کراچی، 4ماہ سے شادی ہالز کی بندش کیخلاف ویٹرز، کیٹرنگ ورکرز کا احتجاج

کراچی، 4ماہ سے شادی ہالز کی بندش کیخلاف ویٹرز، کیٹرنگ ورکرز کا احتجاج

  

کراچی(این این آئی)کورونا کی وبا کی روک تھام کے لیے شادی ہالز کی بندش کے باعث گزشتہ چار ماہ سے بے روزگاری کا شکار ویٹرز، کیٹرنگ سروس کا کاروبا رکرنے والوں اور شادی ہالز مالکان سمیت شادی بیاہ سے وابستہ شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں ورکرز نے اتوار کو فائیو سٹار چورنگی کے قریب مین روڈ پر احتجاج کیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ شادی ہالز میں یومیہ اجرت کمانے والے ہزاروں مزدور، کیٹرنگ اور ڈیکوریشن کا کاروبار کرنیو الے افراد، لائٹ سانڈ، فوٹو گرافرز، عروسی ملبوسات بنانے والوں سمیت لاکھوں گھرانوں کو فاقہ کشی کا سامنا ہے۔ احتجاجی مظاہرین نے بے روزگاری اور فاقہ کشی تک نوبت آنے پر علامتی خود کشی اور جنازہ سڑک پر رکھ کر احتجا ج کیا۔ مظاہرین نے اعلان کیا کہ اگر سندھ حکومت نے تین جولائی تک شادی ہالز پر عائد پابندی کا فیصلہ واپس نہ لیا اور شادی ہالز کو احتیاطی تدابیر کے ساتھ کام کرنے کی اجازت نہ ملی تو بے روزگاری کا شکار ورکرز اور مزدور از خود 4جولائی سے شادی ہالز کھول دیں گے۔ مظاہرین کا کہنا تھاکہ ہر گزرنے روز ان کی زندگی بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے، شادی ہالز مالکان کا کہنا تھا کہ اپنی جمع پونجی سے اب تک مزدوروں اور ویٹرز کو تنخواہیں دیتے رہے لیکن اب خود اپنا گزربسر مشکل ہوچکا ہے۔شادی ہالز کو احتیاط کے ساتھ کھولنے کا عملی مظاہرہ کرچکے ہیں۔ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے ارکان صوبائی اسمبلی راجہ اظہراور ڈاکٹر عمران علی شاہ نے بھی احتجاجی مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے مظاہرے میں شرکت کی۔ ارکان سندھ اسمبلی کا کہنا تھاکہ وزیر اعظم عمران خان کی پہلے روز سے یہ ترجیح ہے کہ دیہاڑی دار طبقے کا روزگار متاثر نہ ہو اور اسی لیے اسمارٹ لاک ڈان پر زور دیتے رہے۔ انہوں نے شادی ہالز کی بندش سے متاثرہ مزدوروں اور بے روزگار افراد کے حق کے لیے سندھ اسمبلی میں آواز اٹھانے کی بھی یقین دہانی کرائی۔

شادی ہالز ورکر احتجاج

مزید :

صفحہ آخر -