بھارت کا کرتارپور راہداری کھولنے سے انکار

بھارت کا کرتارپور راہداری کھولنے سے انکار

  

بھارت نے کرتار پور راہداری دوبارہ کھولنے کی پاکستانی پیش کش ڈھٹائی کے ساتھ مسترد کر دی ہے، دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی پر پاکستان نے29 جون سے راہداری کھولنے کی تجویز پیش کی تھی،بھارت کا موقف ہے کہ کورونا کے باعث حفاظتی اقدامات کے تحت سرحدی آمدورفت معطل ہے، کوئی بھی فیصلہ محکمہ صحت اور متعلقہ اداروں کی مشاورت سے کیا جائے گا، دو دن کے نوٹس پر راہداری کھولنا ممکن نہیں،کیونکہ راہداری کے ذریعے پاکستان جانے والوں کی فہرست سات دن پہلے پاکستان کو دینا ضروری ہوتا ہے۔پاکستان نے گوردوارہ کرتارپور صاحب دوبارہ کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ٹویٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ دُنیا بھر میں جیسے عبادت گاہیں کھل رہی ہیں پاکستان بھی راہداری کھولنے کی تیاری کر رہا ہے۔یہ کوریڈور 16مارچ کو کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان اِس وقت باہمی تعلقات بہت ہی نچلی سطح پر چلے گئے ہیں، بھارت نے نئی دہلی میں پاکستانی سفارتی عملے کے ارکان کے ساتھ سرِ راہ بدسلوکی کی، اُنہیں ڈرایا دھمکایا اور کافی دیر تک روکے رکھنے کے بعد جانے کی اجازت دی، اس کے بعد دو سفارت کار نکال دیئے،اس غیر سفارتی اقدام کے باعث پہلے سے جاری کشیدگی میں اضافہ ہو گیا،جو کشمیر کی کنٹرول لائن پر جنگ بندی کے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کی وجہ سے پہلے ہی بہت زیادہ ہو چکی ہے، اِس دوران اسلام آباد میں بھارتی سفارتی عملے کے ارکان ٹریفک رولز کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے اور ایک حادثہ کر دیا تو اُنہیں اسلام آباد چھوڑ دینے کا حکم دیا گیا۔اس وقت کے بعد سے دونوں ممالک میں سفارتی عملے کی تعداد کافی حد تک کم کی جا چکی ہے، ایسے میں بھارت کو کرتار پور راہداری کھولنے کی پیش کش اگرچہ بڑی فراخ دِلانہ تھی اور اس کا مقصد بھارتی سکھ یاتریوں کو سہولت فراہم کرنا تھا،لیکن خیر سگالی کا یہ بڑھا ہوا ہاتھ مودی سرکار نے جھٹک دیا اور اس سے یہی امید تھی، اگرچہ پیش کش مسترد کرتے ہوئے فنی باریکیوں کا سہارا لیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ دو دن میں سرحد کھولنا ممکن نہیں،لیکن اگر ایسا نہ بھی ہوتا تو بھی بھارت کوئی نہ کوئی دوسرا جواز تلاش کر لیتا،کیونکہ اِس وقت وہ چین سے ہمالیہ کی وادی میں جو مار کھا رہا ہے،اس کا غصہ بھی وہ پاکستان پر ہی اُتارنا چاہتا ہے، خود وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کہہ چکے ہیں کہ چینی افواج سے ہزیمت کے بعد وہ اپنے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے پاکستان کے خلاف کوئی ”فالس فلیگ آپریشن“ بھی کر سکتا ہے،جب بھارت سے ایسی حماقت کی توقع کی جا رہی ہے تو پھر راہداری کھولنے کی پیش کش کس امید پر کر دی گئی تھی؟ پیش کش کرتے وقت یہ خیال رکھنا ضروری تھا کہ بھارت اسے مسترد کر دے گا اور سکھوں کے لئے پاکستان کے خیر سگالی کے رویئے کو اُجاگر نہیں ہونے دے گا، ہمارے خیال میں اِس موقع پر اس سفارتی موشگافی کا خیال نہیں رکھا گیا اور بھارت کو خواہ مخواہ ایک موقع دے دیا گیا کہ وہ نیک نیتی سے کی گئی ایک پیش کش کو مسترد کر دے،ویسے تو پاکستان نے راہداری کی جو سہولت دی ہے اس سے سکھ برادری خوش ہے،لیکن یہ اقدام بھی یوں یکطرفہ ہے کہ اس کے بدلے میں پاکستان کے مسلمانوں کے لئے کوئی سہولت طلب نہیں کی گئی،جو بھارت میں اپنے مقاماتِ مقدسہ کی زیارت کے لئے بے قرار رہتے ہیں،جب سکھوں کے لئے یہ سہولت دی جا رہی تھی تو اُس وقت بھارت کو پابند کرنے کی ضرورت تھی کہ وہ بھی مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھے اور جو مسلمان اپنے مقاماتِ مقدسہ کی زیارت کے لئے جاتے ہیں اُنہیں بھی سہولتیں دے اور بھارتی خفیہ پولیس اُنہیں تنگ نہ کرے،جو سائے کی طرح ان کا پیچھا کرتی رہتی ہے،ویسے بہتر تو یہ تھا کہ راہداری کے بدلے میں ایک راہداری بھارت سے طلب کی جاتی،لیکن اگر ایسا نہیں ہوا تو کم از کم معمولی سہولتیں تو حاصل کی جا سکتی تھیں،لیکن یہ تو خیر کیا حاصل ہوتیں بھارت نے اپنے مسلمان شہریوں کی زندگی ہی اجیرن کر دی اور کورونا کے پھیلاؤ کا ذمہ دار مساجد میں جانے والے مسلمانوں کو ٹھہرانا شروع کر دیا۔

