مہنگائی کا سونامی، ٹرانسپورٹ اور روٹی کے نرخ بڑھ گئے

مہنگائی کا سونامی، ٹرانسپورٹ اور روٹی کے نرخ بڑھ گئے

  

پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے کے فوری اثرات شروع ہو گئے۔خیبرپختونخوا میں ٹرانسپورٹر حضرات نے فوری طور پر کرایوں میں 15سے 20فیصد اضافہ کر دیا،لاہور میں بھی مطالبہ ہے کہ کرایوں میں 20فیصد اضافہ کیا جائے، اکثر ٹرانسپورٹروں نے یہاں از خود15فیصد اضافہ کر دیا ہے۔رکشا ڈرائیوروں کی ایک یونین(عوامی رکشا یونین) نے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے پر احتجاج کیا ہے،اس سے کئی روز قبل آٹے کے نرخوں میں اضافے کی بنیاد پر تنور مالکان نے روٹی اور نان کی قیمت بڑھائی۔اب اس کے نرخ مزید بڑھا کر10سے 15 روپے کر دیئے ہیں۔یوں اس اضافے نے اپنا اثر دکھایا اور عوام زیر بار ہوئے ہیں۔کورونا وبا سے قبل پٹرولیم مصنوعات پرانے نرخوں پر مہیا ہو رہی تھیں اور پٹرول98روپے فی لیٹر تھا، اس دور میں ٹرانسپورٹ حضرات نے کرائے بڑھائے تھے۔کورونا وائرس کی وجہ سے ٹرانسپورٹ بند ہو گئی اور اس دوران دو بار پٹرولیم مصنوعات کے نرخ کم ہوئے،جب لاک ڈاؤن میں نرمی ہوئی اور ٹرانسپورٹ بتدریج چلنا شروع ہو گئی تو ٹرانسپورٹرز نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں کمی کا فائدہ کرائے کم کر کے عوام کو منتقل کرنے سے انکار کر دیا تھا اور حکومت یہ کمی نہ کرا سکی تھی۔اب جونہی پٹرولیم مصنوعات کے نرخ کورونا سے پہلے والی شرح پر واپس آئے تو ٹرانسپورٹرز نے کرائے بڑھا دیئے،حالانکہ یہ نرخ معمول پر آئے ہیں اور کرائے بڑھانے کا کوئی جواز نہیں،آٹے کی مہنگائی کی آڑ میں تنور مالکان نے بھی ازخود نرخ بڑھائے، گوشت کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔یوں عوام پر براہِ راست بوجھ بڑھ گیا ہے۔ حکومت نہ تو کرائے بڑھانے پر ٹرانسپورٹرز کے خلاف کوئی کارروائی کر سکی اور نہ ہی روٹی، نان کی قیمت کم ہوئی۔ عوام پر ہر طرف سے اخراجات کا بوجھ بڑھ گیا،جبکہ بے روز گاری اور آمدنی میں بھی کمی ہوئی۔ عوام پوچھتے ہیں کہ سرکاری رٹ کہاں ہے؟

مزید :

رائے -اداریہ -