سمارٹ لاک ڈاؤن کا کوئی فائدہ نہیں، 2ہفتوں کیلئے شہر مکمل بند کئے جائیں: ڈاکٹرز تنظیمیں

  سمارٹ لاک ڈاؤن کا کوئی فائدہ نہیں، 2ہفتوں کیلئے شہر مکمل بند کئے جائیں: ...

  

لاہور(این این آئی)کورونا کے کیسز کم نہیں ہوئے بلکہ حکومت کی جانب سے کورونا کے ٹیسٹوں کی تعداد میں کمی لائی گئی ہے جس کی وجہ سے مریضوں کی کم تعداد سامنے آ رہی ہے،جب تک حکومت کل آبادی کے 2فیصد کی رینڈم ٹیسٹنگ نہیں کرتی اصل حقائق سامنے نہیں آئیں گے،کورونا وائرس سے سب سے زیادہ ہیلتھ پروفیشنلز متاثر ہو رہے ہیں،حکومت کورونا وائرس کے مریضوں کی مکمل آئیسولیشن کو یقینی بنائے۔ ان خیالات کااظہار پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے لاہور پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔ پروفیسر محمد افضل میاں نے کہا کہ انسانیت کی خدمت کے لئے پہلے کی طرح ہر ممکن مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے،ہم حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ ہمارا مطالبہ تسلیم کیا گیا،حکومت کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی قیمت مقرر کر کے بھی ہمارا مطالبہ تسلیم کیا لیکن ابھی بھی کورونا ٹیسٹ کی قیمت زیادہ ہے،حکومت اس حوالے سے ذمہ داری لے جس سے عوام کو ریلیف ملے گا۔کچھ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن کیا گیا لیکن وہ کہیں نظر نہیں آیا،باہر نکلنے والے شہری ماسک پہننے کی لازمی پابندی پر بھی عمل نہیں کر رہے،حکومت سمارٹ لاک ڈاؤن اور ماسک پہننے کے اپنے فیصلوں پر مکمل عملدرآمد کروائے۔ سمارٹ لاک ڈاون کا کوئی فائدہ نہیں،حکومت ایمرجنسی کا اعلان کر کے عالمی ادارہ صحت کے اعلان کے مطابق مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کرے۔انہوں نے کہاکہ ہسپتالوں میں جگہ ختم ہو چکی ہے اب ہم کورونا کے مریضوں کے لئے ”پیما ورچوئل کووڈ ہیلپ لائن“کا یکم جولائی سے آغاز کر رہے ہیں وہاں ہم کورونا کے مریضوں کو رجسٹرڈ کر کے گھروں پر مریضوں کو طبی مشورے دیں گے،گھروں میں آئیسولیشن اختیار کرنے والے مریضوں کے نفسیاتی مسائل کے حل کے لئے ماہر نفسیات بھی اس ہیلپ لائن پر دستیاب ہوں گے۔خدارا عوام ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کریں تاکہ ہم سب اس سے بچ سکیں۔پروفیسر ڈاکٹر اشرف نظامی نے کہا کہ کراچی سمیت پڑے شہروں میں کم از کم 2 ہفتوں کا مکمل لاک ڈاؤن نا گزیر ہے،عالمی ادارہ صحت نے 6شرائط کے ساتھ سمارٹ لاک ڈاؤن کی سفارشات دی ہیں۔ہمارے ملک میں کورونا ٹیسٹنگ کی استعداد ابھی بہت کم ہے، اس وبا سے ہمیں لڑنا نہیں بلکہ اس سے بچنا ہے۔ ہیلتھ پروفیشنلز کو فراہم کی جانے والے حفاظتی کٹس مناسب نہیں، کورونا کے ٹیسٹ کی قیمت اسلام آباد میں 5500اور 6500رکھنا غیر اخلاقی فعل ہے۔ڈریپ کو کورونا کٹ کا معیار مقرر کرنا چاہیے،حکومت فارماسوٹیکل کمپنیوں کی جانب سے ادویات کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کا سخت نوٹس لے۔ہم ایسے موقع پر فارماسوٹیکل کمپنیوں کی جانب سے ناجائز تجارت کی خواہش کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ڈاکٹر جعفر نے کہاکہ کورونا وائرس ٹیسٹ کا منفی آنا کورونا نہ ہونے کی علامت نہیں پھر بھی احتیاط بہت ضروری ہے۔ بڑے شہروں میں 2ہفتوں کا مکمل لاک ڈاؤن بہت زیادہ ضروری ہے۔ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ٹیلی میڈیسن کا شعبہ پہلے سے ہی چلا رہے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر 400سے زائد کالز آ رہی ہیں،حکومت ہسپتالوں میں بیڈز، ڈاکٹرز اور نرسوں کی تعداد زیادہ کرے اور ہسپتالوں میں آکسیجن کی مقدار بڑھائے،حکومت آکسیجن سلنڈروں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ذخیرہ اندوزی پر قابو پائے۔

ڈاکٹرز تنظیمیں

مزید :

صفحہ آخر -