ننکانہ صاحب، پولیس کا زیر حراست ملزم پر تشدد، حالت تشویشناک

ننکانہ صاحب، پولیس کا زیر حراست ملزم پر تشدد، حالت تشویشناک

  

ننکانہ صاحب (نمائندہ خصوصی)پولیس کا زیر تفتیش ملزم پر بے رحمانہ تشدد، تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل، چھ لاکھ روپے رشوت کے مطالبہ پر تشدد کیا گیا،لواحقین کا الزام، احتجاجی مظاہرین نے پولیس کے خلاف شدید نعرہ بازی کی جبکہ پولیس اسٹیشن کی بیرونی کھڑکیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ تفصیلات کے مطابق پولیس تشدد اور رشوت ستانی کے خلاف مضروب ملزم کے لواحقین نے گذشتہ رات واربرٹن ریلوے روڈپر یونائیٹڈ ہسپتال کے سامنے ٹائر نذزآتش کیے اور ننکانہ روڈ پر ریلوے پھاٹک بند کر کے پولیس کے خلاف شدید احتجاج کیا اس موقعہ پر مظاہرین نے الزام لگایا کہ مبینہ طور پر پولیس تھانہ واربرٹن نے ملزم آصف رحمانی کو مقدمہ قتل میں گرفتار کیا تھا جس کو ایس ایچ او تھانہ صدرسانگلہ ہل رانا سجاد اکبر مزید تفتیش کے لیے لے گیا اور دوران تفتیش بے رحمانہ تشدد کے باعث ملزم آصف کی حالت غیر ہوگئی تو پولیس سانگلہ ہل اسے واربرٹن چھوڑ گئی مظاہرین نے الزام لگایا کہ انسپکٹر رانا سجاد اکبرنے چھ لاکھ روپے رشوت کا مطالبہ پورا نہ ہونے پر آصف رحمانی کو بے ہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا ہے جو ایک نجی ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔

، مظاہرین کا مزید کہنا تھا کہ انسپکٹر رانا سجاد اکبر پولیس تشدد کا ذمہ دار ایس ایچ او تھانہ واربرٹن عبدالخالق کو قرار دے رہا ہے، دوران احتجاج پولیس اسٹیشن واربرٹن کی بیرونی کھڑکیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ احتجاج کی اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی سرکل غلام الرسول موقعہ پر پہنچے تو مظاہرین نے ان پر دھاوا بول دیا تاہم انہوں نے بڑی مشکل سے اپنی جان بچائی بعدازاں ڈی پی او ننکانہ صاحب اسماعیل الرحمن کھاڑک بھی پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ واربرٹن پہنچ گئے ڈی پی او ننکانہ صاحب اسماعیل الرحمن کھاڑک کی طرف سے انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی پر مظاہرین نے احتجاج ختم کردیا علاوہ ازیں ڈی پی او ننکانہ صاحب اسماعیل الرحمن کھاڑک نے ایس ایچ او تھانہ واربرٹن عبدالخالق کو معطل کر کے لائن خاصر کر دیا اور ان کی جگہ سب انسپکٹرمجاہد ملہی کوعارضی طورپر ایس ایچ او تھانہ واربرٹن تعینات کردیا۔

مزید :

علاقائی -