’سعودی عرب میں خواتین اب مردوں کو۔۔۔‘ خواتین کو ایسی اجازت دے دی گئی کہ سعودی عرب میں ملازمت کرنے والے پاکستانیوں کی پریشانی کی انتہا نہ رہے گی

’سعودی عرب میں خواتین اب مردوں کو۔۔۔‘ خواتین کو ایسی اجازت دے دی گئی کہ ...
’سعودی عرب میں خواتین اب مردوں کو۔۔۔‘ خواتین کو ایسی اجازت دے دی گئی کہ سعودی عرب میں ملازمت کرنے والے پاکستانیوں کی پریشانی کی انتہا نہ رہے گی

  



ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) تبدیلی آ نہیں رہی بلکہ تبدیلی آچکی ہے، یہ نعرہ اس وقت سعودی عرب کیلئے بہت ہی موزوں نظر آرہا ہے۔ وہ ملک جہاں کل تک خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت نہیں تھی وہاں آج ناصرف خواتین ٹیکسی چلاسکتی ہیں بلکہ خواتین کے ساتھ مرد کسٹمرز کو بھی خدمات فراہم کرسکتی ہیں۔

سعودی گزٹ کے مطابق مملکت کی پبلک ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے تصدیق کردی گئی ہے کہ سعودی خواتین، جن کے پاس ڈرائیونگ لائسنس اور ذاتی گاڑی موجود ہو، وہ لائسنس یافتہ ٹرانسپورٹیشن کمپنیوں میں رجسٹریشن کرواسکتی ہیں اور انہیں اجازت ہوگی کہ وہ مرد کسٹمرز کو بھی خدمات فراہم کر سکتی ہیں۔ اتھارٹی کی ویب سائٹ پر جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ گاڑی چلانے والے افرا دکی جنس کے لحاظ سے کوئی تفریق نہیں کی جائے گی، سب برابر ہوں گے۔ بیان میں اس بات کی بھی تردید کی گئی کہ خواتین ڈرائیورز پر سمارٹ ایپلیکیشنز کے ذریعے کام کرنے والی ٹرانسپورٹیشن کمپنیوں میں فرائض سرانجام دینے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

دریں اثناءکریم اور اوبر جیسی کمپنیوں کیلئے کام کرنے والی خواتین سعودی ڈرائیورز نے کسٹمرز کو پک کرنا شروع کردیا ہے۔ کریم کی پہلی خاتون سعودی ڈرائیور امل فرحت ہیں جو ہیلتھ کوالٹی اشورنس کے مضمون میں ڈگری رکھتی ہیں۔ وہ اپنی ذاتی کوالٹی اشورنس کنسلٹنسی کمپنی چلارہی ہیں لیکن فارغ وقت میں کریم کیلئے ڈرائیونگ بھی کرتی ہیں۔

مزید : عرب دنیا


loading...