حکومت کہیں نہیں جا رہی، مدت پوری کریگی، اس ملک کو صرف تحریک انصاف بدل سکتی ہے، اتحادیوں کے ساتھ لے کر چلیں گے، مافیا کا پیچھا چھوڑ دوں تو سب اچھا ہو جائے، میرے سوا کوئی چوائس نہیں: عمران خان

      حکومت کہیں نہیں جا رہی، مدت پوری کریگی، اس ملک کو صرف تحریک انصاف بدل ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپنے نظرئیے پر کھڑا رہوں گا،حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کروں گا،میرے سوا کوئی چوائس نہیں ہے،پانچ سال آسانی سے پورے کروں گا،تحریک انصاف میں کوئی اختلاف نہیں سب متحد ہیں،جمہوری جماعت میں سب کو اظہار رائے کی آزادی ہے،شدید مالی مشکلات کے باوجود ٹیکس فری بجٹ دیا ہے، ارکان اسمبلی کے مسائل سے آگاہ ہوں کورونا وائرس وبا کے باعث اراکین سے ملاقاتیں نہیں ہوسکیں،،تمام ارکان اسمبلی بجٹ منظوری کے وقت قومی اسمبلی اجلاس میں حاضری یقینی بنائیں،حکومت تمام اتحاد ی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلے گی اپوزیشن روز حکومت ختم ہونے کے بیانات دے رہی ہے، حکومت کہیں نہیں جا رہی، اپنی مدت پوری کرے گی وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وہ اپوزیشن حکومت پر تنقید کررہی ہے جو تیس سال حکومت کر چکی۔ اس ملک کو صرف اور صرف تحریک انصاف ہی بدل سکتی ہے۔آج مافیا کا پیچھا چھوڑ دوں تو سب اچھا ہو جائے گا۔ جو لوگ ملک کو تباہی کے دہانے پر لے گئے، ان سے کیسے ہاتھ ملاؤں؟ بہت پہلے بتایا دیا تھا کہ مشکل وقت آئے گا، تو یہ سب اکٹھے ہوں گے۔ یہ عوام کے مفاد میں نہیں، اپنی کرپشن کے دفاع کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم عمران خان نے اتوا ر کی رات حکومتی و اتحادی ارکان پارلیمنٹ کے ا عزاز میں وزیراعظم ہاؤس میں دئیے گئے عشائیہ سے خطاب میں کیا۔ عشائیہ میں تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی کے علاوہ اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم، بلوچستان عوامی پارٹی،جی ڈی اے کے ارکان نے شرکت کی۔ شاہ زین بگٹی کی سربراہی میں جمہوری وطن پارٹی کا وفد بھی شریک ہوا۔جبکہ وفاقی وزراء،بعض مشیران و معاونین خصوصی بھی عشائیہ میں شریک ہوئے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اعشائیہ کی تقریب میں فرداً فرداً تمام ارکان سے بات کی اور شرکاء کو وفاقی بجٹ اور ملکی صورتحال پر اعتماد میں لیا ۔تقریب میں وفاقی بجٹ منظور کرانے کی حکمت عملی پر بات چیت کی گئی انہو ں نے تمام ارکان کے مطالبات اور تحفظا ت سنے۔وزیر اعظم نے ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز فراہم کرنے کی یقین دھانی کرائی۔انہوں نے بجٹ کی منظوری کے وقت تمام ارکان کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ میں اپنے نظرئیے پر کھڑا رہوں گا،حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کروں گا میرے علاوہ کوئی چوائس نہیں ہے،پانچ سال آسانی سے پورے کروں گا،تحریک انصاف میں کوئی اختلاف نہیں سب متحد ہیں،جمہوری جماعت میں سب کو اظہار رائے کی آزادی ہے،تمام ارکان اسمبلی بجٹ منظوری کے لئے قومی اسمبلی اجلاس میں حاضری یقینی بنائیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ رواں سال بجٹ مشکل ترین مالی حالات میں پیش ہوا ہے۔