور روس نے آپس میں اتحاد کرکے دیگر اوپیک ممالک کو ایک طرف کردیا ہے اور اپنے جیو پولیٹیکل مفادات کو مدنظر رکھ کر خود پالیسیاں بنارہے ہیں۔

روس کی جانب سے پہلے یہ تجویز سامنے آئی کہ اوپیک ممالک اور غیر اوپیک ممالک کی مجموعی پیداوار میں جولائی سے یومیہ 1.5 ملین بیرل کا اضافہ ہونا چاہیے۔ سعودی عرب کی تجویز تھی کہ یومیہ اضافہ ایک ملین بیرل ہونا چاہیے۔ امریکہ اور تیل کے خریدار دیگر بڑے ممالک جیسا کہ بھارت اور چین کے مطالبات کو بھی مدنظر رکھنے کی تجویز دی گئی۔ سعودی عرب اس بات سے متفق تھا کہ تیل کی پیداوار میں اضافہ ہونا چاہیے۔

ویانا میں منعقد ہونے والی میٹنگ میں ایک ملین بیرل یومیہ اضافے پر اتفاق کیا گیا، جس کا فائدہ ناصرف روس کو ہوا بلکہ امریکہ کو بھی ہورہا ہے۔ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے قبل تیل کی قیمتوں میں کمی آرہی ہے جبکہ روس میں بھی تیل کی قیمت کم ہونے سے صدر ولادی میر پیوٹن کی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ دلچسپ صورتحال ہے کہ روس ایک جانب شام کی جنگ میں سعودی عرب اور امریکہ کا مخالف ہے لیکن دوسری جانب تیل کی جنگ میں یہ ان دونوں ممالک کے ساتھ کھڑا ہے۔ روس اور سعودی عرب ایک دوسرے کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہے ہیں اور ایران کے مفادات کو ایک طرف رکھتے ہوئے دونوں اپنے مشترکہ مفادات کیلئے مل کر آگے بڑھ رہے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی