افغان جنگجوؤں کو مالی وسائل کی فراہمی، روس، طالبان اور امریکہ نے تردید کردی

  افغان جنگجوؤں کو مالی وسائل کی فراہمی، روس، طالبان اور امریکہ نے تردید ...

  

کابل،ماسکو،واشنگٹن،گردیز (نیوزایجنسیاں) روس اورافغان طالبان نے ذرائع ابلاغ کی اس اطلاع کی تردیدکی ہے کہ روس نے افغانستان میں امریکہ اورنیٹوکے فوجیوں کی ہلاکت کے لئے طالبان جنگجوؤں کومالی وسائل فراہم کئے ہیں۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہدنے نیویارک ٹائمزمیں شائع اس رپورٹ کی تردیدکرتے ہوئے کہاکہ ہمارے کسی خفیہ ادارے کے ساتھ روابط نہیں ہیں۔ ایسی اطلاعات طالبان کی شہرت کونقصان پہنچانے کی کوشش ہیں جبکہ روس نے بھی ان بے بنیاداورمن گھڑت الزامات کی مذمت کی۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے بھی ہفتہ کو اس خبر کی تردید کی ہے کہ صدر ڈونلڈٹرمپ کو اس خفیہ اطلاع کے بارے میں بریفنگ دی گئی تھی جس کے مطابق روس نے طالبان سے منسلک جنگجوں کو اتحادی فوجیوں کو ہلاک کرنے پر انعام کی پیشکش کی تھی۔وائٹ ہاس کی پریس سیکرٹری کیلی میک نینی نے اپنے بیان میں کہا کہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر،قومی سلامتی کے مشیر اور چیف آف سٹاف اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں کہ نہ تو صدر اور نہ ہی نائب صدر کو مبینہ روسی انعامات بارے خفیہ اطلاعات پربریفنگ دی گئی ہے۔یہ بیان مبینہ انٹیلی جنس کی اہلیت پر پورا نہیں اترتا بلکہ نیویارک ٹائمز کی اس خبر کے صحیح نہ ہونے کی نشاندہی کرتا ہے جس میں غلط طور پریہ خیال پیش کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کو اس معاملے پر بریف کیا گیا ہے۔دریں اثناء مشرقی افغانستان میں بدامنی کے شکار صوبہ پکتیا میں ڈانڈپٹن اور سید کرم اضلاع میں طالبان کے حملے پسپا کردیئے گئے ہیں اورعسکریت پسند اپنے13ساتھیوں کی لاشیں میدان جنگ میں چھوڑ کر فرار ہوگئے ہیں۔یہ بات فوج کے ترجمان عمل محمندنے اتوار کے روز بتائی۔عہدیدار کے مطابق مسلح باغیوں نے ڈانڈپٹن اوراس کے ہمسایہ ضلع سید کرم میں اتوار کی علی الصبح حملہ کردیا جس کے بعد جھڑپیں شروع ہوگئیں جوگھنٹوں جاری رہیں۔ڈانڈپٹن میں 9عسکریت پسند ہلاک جبکہ 5زخمی ہوگئے جبکہ سید کرم میں جھڑپوں کے دوران مزید4ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔عہدیدار نے سکیورٹی فورسزکاجانی نقصان بتائے بغیر کہاکہ سکیورٹی فورسز پکتیا اور اس کے گردونواح میں باغیوں کیخلاف کارروائیاں جاری رکھیں گی۔

تردید

مزید :

صفحہ اول -