سادہ اکثریت ملی تو قومی حکومت تشکیل دیں گے ، نندی پور کا مجرم بابر اعوان، زعیم قادری سے ملاقات کروں گا:شہباز شریف

سادہ اکثریت ملی تو قومی حکومت تشکیل دیں گے ، نندی پور کا مجرم بابر اعوان، ...
سادہ اکثریت ملی تو قومی حکومت تشکیل دیں گے ، نندی پور کا مجرم بابر اعوان، زعیم قادری سے ملاقات کروں گا:شہباز شریف

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ نواز شریف کو چودھری نثار کو ٹکٹ دینے کیلئے منا لیا تھا ، سادہ اکثریت مل گئی تو قومی حکومت تشکیل دیں گے ،نیب مخصوص کیسز کا چناﺅ نہ کرے، زعیم قادری کو منانے کیلئے ان سے ملاقات کروں گا ، ریحام خان کی کتاب کے حوالے سے عمران خان کے الزامات مسترد کرتا ہوں۔نند ی پور پاور پلانٹ کا مجرم بابر اعوان ہے ۔کرانچی اور پان کا ذکر محبت سے کیا ، کے پی میں اس دفعہ صورتحال مختلف ، تحریک انصاف نے عوام کو مایوس کیا ہے ۔

دنیا نیوز کے پروگرام ”دنیا کامران خان کے ساتھ میں“ گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ چھوٹے موٹے مسائل تمام پارٹیوں میں ہوتے ہیں، جمہوریت میں ایسے ہوتا رہتا ہے ۔ پنجاب اس وقت سب سے زیادہ نیب کے نشانے پر ہے اور یہ بات میں ایمانداری سے کہہ رہا ہوں۔جہاں کھربوں کی کرپشن ہوئی ہے وہاں پر تو کسی کو بلایا نہیں جاتا اور پنجاب میں بغیر تفتیش کئے گرفتاریاں ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات سے عوام کا اعتماد اٹھ جائے گا ۔ نندی پور کا اصل مجرم بابر اعوان ہے ۔ قوم کا 30ارب روپیہ بغیر بڈنگ لگایا گیا اس سے بڑا کوئی جرم ہو سکتا ہے ۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ بابر اعوان کو رشوت نہ دینے کی وجہ سے اربوں کی مشینر ی گل سڑ گئی ۔ چودھری نثار کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہماری زندگی کے ایک بڑے حصے کا چودھری نثار کے ساتھ رشتہ ہے اور بدقسمتی سے دوریاں پیدا ہوئیں ۔ انہوں نے پارلیمانی بورڈ میں ٹکٹ کے لئے اپلائی نہیں کیاتھا ۔میں نے نوازشریف کے حالیہ دورہ لندن سے ایک دن پہلے نواز شریف کو ٹکٹ جاری کرنے کے لئے منا لیا تھا لیکن بعد میں بیانات کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا ۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی میں کوشش کررہاہوں کے مزید دوریاں پیدا نہ ہوں۔

