وائٹ کالر کرائمز کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے 10ماہ کا عرصہ مقرر کیا: چیئر مین نیب

  وائٹ کالر کرائمز کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے 10ماہ کا عرصہ مقرر کیا: ...

  

اسلام آباد(این این آئی)قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب دنیا کا واحد ادارہ ہے جس نے وائٹ کالر کرائمز کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے 10ماہ کا عرصہ مقرر کیا ہے، نیب اپنی موثر اور جامع انسداد بدعنوانی کی قومی حکمت عملی کے تحت میگا کرپشن وائٹ کالر کرائمز کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہے۔ نیب اعلامیہ کے مطابق چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کو 2019ء میں 2018ء کے مقابلہ میں دوگنی شکایات موصول ہوئی ہیں۔نیب کو 2019ء میں مجموعی طور پر 53643شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں سے 42760پراسس کی گئیں جبکہ 2018ء میں 48591شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 4141کو نمٹایا گیا۔نیب نے 2019ء میں 1308شکایات کی جانچ پڑتال کی۔1686انکوائریاں اور 609انویسٹی گیشنز نمٹائی گئیں اور بدعنوان عناصر سے 141.542ارب روپے وصول کیے گئے جبکہ 2000سے اب تک 46.069ارب روپے وصول کر کے قومی خزانہ میں جمع کرائے گئے جو کہ نمایاں کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے سینئر افسران کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا ہے۔ یہ ٹیم ایک ڈائریکٹر، ایڈیشنل ڈائریکٹر، انویسٹی گیشن آفیسر اور لیگل کنسلٹنٹ پر مشتمل ہے۔ اس ے نیب کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔ نیب کی 2019ء میں 1983کیسز نمٹانے کے ساتھ سزا کی شرح 68.8فیصد ہے۔ نیب نے راولپنڈی میں اپنی فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے، 2019ء میں اس لیبارٹری سے 5کیسز میں 300انگوٹھوں کے نشانات، 15747سوالیہ دستاویزات اور ڈیجیٹل فرانزک کیلئے 7ڈیوائسز(لیپ ٹاپ، موبائل ونز اور ہارڈڈسک وغیرہ کا فرانزک تجزیہ کیا گیا، نیب کی معزز احتساب عدالتوں میں 1219کرپشن ریفرنسز زیرسماعت ہیں جن کی مالیت 900ارب روپے ہے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ مفرور اور اشتہاریوں کو گرفتار کیا جائیگا اور ان سے لوٹی ہوئی رقم کی وصولی کے لئے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور یہ رقم قومی خزانے میں جمع کروائی جائے گی۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے کے لئے نیب پوری طرح سے تیار ہے، انہوں نے نیب کے تمام ریجنل بیوروز کو ہدایت کی کہ وہ زیرسماعت کرپشن ریفرنسز کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے قابل احترام احتساب عدالتوں میں درخواستیں دائر کریں۔

چیئرمین نیب

مزید :

صفحہ آخر -