شدید مالی مشکلات کے باوجود ٹیکس فری بجٹ دیا ہے،بجٹ اجلاس میں تمام ارکان کی حاضری ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت سنبھالی تو ملک چلانے کے لئے پیسے نہیں تھے،معیشت بہتر ہوئی تو کورونا وائرس آگیا،مشکل ترین حالات میں مجبوراً مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔ارکان اسمبلی کے مسائل سے آگاہ ہوں کورونا وائرس وبا کے باعث اراکین سے ملاقاتیں نہیں ہوسکیں۔انہوں نے کہا کہ اگر میں آج لوگوں کے ساتھ سمجھوتہ کرلوں تو تمام مسائل ختم ہوجائیں گے ہم آج بھی اپنے نظرئیے پر کھڑے ہیں حکومتی مدت کے پانچ سال آسانی سے پورے کرسکتا ہوں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف جمہوری پارٹی ہے سب کو اظہار رائے کی آزادی ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے روز سے لاک ڈاؤن کے خلاف تھا،سب سے پہلے ہم نے سمارٹ لاک ڈاؤن کیا اب تمام ممالک سمارٹ لاک ڈاؤن کی جانب جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت تمام اتحاد جماعتوں کو ساتھ لے کر چلے گی۔ہم نے معیشت کو بہتر بنانے پر بھرپور توجہ دی ہے۔تحریک انصاف اور اتحادی ارکان سے رابطے جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ مشرف نے دباؤ میں آکر دو بار چینی بحران رپورٹ روکی،میرے اوپر بھی دباؤ تھا لیکن ہم نے رپورٹ عوام کے سامنے رکھی ہے،ہر روز نئے حالات کا مقابلہ کرتے ہیں جلد مسائل سے نکل جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پی آئی اے میں جعلی ڈگریوں پر لوگ بھرتی ہوئے اس سے ملک کی بدنامی ہوئی،پی آئی اے طیارہ حادثہ رپورٹ کے معاملے پر بھی ہمارے اوپر دباؤ تھا،چاہتے تو بہت کچھ چھپا سکتے تھے لیکن ہم نے حقائق عوام کے سامنے رکھے ہیں۔ وزیر اعظم نے مہاتیر محمد کی مثالیں بھی دیں۔وزیر اعظم کے عشائیے میں بلو چستان عوامی پارٹی کے وفد کی قیادت ڈاکٹر زبیدہ جلال نے کی جبکہ ایم کیو ایم کے وفد کی قیادت کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کی۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید طبعیت ناساز ہونے کے باعث اعشائیہ میں نہ پہنچ سکے۔ ۔ راجہ ریاض اور نو رعالم خان بھی عشائیہ میں شریک ہوئے۔وزیراعظم عمران خان نے عشائیہ سے قبل اتحادی جماعتوں سے ملاقاتیں کی جس میں تحفظات اور شکوے دور کرنے کی یقین دہانیاں کرائی گئیں۔ وزیراعظم نے اتحادیوں کو حکومتی اقدامات پر اعتماد میں لیا اور حکومتی امور میں ساتھ لے کر چلنے کی یقین دہانی کروائی۔ وزیراعظم عمران خان سے بلوچستان عوامی پارٹی کے وفد نے ملاقات کی جس میں وفاقی وزیر زبیدہ جلال، میر خالد مگسی اور سردار اسرار ترین سمیت دیگر شریک ہوئے۔ اس ملاقات میں بجٹ منظوری اور بلوچستان کے مسائل کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔بلوچستان عوامی پارٹی نے بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں میں کٹوتی پر تحفظات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ ہے۔ بلوچستان کی احساس محرومی کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ حکومت کورونا صورتحال میں معاشی استحکام کے لیے کوشاں ہے۔ بلوچستان کے حوالے سے تمام اتحادی جماعتوں کے تحفظات دور کریں گے۔بعد ازاں وزیراعظم عمران خان سے ایم کیو ایم وفد نے بھی ملاقات کی۔ ایم کیو ایم کنوینر خالد مقبول صدیقی نے وفد کی سربراہی کی۔ وفاقی وزیر امین الحق سمیت دیگر ارکان شریک ہوئے۔اس ملاقات میں کراچی اور حیدر آباد میں ترقیاتی منصوبوں اور کے فور منصوبے میں پیش رفت پر بھی بات چیت کی گئی۔ ایم کیو ایم نے کراچی، حیدر آباد اور میر پور خاص کے لیے بجٹ میں رقم مختص کرنے پر شکریہ ادا کیا۔اس کے علاوہ جی ڈی اے وفد نے بھی وزیراعظم سے ملاقات کی جس میں وفاقی وزیر فہمیدہ مرزا اور رکن اسمبلی سائرہ بانو شریک تھے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم عمران سے رکن قومی اسمبلی اسلم بھوتانی اور غلام بی بی بھروانہ کی بھی ملاقات ہوئی۔۔دنیا نیوز کے مطابق اسد قیصر وزیر اعظم کے عشایئے میں آخری وقت پہنچے وہ 12ناراض ارکان اسمبلی کو منا کر عشایئے میں لائے۔ دریں اثناوزیراعظم عمران خان نے ملک میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے اپنے فیصلے کو باعث فخر قرار دے دیا۔وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر بلوم برگ کا ایک مضمون شیئر کیا جس کے مطابق یورپی ممالک یعنی جرمنی، اٹلی، فرانس، پرتگال وغیرہ میں مستقبل میں اسمارٹ لاک ڈاؤن پر غور کیا جارہا ہے۔اس مضمون کو شیئر کرتے ہوئے وزیراعظم نے لکھا کہ’اسمارٹ لاک ڈاؤن اختیارکرنے والوں میں میری ٹیم سرفہرست ہے۔ مجھے فخر ہے کہ کورونا سے پیدا شدہ بحرانی کیفیت میں وطنِ عزیزکو پیہم درست سمت میں رکھنیکیلئے یہ تدبیر میرے کام آئی۔‘ان کا کہنا تھا کہ آج سے اگر ہم ایس او پیز کا لحاظ رکھتے ہیں تو بحران کی سنگینی سے بخوبی نجات پالیں گے

وزیر اعظم

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)) وزیر اعظم عمران خان نے اتوار کے روز اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا تاہم مسلم لیگ ق،بی این پیم مینگل اورشیخ رشید نے اس مین شرکت نہیں کی مسلم لیگ (ق) نے مصروفیات کے باعث وزیراعظم کے عشایے میں شرکت نہیں کی، شیخ رشید بیماری کی وجہ سے شریک نہ ہو سکے، تحریک انصاف کے ناراض ارکان بھی نہ مانے۔تفصیل کے مطابق ق لیگ، بی این پی مینگل اور عوامی مسلم لیگ نے وزیراعظم عمران خان کے عشائیے میں شرکت نہیں کی۔ مسلم لیگ (ق) نے موقف اختیار کیا قیادت کی مصروفیت کے باعث شریک نہیں ہو سکتے، تاہم بجٹ منظوری میں حکومت کی حمایت کریں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اہم ترین اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کی قیادت کو منانے کیلئے حکومتی رابطے بھی کسی کام نہ آئے۔ سپیکر اسد قیصر نے پہلے وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ سے ملاقات کی پھر چودھری پرویز الہیٰ کو فون بھی کیا اور عشائیے میں شرکت کی دعوت دی۔ق لیگ نے موقف اپنایا کہ حکومت کے اتحادی ہیں بجٹ میں بھرپورساتھ دیں گے لیکن پارٹی قیادت کی مصروفیت کے باعث عشائیہ میں شرکت نہیں کر سکتے۔ پرویز الہیٰ نے اسد قیصر کو جواب دیا جب آپ عشائیہ دیں گے تب ضرور آئیں گے۔بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل نے بھی وزیراعظم کے عشائیہ میں شرکت سے صاف انکار کر دیا تھا۔ اختر مینگل نے کہا کہ حکومت کے اتحادی نہیں رہے، اس لئے عشائیہ میں نہیں جا سکتے۔مسلم لیگ ق کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود آج اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کا عشایئے پر بلا رکھا ہے اس لئے وزیر اعظم کے عشایئے میں شرکت نہیں کر سکتے واضح رہے کہ مسلم لیگ ق نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)، بلوچستان عوام پارٹی(بی اے پی) اور گرینڈ ڈیمو کر یٹک الائنس (جی ڈی اے) سمیت آزاد ارکان کو دعوت دی ہے تاہم عشائیے میں تحریک انصاف کے رہنماؤں کو مدعو نہیں کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اس سلسلے میں چوہدری شجاعت حسین سے رابطہ کرکے ا نہیں منانے کی کوشش کی تاہم وہ کامیاب نہ ہوسکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اسد قیصر نے چوہدری شجاعت سے درخواست کی کہ ایک رکن قومی اسمبلی ہی بھجوادیں تاکہ ق لیگ کی نمائندگی ہو جائے تاہم چوہدری شجاعت نے ق لیگ کے کسی ایک رکن قومی اسمبلی کوبھی عشائیہ میں بھجوانے سے انکار کردیا۔سربراہ مسلم لیگ ق نے وزیراعظم کو پیغام میں کہا کہ بجٹ میں ووٹ دینے کا وعدہ تھا، ووٹ دیں گے لیکن آپ کا کھانا نہیں کھائیں گے۔رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے بھی طبیعت کی خرابی پر وزیراعظم سے معذرت کرلی ہے۔دوسری جانب بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) نے بھی عشائیے میں شرکت سے انکار کردیا ہے۔بی این پی کے رہنما جہانزیب جمالدینی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا عشائیہ حکومتی اتحادیوں کیلیے ہے، ان کی جماعت اب اتحادی نہیں رہی اس لیے ان کا وزیر اعظم کے عشائیہ میں شرکت کا کوئی جواز نہیں۔وزیراعظم عمران خان نے عشائیہ سے قبل اتحادی جماعتوں سے ملاقاتیں کی جس میں تحفظات اور شکوے دور کرنے کی یقین دہانیاں کرائیں۔ وزیراعظم نے اتحادیوں کو حکومتی اقدامات پر اعتماد میں لیا اور حکومتی امور میں ساتھ لے کر چلنے کی یقین دہانی کروائی۔وزیراعظم عمران خان سے بلوچستان عوامی پارٹی کے وفد نے ملاقات کی جس میں وفاقی وزیر زبیدہ جلال، میر خالد مگسی اور سردار اسرار ترین سمیت دیگر شریک ہوئے۔ اس ملاقات میں بجٹ منظوری اور بلوچستان کے مسائل کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔بلوچستان عوامی پارٹی نے بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں میں کٹوتی پر تحفظات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ ہے۔ بلوچستان کی احساس محرومی کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ حکومت کورونا صورتحال میں معاشی استحکام کے لیے کوشاں ہے۔ بلوچستان کے حوالے سے تمام اتحادی جماعتوں کے تحفظات دور کریں گے۔بعد ازاں وزیراعظم عمران خان سے ایم کیو ایم وفد نے بھی ملاقات کی۔ ایم کیو ایم کنوینر خالد مقبول صدیقی نے وفد کی سربراہی کی۔ وفاقی وزیر امین الحق سمیت دیگر ارکان شریک ہوئے۔اس ملاقات میں کراچی اور حیدر آباد میں ترقیاتی منصوبوں اور کے فور منصوبے میں پیش رفت پر بھی بات چیت کی گئی۔ ایم کیو ایم نے کراچی، حیدر آباد اور میر پور خاص کے لیے بجٹ میں رقم مختص کرنے پر شکریہ ادا کیا۔اس کے علاوہ جی ڈی اے وفد نے بھی وزیراعظم سے ملاقات کی جس میں وفاقی وزیر فہمیدہ مرزا اور رکن اسمبلی سائرہ بانو شریک تھے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم عمران سے رکن قومی اسمبلی اسلم بھوتانی اور غلام بی بی بھروانہ کی بھی ملاقات ہوئی۔

عشایۂ ملاقاتیں

مزید :

صفحہ اول -