بھارت امن کی زبان نہیں سمجھتا ہمیں جارحانہ جوابی کارروائی کرنا ہو گی: سردار مسعود خان

بھارت امن کی زبان نہیں سمجھتا ہمیں جارحانہ جوابی کارروائی کرنا ہو گی: سردار ...

  

مظفرآباد (این این آئی)آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے لائن آف کنٹرول کے قریب بسنے والے 80ہزار گھرانوں کے چھ لاکھ دس ہزار شہریوں کے سر پر شفت کا ہاتھ رکھ کر اُن لوگوں کی مادر وطن کے لیے قربانیوں کا نہ صرف اعتراف کیا ہے بلکہ آزاد کشمیر کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا حق بھی ادا کیا ہے۔ آزاد کشمیر پاکستان کی نہ صرف مضبوط دفاعی فصیل ہے بلکہ یہاں کے عوام خاص طور پر وہ لوگ جو لائن آف کنٹرول کے قریب ہر روز بھارت کی ننگی جارحیت کا پوری جرات اور بہادری سے مقابلہ کررہے ہیں وطن کے بے وردی سپاہی ہیں۔اپنے ایک بیان میں صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ آزاد کشمیر کے لوگوں نے 73 سال پہلے خون دے کر اس علاقے کو آزاد کرایا تھا لیکن کشمیر کے مقبوضہ حصے کے لوگ 73 سال سے بھارت کے قہر و استبداد اور سیاسی ریشہ دانیوں کے باوجود آج بھی پاکستان کا نعرہ بلند کرتے ہیں اور مضبوطی سے اپنے اس نظریے اور عقیدے پر جمے ہوئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی اور آر ایس ایس کشمیریوں کو مارنے، اُن کی زمین پر قبضہ کرنے، مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی میں مسلمانوں کی تعداد کم کرنے اور پوری ریاست کو اپنی نو آبادی میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنا چکے ہیں اور اُن کا یہ خیال ہے کہ اُن کی جوابدہی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ لیکن کشمیری اُن سے حساب بھی لیں گے اور اُن کی جوابدہی بھی کریں گے اور آزاد کشمیر کے لوگ اُن کا محاسبہ کریں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کی حکومت، عوام اور آزاد کشمیر کے بہاد ر عوام بھارت کے مقابلہ کے لیے دفاعی کے بجائے جارحانہ پالیسی اختیار کریں کیونکہ بھارت آزاد کشمیر،گلگت بلتستان پر حملہ کرنے اور پاکستان کی سلامتی سے کھیلنے کی دھمکیاں دے رہا ہے ہمیں یہ کہنے کے بجائے کہ ہم صرف آزاد کشمیر اور پاکستان کا دفاع کریں گے ہمیں خالصتان، آسام، تامل ناڈو، مینر و رام کی بات کرنی چاہیے اور دنیا کو بتانا ہے کہ بھارت سیکولر ازم کا نقاب اُتارنے کے بعد ایک فسطائی ریاست کے طور پر اُبھر کر سامنے آ چکا ہے جس کے مشرق، مغرب، شمال اور جنوب میں کوئی جوڑ نہیں ہے۔ بھارت بین الاقوامی سطح پر جہاں ہمارے راستے روکے ہمیں جارحانہ انداز میں جوابی کارروائی کرنا ہو گی۔ اگر ہم نے جوابی ایکشن نہ لیا تو اگلے دو تین سال کے اندر مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادی اور جغرافیہ مکمل طور پر تبدیل ہو جائے گا اور کشمیریوں کو اُن کی اپنی سر زمین سے د یس نکالا دے دیا جائے گا۔

سردار مسعود خان

مزید :

صفحہ آخر -