درآمدات میں کمی سے ملکی جاری کھاتوں کا خسارہ 74فیصد گھٹ گیا: سٹیٹ بینک

درآمدات میں کمی سے ملکی جاری کھاتوں کا خسارہ 74فیصد گھٹ گیا: سٹیٹ بینک

  

اسلام آباد (اے پی پی) رواں مالی سال کے دوران پاکستان کے جاری کھاتوں کے خسارہ (کرنٹ اکاؤنٹ) میں 74 فیصد کی نمایاں کمی ہوئی ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی رپورٹ کے مطابق جاری مالی سال کے ابتدائی 11 مہینوں میں جولائی تا مئی 2019-20ء کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خارہ 3.3 ارب ڈالر تک کم ہو گیا جبکہ گزشتہ مالی سال میں جولائی تا مئی 2018-19ء کے دوران جاری کھاتوں کا ملکی خسارہ 12.5 ارب ڈالر تھا۔ اس طرح گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں رواں مالی سال کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ میں 9.2 ارب ڈالر یعنی 74 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ مرکزی بینک نے رپورٹ میں کہا ہے کہ حکومت کے غیر ضرورتی درآمدات کی حوصلہ شکنی اور انتظامی اقدامات کے نتیجہ میں خسارہ کم ہوا ہے۔ جاری کھاتوں کے ملکی خسارہ میں کمی کا بنیادی سبب تجارتی خسارہ میں ہونے والی کمی بھی ہے۔ درآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلہ میں رواں مالی سال کے دوران 19 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ ایس بی پی کے مطابق مئی 2020ء کے دوران کرنٹ اکاوئنٹ 13 ملین ڈالر سر پلس رہا ہے جبکہ اپریل 2020ء میں 530 ملین کا خسارہ تھا اور مئی 2019ء کے دوران حسابات جاریہ کا ملکی خسارہ ایک ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔

اسٹیٹ بنک

مزید :

صفحہ آخر -