دنیا کی آبادی کے پانچویں حصے کو کورونا وائرس کا خطرہ، 80فیصد کا گھر پر علاج ممکن

دنیا کی آبادی کے پانچویں حصے کو کورونا وائرس کا خطرہ، 80فیصد کا گھر پر علاج ...

  

واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) چونکہ ”کووڈ 19-“ یا ناول کوروناوائرس کی وباء دنیا کیلئے بالکل نئی ہے اسلئے سائنسدان بھی الجھن کا شکار رہے ہیں کہ اس سے کیسے نمٹا جائے یا اس کے کیا اثرات ہوسکتے ہیں لیکن رفتہ رفتہ جزوی طور پر اس کے بارے میں حقائق آشکارہ ہو رہے ہیں۔ ایک امریکی ٹی وی چینل نے امریکی، برطانوی اور چینی طبی محققین کی ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں انہوں نے اس وباء کے مستقبل میں پھیلاؤ کے بارے میں کافی قیافہ آرائی کی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کی آبادی کے پانچویں حصے کوکورونا وائرس کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے اور ان میں سے 4/5حصہ گھرپر علاج سے صحتیاب ہوسکتاہے اور 1/5حصے کو وباء کی شدت کے باعث ہسپتال داخل کرانا پڑے گا۔ اس تحقیق کی قیادت ”لندن سکول آف ہائی جین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن“ نے کی ہے جس میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ پوری دنیا کی آبادی میں سے ایک ارب ستر کروڑ ایسے افراد ہیں جنہیں کوئی نہ کوئی ایسی بیماری ہے جو اگر کروناوائرس میں مبتلا ہوئے تو ان میں اس وباء کی نسبتاً زیادہ شدت محسوس ہوگی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں 34 کروڑ 90لاکھ پر کرونا وائرس کا شدید حملہ ہوسکتا ہے جن میں تقریباً دو فیصد افراد ستر برس یا زیادہ عمر کے ہوں گے جنہیں ہسپتال داخل کرانا ہوگا۔ تاہم جن ممالک میں کرونا وائرس کے شدید حملے کا خطرہ ہے ان میں معمر لوگوں کی آبادی والے ملک، ایڈز کی بیماری سے متاثر افریقی ممالک اور چھوٹے جزیروں پر مشتمل ممالک شامل ہیں جہاں شوگر کا مرض زیادہ ہے۔ دنیا بھر میں ایسے افرادکا وائرس میں مبتلا ہونے کا زیادہ خدشہ ہے جنہیں گردوں، شوگر، دل اور سانس کی بیماریاں لاحق ہیں۔ اس دوران ”نیوز میکس“ ٹی وی چینل نے امریکہ کے طبی ماہرین کے حوالے سے بتایا ہے کہ ناول کرونا وائرس کی وجہ سے مریضوں میں جو مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ان کا کچھ کچھ اندازہ ہو رہا ہے۔ کیلیفورینا کے دل کے امراض کے ایک ماہر ڈاکٹر ایرک ٹوپول کہتے ہیں کہ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ کرونا وائرس صرف سانس کی بیماری پیدا کرتی ہے لیکن اب یہ واضح ہوتا جا رہاا ہے کہ یہ لبلبے، دل، جگر، گردوں اور دماغ سمیت جسم کے دیگر اعضاء کو نشانہ بنا سکتا ہے ان کے مطابق اس وائرس کے مریضوں میں انجماد خون ہونے کا مشاہدہ ہوا ہے جس سے ہارٹ اٹیک، سٹروک اور اہم اعضاء میں پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ شکاگو کی امراض قلب کی ماہر ڈاکٹر سعدیہ خان کہتی ہیں کہ انفلوئینزا کے وائرس کی وجہ سے نظام تنفس کے علاوہ دیگر اعضاء میں پیچیدگیاں پیدا ہونے کا پہلے سے علم ہے لیکن اس وائرس کی پیچیدگیاں بہت منفرد قسم کی معلوم ہوتی ہیں۔

عالمی ماہرین

مزید :

صفحہ اول -