کشمیر کے بھارت میں ادغام کے بعد اب ریاست میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے منصوبے کا آغاز ہو چکا ہے، غیر کشمیریوں کو ریاست کی شہریت دی جا رہی ہے اور ایک مہینے میں 25ہزار غیر ریاستی باشندوں کو شہریت دی جا چکی ہے۔یہ سب لوگ نہ صرف غیر ریاستی ہیں،بلکہ غیر مسلم بھی ہیں اور اس اقدام کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ ریاست کی آبادی کا پلڑا غیر مسلموں کے حق میں جھکایا جائے تاکہ اگر کسی وقت عالمی دباؤ پر ریاست میں رائے شماری کی نوبت آ جائے تو مسلمان اکثریت کی ریاست میں غیر مسلموں کی آبادی زیادہ دکھائی جا سکے، اس سے پہلے بھی دولت مند غیر کشمیریوں کو ریاست میں اس مقصد کے لئے آباد کیا جا رہا تھا اب ترقی کے نام پر اُنہیں کشمیر میں جائیدادیں خریدنے کی سہولت بھی فراہم کر دی گئی ہے اور پورے ملک سے سرمایہ کاروں کو لا کر کشمیر میں آباد کیا جا رہا ہے،یہ مودی منصوبہ بی جے پی نے اپنی سرپرست تنظیم آر ایس ایس کے ساتھ مشاورت کے بعد بنایا ہے اور ان سب اقدامات کا مقصد کشمیر پر اپنا تسلط مستحکم کرنا ہے،جو آج بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کی رو سے متنازع علاقہ ہے۔ بھارت نے لداخ کی حیثیت بھی تبدیل کی تھی اور چین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اسی کا نتیجہ ہے،لیکن وادیئ گلوان میں چینی فوجیوں نے دست بدست لڑائی میں بھارتی فوجیوں کی جو مرمت کی ہے اس کے بعد مودی سے اپوزیشن کے سامنے کوئی جواب تو نہیں بن پا رہا،لیکن پاکستان کے ساتھ اُن کا رویہ پہلے کی نسبت بھی زیادہ جارحانہ ہو گیا ہے۔اِن حالات میں راہداری کھولنے کی یک طرفہ تجویز کا مثبت جواب ملنے کی کوئی امید نہیں تھی اور بھارت نے تجویز مسترد کر کے اپنے بارے میں اس تاثرکو پختہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری کی کوئی معمولی تجویز ماننے کے لئے بھی تیار نہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -