”اب یہ چورن نہیں بکے گا“

”اب یہ چورن نہیں بکے گا“
”اب یہ چورن نہیں بکے گا“

  

اسلام آباد میں اپوزیشن کی اے پی سی کے دوران جب عزت مآب مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے توہین صحابہ ؓ کی ہے ۔ اس لئے یہ ایشو بھی اے پی سی کے مشترکہ اعلامیہ میں شامل کیا جائے تو اس پر پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مذہب کارڈ نہیں استعمال کریں گے جبکہ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان کائرہ نے بھی اس عمل کی مخالف کی اور کہا کہ یہ تو تحریک لبیک والی بات ہوجائے گی ۔

قطع نظر اس بات کے کہ وزیر اعظم عمران خان کے منہ سے یہ بات سہواً نکلی یا ان کی لاعلمی کا نتیجہ تھی لیکن ایک ایسے موقع پر مولانا فضل الرحمان کی جانب سے اس کوایشو بناکر اے پی سی کے اعلامیہ میں شامل کرانے کی کوشش قابل مذمت نہیں تو کم از کم قابل تحسین بھی نہیں ہے ۔ ہمارے مذہبی سیاستدانوں کا المیہ ہے کہ وہ دنیا کی دوڑ میں اس قدر آگے جا چکے ہیں کہ اپنے مقصد کی بار آوری کے لئے کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے ۔ چاہے اس کے نتیجے میں معاشرے میں  کیسا ہی بگاڑ پیداہونے کے خطرات کیوں نہ پیدا ہو جائیں ، ان کو صرف اپنے مفادات عزیز ہیں ۔

اقتدار کی دوڑ اور ہوس میں یہ حضرات دنیا وی مفاد پرست سیاستدانوں سے چار ہاتھ نہیں بلکہ کئی ہاتھ آگے دکھائی دیتے ہیں ۔ معاشرے میں مذہبی طبقے پر جو انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں اور علماءکا جو مرتبہ باقی رہ گیا ہے  اس کی بڑی وجہ مذہبی سیاسی طبقے کی جانب سے اپنائی جانیوالی مفاداتی پالیسیاں ہیں جن کی وجہ سے عوام کو دیندار اور دنیاوی سیاستدانوں میں کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا اور اب وہ ان کو ایک ہی عینک سے دیکھنے کی عادی ہوگئے ہیں۔  یہ بات معاشرتی طور پر بڑے نقصان کا باعث ہے کہ ملک میں دینی طبقے کو وہ قدر منزلت حاصل نہیں رہی جو ایک اسلامی معاشرے کاخاصا ہوا کرتی ہے ۔

قیام پاکستان سے لے کر اب تک اسلام اور مذہب کے نا م پر مفادات کے حصول کیلئے عوام کو بارہا بیوف قوف بنایا جاچکا ہے لیکن ہوا یہ کہ ہر الیکشن کے بعد یہ مذہبی سیاستدان اقتدار کاحصہ بن کر  ان لوگوں کی گود میں جا کر بیٹھ جاتے ہیں جن کی مخالفت کرکے معصوم عوام سے اسلام کے نام پر ووٹ حاصل کئے جاتے ہیں لیکن مولانا صاحب خاطر جمع رکھیں ، اب کی باریہ چورن بکنے والا نہیں ہے ۔

مزید :

بلاگ -