قومی حکومت کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ میں ہنگ پارلیمنٹ کے حوالے سے بات نہیں کررہا بلکہ میری ذاتی رائے ہے کہ اگر ہم کو سادہ اکثریت مل گئی تو ایشوز چونکہ بہت زیادہ ہیں ۔یہ مسائل پاکستان کی غریب قوم کی پونچی کو کھا رہے ہیں یہ بڑے مسائل ہیں ان کو کوئی ایک پارٹی یا ادارہ حل نہیں کر سکتا ۔ اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اگر ہم کو سادہ اکثریت ملی تو سب مل کر اتفاق رائے سے ایک قومی حکومت بنائیں اور ملکر آگے چلیں تاکہ ملک کے مسائل حل کئے جا سکیں۔ہم ملکی معاملات میں مشاورت چاہتے ہیں تاکہ کوئی لاک ڈاﺅن اور دھرنے نہ دے سکے ۔شہباز شریف نے کہا کہ قرآن مجید میں جنات کا ذکر آتا ہے خلائی مخلوق کا کوئی نہیں ہے ۔ ہمیں جرنیلوں کے ساتھ بیٹھ کر بات کرلینی چاہئے کہ ہم نے ہندوستان اور افغانستان کے ساتھ کیسے ڈیل کرنا ہے ۔ اسلئے ہم کو تمام معاملات پر ایک ہوجانا چاہئے جس طرح امریکہ میں ہوتا ہے کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں لیکن وہ پالیسی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے ۔انہوں نے کہا نواز شریف بیگم کلثوم نواز کی تیماری داری میں مصروف ہیں اور انہوں نے لندن میں کوئی سیاسی بات نہیں کی ۔ ہمیں اپنے ذاتی مفادات سے بالا تر ہوکر ملک کے لئے سوچنا چاہئے ۔ آج ہم پیچھے رہ گئے ہیں ۔ ہم سب کوذاتی مفاد سے بالا تر ہوکر ملکی مفادات کے بارے میں سوچنا ہوگا بصورت دیکر آنیوالی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔انہوں نے کہا کہ اگر نیب یہ فیصلہ کرے گی کہ ووٹ کہاں پڑنا ہے تو پھر الیکشن فیئر نہیں ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ میں نیب سے کہتا ہوں کہ وہ نہ ہماری گرفتاریاں کریں اور نہ مخالفین کی بلکہ الیکشن کے عمل کو چلنے دیں ۔کسی کے کاغذات نامزدگی مستر د نہ کئے جائیں۔ اگر شفاف الیکشن ہوگئے تو سب ملک کر بیٹھیں گے ملکی مفاد کیلئے آگے چلیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ صاف پانی سیکنڈل کی اینٹی کرپشن سے انکوائری دوسال پہلے میں نے کروائی تھی ۔ میں نے 70ارب کے فراڈ سے ملک کو بچایا ۔ اگر صاف پانی کے پراجیکٹس آجاتے تو وہ رسی میرے گلے میں پڑتی ۔ میں نے کئی منصوبوں میں قوم کے اربوں روپے بچائے اور یہ 682ارب روپے کی بچت کروا کے قوم خزانے میں ڈالی ۔ یہ اگر جرم ہے تو میں یہ جرم ہزار بارکروں گا ۔ میں نے دس سال اس صوبے میں امین بن کر محنت کی ہے ۔ اس لئے نیب کو چاہئے تھا کہ قوم کوبتاتا کہ یہ بچت ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر دانستہ غلطی ہوئی تو پکڑیں اور اگر نا دانستہ غلطی ہوئی ہے تو درگرز سے کام لیں۔ چیئر مین نیب کے تقرر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ میں ان کی تقرری کے حوالے سے کچھ نہیں کہتا ۔ کرپشن ہے تو ضرور تحقیقات کریں ، مخصوص کیسز کا چناﺅ نہ کیا جائے ۔زعیم قادری کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ زعیم قادری میرے دیرینہ ساتھی ہیں اور ان کے ساتھ میرا بہت اچھا تعلق رہا ہے۔ وہ چاہے کچھ کہیں میں ان کے بارے میں اچھے انداز میں بات کروں گا ۔ الیکشن گزرنے کے بعد میں ان سے ملاقات کروں گا اور ان کو سمجھاﺅں گا اور اگر موقع ملا تو الیکشن سے قبل بھی ان سے ملاقات کروں گا ۔شہبازشریف کا کہنا تھا کہ اداروں کی جانب سے مسلم لیگ ن کے ساتھ سخت رویہ رکھا جا رہا ہے یہ کئی حوالے سے چیلنجنگ بھی ہے اور دلچسپ بھی ہے ۔ پاکستان کے اندر صورتحال چلنج کے مانند ہے ۔ اپنے پانچ سالہ دورحکومت میں ہم نے بڑے ایشوز کو بڑ ی کامیابی سے حل کیا ۔ لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا ۔ پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں مثال نہیں ملتی کے ساڑھے دس ہزار میگا واٹ نئی بجلی پیدا کی گئی اور160ارب کی بچت بھی کی گئی ۔ان کا کہنا تھا کہ جو بجلی پیدا ہو رہی ہے اس کی ڈیمانڈ ہے ۔ اس سال پچھلے سال کے مقابلے ڈیمز میں پانی کم ہے جس کی وجہ سے تھوڑا بہت گیپ ہے ۔ گردشی قرضوں کی وجہ بجلی کا چوری ہونا اور تقسیم کار کے نظام کی خرابی ہے ۔ہم بجلی تو پیدا کرچکے ہیں لیکن نظام کو بہتر کرنا ابھی باقی ہے اس کو بہتر کرنے سے گردشی قرضوں کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے ۔

ملکی کی معیشت اور اقتصا دی بدحالی کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلوں نے اس حوالے سے ایک اہم کردار کیا ہے جس کی وجہ سے بے یقینی کی فضاءبنی ۔ اب ا س صورتحال سے نمٹنے کیلئے اقدامات کرنا ہونگے جس طرح ہم نے پانچ سالوں میں بڑے مسائل کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو بڑے بڑے فراڈ ہوئے ہیں یہ کئی سو ارب روپے کے فراڈ ہیں اگر ہم ان کا قانونی طریقے سے بھرپور احتساب کرتے تو صورتحال بہت حد تک بہتر ہوتی لیکن دہشت گردی اور توانائی کے بحران کا بہت بڑا مسئلہ تھا جس کو سیاسی قیادت اور فوج نے ملکر حل کیا اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ۔ اگر اب اللہ تعالیٰ نے موقع دیا تو سب مسائل کو حل کریں گے ۔ریحام خان اور ان کی کتاب کے حوالے سے شہباز شریف نے کہا کہ میری ریحام خان سے ایک مرتبہ ملاقات ہوئی جو 2014میں ہوئی تھی جب انہوں نے میرا انٹرویوکیاتھا ۔ عمران خان نے مجھ پر تین الزام لگائے اور میں نے ان تینوں الزامات پر ان کونوٹس دیئے اور عدالت میں لے گیا لیکن عمران خان او ران کا وکیل عدالت میں نہیں آئے اس لئے میں ان کی جانب سے ریحام خان کی کتاب کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتا ہو ں۔ انہوں نے کہا کہ جو جماعتیں ہمارے ساتھ ماضی میں اتحادی رہی ہیں ان کے ساتھ رابطے میں ہیں اور الیکشن کے بعد ان کے ساتھ مل کر پھر بیٹھیں گے ۔ کرانچی اور پان کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ میں نے یہ بات محبت سے کی تھی جس طرح اندرون شہر لاہور کو لہور کہہ دیتے ہیں ۔ میں نے یہ بات بڑی محبت سے کی تھی ۔ہم کراچی کو ساﺅتھ ایشا ءکابہترین شہر بنائیں گے اور کراچی کے ترقیاتی کاموں کے لئے ایک مخصوص بجٹ رکھیں گے ۔کے پی میں الیکشن کے حوالے انہوں نے کہا کہ کے پی میں تحریک انصاف میں بے پناہ مایوس کیا ہے اور کوئی ترقیاتی کام نہیں کیا ۔ اس لئے اس بار وہاں صورتحال مختلف ہے ۔ پشاور کا جنگلا بس 70ارب تک پہنچ گیا ہے اور بس دور دور تک نظر نہیں آرہی ۔جنوبی پنجاب میں بننے والے گروپ نے جنوبی پنجاب کا نعرہ لگایا تھا لیکن ہماری حکومت نے جنوبی پنجاب کو ہر فنڈ میں زیادہ حصہ دیا ہے ۔ میرا قوم سے وعدہ ہے کہ پاکستان کو اقوام عالم میں اسکا کھویا ہوا مقام دلائیں گے ۔

مزید : Breaking News /اہم خبریں /قومی


loading...