آہ سید منورحسن

آہ سید منورحسن
آہ سید منورحسن

  

جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر سید منور حسن بھی گزشتہ دنوں فانی دنیا سے منہ موڑ گئے،سید منور حسن سرتاپا اسلام، پاکستانیت کی عمدہ مثال تھے، جنہوں نے ساری عمر ایک کرائے کے گھر میں گزار دی۔نہ ہی کسی حکومت اور نہ ہی اپنی جماعت کے آگے دست سوال دراز کیا، بلکہ جو ملا اس پر قناعت کیا اور اپنے اہل و عیال کو بھی اسی بات کی ترغیب دی۔ سید مرحوم پاکستان کی ایک بڑی مذہبی وسیاسی جماعت کے سربراہ رہے، لیکن مجال ہے جوکوئی چاہے وہ اپنا ہو یا مخالف جو ان کے دامن پر ایک پائی کا ضیاع بھی ثابت کر سکے۔ اس طرح کی نابغہ روزگار شخصیات روز روز پیدا نہیں ہوتیں۔ سید منور حسن کی جہد مسلسل کی داستان نصف صدی پر پھیلی ہوئی ہے۔وہ اگست1941ء میں دہلی میں پیدا ہوئے، والد گرامی اخلاق حسین سکول ماسٹر تھے اور صرف چھ سال کی عمر میں ہجرت کا غم برداشت کرنا پڑا۔ابتدائی تعلیم کراچی سے ہی حاصل کی۔ طبیعت میں باغیانہ پن تھا اس لئے کارل مارکس کے نظریات سے متاثر ہوئے اور مارکسی نظریات ہی کی وجہ سے نیشنل سٹوڈنتس فیڈریشن میں بھی رہے، لیکن جلد ہی مولانا مودودیؒ کی سوچ اور فکر نے ایسا متاثر کیا کہ ایشیا سرخ ہے کا نعرہ لگانے کی بجائے ایشیاسبز کے جلوس میں شامل ہو گئے اور پھر زندگی کے اگلے ساٹھ برس اسی جماعت میں لگا دیئے۔سید منورحسن 1960ء میں اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل ہوئے اور صرف چار سال کے عرصے میں اپنی لگن کی وجہ سے اسلامی جمعیت طلبہ میں ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے پورے پاکستان کے ناظم اعلی منتخب ہوئے اور مسلسل تین بار انہیں اسلامی جمعیت طلبہ کا ناظم اعلی منتخب کیا گیا۔

سید منور حسن نے 1968ء میں جماعت اسلامی پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔1977ء کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کی جانب سے کھڑے کئے جانے والے امید وار معروف شاعر و کالم نگار جمیل الدین عالی کا مقابلہ کیا، قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور ملک بھر میں سب سے زیادہ ووٹ لینے کا ریکارڈ قائم کیا۔اگرچہ کچھ عرصہ بعد جنرل ضیا نے ماشل لگا کر وہ اسمبلیاں تحلیل کر دیں۔ 1977ء میں جماعت اسلامی کراچی کے سیکرٹری جنرل کے طور پر بھی فرائض انجام دیئے اور 1977ء میں ملک بھر میں چلنی والی تحریک نظام مصطفی کو کراچی میں منظم کیا۔ انہوں نے متعدد بین الاقوامی فورمز پر جماعت اسلامی کی نمائندگی کی۔مرحوم جنوری 1989ء سے نومبر 1991ء تک جماعت اسلامی کراچی کے امیر کے منصب پر فائز رہے۔ 1992ء میں جماعت اسلامی پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مقررکیے گئے۔ سید منورحسن 2009ء میں بھاری اکثریت سے جماعت اسلامی پاکستان کے چوتھے امیر مقرر ہوئے۔وہ 2014ء تک بطور امیر جماعت اسلامی پاکستان،اس منصب پر فائز رہے۔ وہ جماعت اسلامی کی تاریخ کے واحد امیر ہیں،جو صرف ایک بار اس منصب اعلیٰ پر فائز رہے۔ جماعت اسلامی کے جتنے امیر منتخب ہوتے ہیں ان کے لئے منصورہ جو کہ جماعت اسلامی پاکستان کا ہیڈ کوارٹر ہے وہاں امیر جماعت اسلامی کے لئے ایک فلیٹ مختص ہے۔اس فلیٹ میں میاں طفیل محمد اور قاضی حسین احمد بھی قیام پذیر رہے، لیکن جب منور حسن امیر منتخب ہوئے تو انہوں نے اس فلیٹ میں رہنے کی بجائے ایک کمرے میں جو کہ مہمانوں کے لئے مختص تھا اس میں رہنا پسند کیا اور اسی ایک کمرے میں پردہ کر کے ان کی اہلیہ بھی ان کے ساتھ رہائش پذیر رہیں۔ یہ ان کی طبیعت کی فیاضی کا پتہ بتاتی ہے کہ اتنی بڑی جماعت جس کا اربوں روپے کا ریلیف کا کام ہو اور اس کا امیر اس طرح زندگی گزارے۔قرون اولی میں یا صرف کتابوں میں اس طرح کے واقعات یا شخصیات کے بارے میں لوگ سنتے ہیں یا پڑھتے ہیں، لیکن سیدمنور حسن جدید دور میں بھی اس کی عملی مثال تھے۔

یہاں محلے کا کوئی کوئی ناظم بن جائے تو اس کے ٹھاٹھ باٹھ اور اکڑ، مان نہیں ہوتی، لیکن وہ جماعت جس کے پاکستان بھر میں لاکھوں، کروڑوں کارکن ہوں اس کا امیر اتنی سادگی سے زندگی گزار جائے کہ کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہو یقینا یہ نئے سیاسی کارکنوں کے لئے ایک ایسی مثال ہے جسے انہیں اپنانا چاہئے۔مجھ بندہ ناچیز کو بھی سید منور حسن کے ساتھ دفاع پاکستان کونسل میں کام کرنے کا موقع ملا۔ 2012ء میں دفاع پاکستان کونسل قائم کی گئی تھی، جس کا مقصد بھارت کی جارحیت اور نیٹو سپلائی کے خلاف عوامی شعور بیدار کرنا تھا۔دفاع پاکستان کونسل میں مولانا سمیع الحق مرحوم،حافظ محمد سعید،سید منور حسن،اعجاز الحق سربراہ مسلم لیگ (ضیاء)، موجودہ ریلوے کے وزیر شیخ رشید احمد،مرحوم جنرل ریٹائرڈحمید گل ان کے صاحبزادے عبداللہ گل اور علامہ ابتسام الٰہی ظہیرجیسی شخصیات اس کی روح رواں تھیں۔ دفاع پاکستان کونسل میں کام کے دوران انہیں قریب سے جاننے اور پرکھنے کا موقع ملا۔انتہائی متقی، پرہیزگار، ایماندار، دیانتدار، اصول پسند شخصیت کے مالک تھے۔ان کے لہجے اور طبیعت میں بڑی حلیمی اور بردباری تھی، لیکن جہاں پاکستان اور اسلام کی بات آتی تو وہ پھر کسی کی بات برداشت نہیں کرتے تھے اور ان کے لہجے میں پاکستان اور اسلام مخالفین کے لئے ایک کاٹ تھی جو مخالفین پر بجلی بن کر ٹوٹتی تھی۔ اس طرح کی شخصیات کی قدر کرنا اور ان کو مشعل ِ راہ بنانا ہمارا فرض ہے جنہوں نے اپنا سب کچھ پاکستان کی خدمت کے لئے وقف کر دیا۔نہ جائیداد بنائی نہ ہی اس کی طمع رکھی یقینا ایسے لوگ چراغ لے کر بھی ڈھونڈنے سے نہیں ملتے۔اللہ تعالیٰ ان کی مغرت فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔آمین

مزید :

رائے -کالم -