امریکہ میں ایسا بل منظور ہو گیا کہ فاحشاؤں نے ٹوئٹر کا استعمال ہی بند کر دیا، اب کون سا سوشل میڈیا استعمال کر رہی ہیں؟ ایسا نام سامنے آ گیا کہ یقین کرنا مشکل ہو جائے

امریکہ میں ایسا بل منظور ہو گیا کہ فاحشاؤں نے ٹوئٹر کا استعمال ہی بند کر دیا، ...
امریکہ میں ایسا بل منظور ہو گیا کہ فاحشاؤں نے ٹوئٹر کا استعمال ہی بند کر دیا، اب کون سا سوشل میڈیا استعمال کر رہی ہیں؟ ایسا نام سامنے آ گیا کہ یقین کرنا مشکل ہو جائے

  

واشگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن)امریکا کی ایک لاکھ سے زائد سیکس ورکرز نے ٹویٹر کو خیرباد کہہ دیا ہے اور یورپی ملک آسٹریا میں قائم ٹویٹر جیسی ایک اور ویب سائٹ ’سوِٹر‘ پر اپنے اکاونٹ بنا لیے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق سیکس ورکرز نے ٹویٹر کو خیرباد کہنا شروع کر دیا اور ناقدین کا کہنا ہے کہ آن لائن جسم فروشی کے دھندے کو روکنے کیلئے بنائے گئے بل کے باعث ہی یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور مزید یہ کہ اس بل سے پرتشدد واقعات میں اضافہ ہونے کا خطرہ بھی ہے۔ کانگریس کے منظور شدہ قانون کو عام طور پر FOSTA/SESTA کہا گیا ہے۔یہ قانون بنیادی طور پر سیکس ورکروں کی آن لائن سرگرمیوں کے انسداد اور جسم فروشی کے دھندے کی حوصلہ شکنی سے متعلق ہے۔ تاہم اس قانون سے یہ بھی مراد لی گئی ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے سیکس ورکروں کے کاروبار کو ہر ممکن طریقے سے کنٹرول کیا جائے۔

جسم فروشی کے دھندے میں ملوث افراد ایسے ذرائع کی مدد سے کم عمر بچوں کو بھی سیکس ورکر بننے کی ترغیب دینے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ قانون بظاہر اس عمل کو شدت کے ساتھ قابو کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔امریکی سیکس ورکر اب یورپی ویب سائٹس کو اپنی آمدن اور کاروبار کے ذرائع بنانے میں مصروف ہو گئے ہیں۔جسم فروشی میں ملوث ایسے بالغ ورکرز، جو اپنی رضا و رغبت سے اس کام میں شامل ہیں، انہوں نے اس قانون کا قطعاً اثر نہیں لیا اور مذاق بھی اڑانے سے گریز نہیں کیا۔امریکی سیکس ورکر اب یورپی ویب سائٹس کو اپنی آمدن اور کاروبار کے ذرائع بنانے میں مصروف ہو گئے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -