عالمی وباء کرونا کے خلاف جنگ پولیس کی خدمات کسی سے کم نہیں!

عالمی وباء کرونا کے خلاف جنگ پولیس کی خدمات کسی سے کم نہیں!

  

دنیا بھر میں گوریلا جنگ معمول کی جھڑپوں سے زیادہ خطرناک سمجھی جاتی ہے۔ مدمقابل دشمن تعداد میں زیادہ ہو تب بھی چھپے ہوئے دشمن سے کم خطرناک ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں فدائی اور خودکش حملوں کا خوف عام حملے سے زیادہ رہا ہے۔ اس کی وجہ دشمن کا خوف نہیں بلکہ ایسے ان دیکھے دشمن کا خوف ہے جو بے خبری میں اپنا نشانہ بناتا ہے۔ پاکستان ان دنوں ایسی ہی ایک جنگ سے نبردآزما ہے۔ یہ جنگ ہمارے گلی محلوں اور ہسپتال میں لڑی جا رہی ہے۔ کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف کو سراہا جا رہا ہے اور یقینا اس میں دو رائے نہیں کہ ہمارے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف جس طرح اس وبا کے خلاف کھڑے ہیں وہ قابل تعریف ہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ ہم اس وقت اس وبا کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والے ایک ایسے ادارے کی خدمات کو فراموش کر رہے ہیں جو سب سے زیادہ داد کا مستحق ہے۔ پنجاب پولیس نے جس طرح کرونا کے خلاف اپنا کردار ادا کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اگر ہم تقابل کریں توپولیس کے حالات ڈاکٹرز کی نسبت انتہائی سنگین ہیں۔ ڈاکٹرز کا کام ہی مریضوں کا علاج اور وائرس کا مقابلہ کرنا ہے۔ اسی طرح ڈاکٹرز تمام تر حفاظتی تدابیر کے ساتھ میدان عمل میں اترتے ہیں۔ انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پاس آنے والا شخص مشتبہ یا کنفرم کورونا کا مریض ہے لہٰذا وہ اس کی مناسبت سے احتیاطی تدابیر کو اپنا کر مریضوں کا سامنا کرتے ہیں۔ بہت سے ڈاکٹر تو اب آن لائن بھی علاج کر رہے ہیں یا شیشے کی دیوار کے پیچھے سے مریض دیکھ رہے ہیں۔ یہ تمام احتیاطی تدابیر بہت ضروری ہیں اور ان اقدامات کو سراہنا چاہئے لیکن دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ پولیس اہلکار مجرموں کے خلاف کردار ادا کرتے ہیں لیکن اب ایک وائرس کے خلاف بھی متحرک ہیں۔ یہ اہلکار ناکوں، لاک ڈاون ڈیوٹیز، قرنطینہ سینٹرز، ہسپتالوں اور دیگر اہم مقامات پر کورونا ڈیوٹیز سر انجام دے رہے ہیں۔ انہیں دوران ڈیوٹی ہر طرح کے شخص کا واسطہ پڑتا ہے۔ یہ حکومتی ایس او پیز پر عمل نہ کرنے والوں کو بھی روک رہے ہیں۔ ڈاکٹرز کو ملنے والے مریض کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ مشتبہ یا کنفرم مریض ہے لیکن پولیس اہلکار جسے روکتے ہیں اس کے بارے میں نہ ان اہلکاروں کو علم ہوتا ہے اور نہ ہی اس شہری کو علم ہوتا ہے کہ وہ مریض ہے یا نہیں۔ زیادہ تر شہری تو اسی خود اعتمادی کا شکار ہو کر ایس او پیز پر بھی عمل نہیں کر رہے ہوتے۔ پولیس کے لئے یہ جنگ گوریلا جنگ کے مترادف ہے۔ ڈاکٹرز کو معلوم ہے کہ انہیں وائرس کا شکار بننے سے بچنے کے لئے کس شخص سے کتنا بچنا ہے اور کیا احتیاطی تدابیر استعمال کرنی ہیں لیکن پولیس اہلکاروں کو سرے سے علم ہی نہیں کہ ان سے ملنے والا کونسا شخص وائرس کیریئر ہے اور کون محفوظ ہے۔ اس کے باوجود یہ اہلکار اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ان کا جذبہ حب الوطنی دیکھئے کہ جو پولیس اہلکار کورونا سے صحت یاب ہوئے وہ سبھی اگلے روز اپنی ڈیوٹی پر پہنچ گئے۔ ہمیں یہاں یہ بھی دیکھنا ہے کہ کورونا ڈیوٹیز پولیس پر اضافی ڈیوٹی ہے۔ پولیس کی نفری کرائم فائٹنگ کے لئے بھی کم تھی لیکن اب اسی پولیس فورس کی بڑی تعداد کورونا ڈیوٹیز بھی سر انجام دے رہی ہے اور کرائم فائٹنگ میں بھی مصروف عمل ہے۔ اس لحاظ سے پولیس اس وقت دو دہاری تلوار پر چل کرر دونوں محاذوں پر فرائض سر انجام دے رہی ہے۔ یہ سب موجودہ آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کی قیادت کا کمال ہے جو اپنی سروس کے آخری حصہ میں اپنے تجربات اپنی فورس تک منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ جواں مردی سے ہر محاذ پر اپنی فورس کے ساتھ کھڑے ہیں جس سے پولیس فورس کا مورال بلند ہو رہا ہے۔ انہوں نے 59 سال سے زائد عمر ہونے کے باوجود تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کے لئے لگائے گئے پولیس کیمپ میں اپنے خون کا عطیہ بھی دیا جس پر پولیس فورس نے بھی خون کے عطیات کا ڈھیر لگا دیا۔ انہیں یہ کریڈیٹ بھی جاتا ہے کہ جب پاکستان میں کورونا اور پھر لاک ڈاون کی بات ہوئی تو بطور آئی جی پنجاب سب سے پہلے انہوں نے ہی پولیس فورس کی جانب سے دیہاڑی دار طبقہ کے لئے پولیس فنڈ قائم کیا لہٰذا جب وزیر اعظم پاکستان نے دیہاڑی دار طبقے کے لئے فنڈز کا اعلان کیا اس وقت پنجاب پولیس بڑی تعداد میں فنڈز اکٹھے کر چکی تھی اور یوں پنجاب پولیس پہلا سرکاری ادارہ تھا جس نے سب سے پہلے امداد دی۔ اب بھی کورونا کے محاذ پر آئی جی پنجاب انتہائی متحرک نظر آتے ہیں۔ انہوں نے اپنی عمر اور کورونا کی خطرناکیوں کو بنیاد بنا کر ایک دن بھی چھٹی نہیں کی بلکہ پہلے سے زیادہ فیلڈ میں نظر آنے لگے۔ یہی کمانڈ ہے جس کی وجہ سے پولیس نے جہاں کرونا کے محاذ پر اپنی صلاحیتوں کو منوایا وہیں کرائم کنٹرول کے حوالے سے بھی 2020 میں پچھلے سال کی نسبت زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اگر مختصر جائزہ لیں تو ریکارڈ کے مطابق رواں برس آئی جی پی کمپلینٹ سیل 8787 پر درج کروائی گئی زیر التوا شکایات کی شرح میں گزشتہ برس کی نسبت 45 فیصد کمی آئی ہے یعنی عوام کے مسائل تیزی سے حل ہو رہے ہیں جبکہ لوگوں کی انگیجمنٹ کی ریشو پچھلے سال کی نسبت 34 فیصد زیادہ ہوئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگوں کا 8787 کمپلینٹ سیل پر اعتماد بڑھا ہے۔ دوسری جانب مختلف ایجنسیز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رپورٹس کے مطابق پنجاب میں 336 جوئے خانے تھے جن میں سے 311 جوئے خانوں کے خلاف پولیس نے بھرپور کاروائی کی جبکہ باقی جوئے خانوں کے مالکان اپنے اڈے بند کر کے مفرور ہو گئے۔ اسی طرح صوبہ بھر میں 494 منشیات فروشوں کی نشاندہی کی گئی تھی جن میں سے 419 کو گرفتار کر لیا گیا اور باقیوں کے خلاف کاروائی کا سلسلہ جاری ہے۔ آئی جی پنجاب نے صوبہ کے تمام اضلاع سے ٹاپ ٹیب بدمعاشوں کی فہرست تیار کر کے ان کے خلاف ایکشن لیا جس کے نتیجے میں 373 بدمعاشوں میں سے 300ٹاپ بدمعاش گرفتار ہو چکے ہیں اسی طرح 2019 میں ڈاکووں کے 13 سو گینگز گرفتار کئے گئے تھے جبکہ رواں برس اب تک 1550 گینگز کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور رواں برس قبضہ مافیا کے خلاف بھی 450 سے زائد مقدمات درج کر کے قانونی کاروائی کی گئی ہے۔ اس سال پنجاب پولیس نے 5853 ملین سے زائد مال مسروقہ بھی ڈاکووں سے برآمد کر کے اصل مالکان کے سپرد کیا جبکہ ایک اہم مسئلہ اغوا برائے تاوان کی بڑھتی وارداتوں کا بھی تھا جس کے خلاف بھرپور ایکشن لیا گیا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ پنجاب میں 2019 میں اغوا برائے تاوان کے26 کیسز رجسٹر ہوئے جبکہ 2020 میں 15 کیسز رجسٹر ہوئے اور ان تمام کیسز کے مجرم ٹریس کر لئے گئے۔ اغوا برائے تاوان کے واقعات میں بھی رواں برس 58 فیصد کمی آئی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ سب آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کی لیڈرشپ کا کمال ہے کہ انہوں نے اپنے ادارے کو پاکستان کا مثالی ادارہ بنا دیا ہے۔ پنجاب پولیس نے نہ صرف جرائم کے خلاف ماضی کی نسبت کئی گنا بہتر نتائج حاصل کئے بلکہ محدود وسائل اور کم نفری کے باوجود کورونا کے خلاف بھی اپنے آپ کو منوایا اور قربانیاں دینے کے باوجود پیچھے نہ ہٹی۔ اگر موجودہ حالات میں پاکستان کے کسی ادارے کو بہترین ادارہ قرار دیا جا سکتا ہے تو وہ پنجاب پولیس ہی ہے۔ ہم نے اگر آج بھی ان لوگوں کو نہ سراہا تو پھر شاید تاریخ میں ہمارا شمار بھی قومی مجرم کے طور پر ہوگا۔ ہمیں اس وقت ان کا حوصلہ بننا ہے جو وبا کے دنوں میں پورے صوبے کا حوصلہ بنے ہوئے ہیں۔ آخر میں بات کرت چلیں لاہور پولیس کی خدمات کی ڈی آئی جی آپریشن اشفاق احمد خان،ایس ایس پی ایڈمن لیا قت علی ملک اور ایس ایس پی آپریشن فیصل شہزاد جو کہ تینوں کرونا کا شکار ہونے کے باعث قرنطینہ میں جانے کے بعد الحمد للہ واپس آکر سب نے اپنی اپنی زمہ داریاں سنبھال لی ہیں ایسے حالات میں جب ملک بھر بالخصوص پنجاب میں کرونا کے مریضوں میں دن بدن اضافہ بھی ہو رہا ہے خدمات سر انجام دینا قابل ستائش ہے لاہور میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اشفاق احمد خان کو دوبارہ ڈی آئی جی آپریشن لاہور تعینات کیا گیا ہے اس سے پہلی تعیناتی میں بھی اشفاق احمد خان نے لاہور میں مثالی کام کیا اور اپنی سات ماہ کی تعیناتی میں انھوں نے دن رات ایک کر کے ریکارڈ کامیا بیاں حا صل کر کے فورس کے مورال اپ گریڈکیا تھا ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے سینئرکا احترام کرتے ہیں اور کوارڈی نیشن پر یقین رکھتے ہیں،کام کے دوران وہ اپنی صحت کی بھی پرواہ نہیں کرتے کسی سینئرکو بائی پاس کرنا ان کی عادت میں شامل نہیں اگر تو ان کے اس پاس کا خیال رکھا جائے تو سب کام بخوبی اور خیروعافیت سے انجام پاتے ہیں ورنہ بائی کا مطلب ٹیم ناکام ہو جاتی ہے اس وقت لاہور پولیس بالخصوص سی سی پی او لا ہور کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا ہوا ہے، لا ہور پولیس اب اگرشہر میں امن قائم کر نے میں کامیا ب ہوتی ہے تو یہ اشفاق احمد خان کی محنت، محب الوطنی اور محنت کا نتیجہ ہو گا، پہلی تعیناتی کے دوران اشفاق احمد خان کو سابق آئی جی پولیس کیپٹن ریٹائرڈ عارف نوازلاہورمیں بہتری کی غرض سے لائے تھے اب انھیں وزیر اعلی پنجاب لے کر آئے ہیں۔ میں عرض کرتا چلوں اس وقت صوبہ بھر کی پولیس سخت گروپنگ کا شکا ر ہے وزیر اعلی پنجاب کو چاہیے کہ وہ پہلے کی طرح دوبارہ اپنی ٹیم تشکیل دیں لاہور میں ایڈیشنل آئی جی عہدے کے افسر کو بطور سی سی پی او تعینات کریں اور ایک ایسی ٹیم پنجاب بھر میں تشکیل دیں جو ان کی اپنی تعینات کی گئی ہو افسرن بالا پر لگے اس لیبل کو ختم کیا جائے کہ فلاں وزیر اعلی کی لابی کا ہے اور فلاں آئی جی پولیس کی لابی کا ہے پارلیمنٹ نے صوبے میں اختیارات کا مرکز وزیر اعلی کا دفتر قرار دیا ہے تو سب اداروں کو اس کے تقد س اور طاقت کا احترام کر نا چاہیے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -