شیخوپورہ میں ڈکیتی کے دوران قتل ڈاکو ڈرامائی انداز میں گرفتار

شیخوپورہ میں ڈکیتی کے دوران قتل ڈاکو ڈرامائی انداز میں گرفتار

  

7جنوری 2020کا دن حافظ آباد روڈ کے قدیمی قصبہ جھبراں کے ایک رہائشی خاندان کیلئے نہایت بدقسمت ثابت ہوا جن کے ہاں ڈاکوؤں نے لوٹ مار کی واردات کی اورنہ صرف گھر سے لاکھوں روپے نقدی اور طلائی زیورات سمیت دیگر قیمتی سامان لوٹ لیا بلکہ معمولی مزاحمت پر فائرنگ کرکے اس گھرانے کے جواں سالہ فرد کو موت کے گھاٹ بھی اتار دیا، خونی ڈکیتی کی اس واردات نے جہاں تاجر سیٹھ مشتاق کو جواں سالہ بیٹے علی رضا کے قتل کی صورت میں کبھی بھلا نہ پانے والے سانحہ سے دوچار کیا وہاں اہلیان دیہہ کو بھی شدید خوف اور کرب میں مبتلا کرکے رکھ دیا مقامی رہائشی خود کو نہایت غیر محفوظ خیال کرنے لگے گھروں سے نکلنا تک خطرے سے خالی نہ سمجھا جانے لگا، سرشام گھروں میں دبک کر بیٹھنے لگے حتیٰ کہ علاقہ میں لاک ڈاؤن کی سی صورتحال پیدا ہوتی دکھائی دینے لگی، بعض افراد نے باہمی مشاورت سے علاقہ کی از خود سکیورٹی کیلئے بھی پلان بنایا جس پر عملدر آمد بھی کسی حد تک شروع کردیا گیا تاہم نوجوان علی رضا کے قاتلوں کی گرفتاری بدستور معمہ بنی ہوئی تھی جس کے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ ایک طرف متاثرہ خاندان کررہا تھا تو دوسری طرف اہلیان دیہہ بھی یہ مطالبہ بار بار دھرا رہے تھے اسی مطالبہ کو منوانے اور متاثرہ خاندان سے اظہار یک جہتی کیلئے مقامی رہائشیوں نے شدید احتجاج کیا اور حافظ آباد روڈ کو دن بھر بند رکھا جبکہ اس احتجاج میں بعض سیاسی شخصیات بھی شامل ہوئیں جنہوں نے متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی میں بھرپور ساتھ دینے کی عزم کااظہار کیا تاہم متاثرہ فیملی اور اہل علاقہ اپنے مطالبہ پر قائم رہے اور آئی جی پنجاب پولیس اور آر پی او شیخوپورہ کی ہدایت پر خود ڈی پی او شیخوپورہ غازی صلاح الدین نے موقع پر پہنچ کر ملزمان کی جلدسے جلد گرفتاری کی متاثرہ خاندان کو یقین دھانی کروائی جس پر احتجاج ختم کردیا گیا جس کے بعد ڈی پی او غازی محمد صلاح الدین نے تھانہ صدر پولیس کو خونی ڈکیتی کی بہیمانہ واردات کے ملزمان کی جلد سے جلد گرفتاری یقینی بنانے اور اسکی خاطر تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ڈی پی او شیخوپورہ نے ڈی ایس پی سٹی میاں خالد محمود کو بھی پولیس کاروائیوں اور ان کے نتیجہ میں ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے ہونے والی ہر پیش رفت سے فوری آگاہ کرنے کی ذمہ داری دی جنہوں نے ایس ایچ او تھانہ صدر فیصل عباس چدھڑ و انچارج ہومی سائیڈ ظفر فرید اور ای ایس آئی نوید ڈھلوں سمیت تھانہ کے دیگر پولیس افسران سے میٹنگ کرکے موثر لائحہ عمل مرتب کیا اور مختلف ٹیمیں تشکیل دیکر انہیں کاروائی کا ٹاسک دیا جنہوں نے اس واردات پر خصوصی توجہ دی اور تمام محرکات کو سامنے رکھتے ہوئے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کیا بالآخر ایس ایچ او تھانہ صدر فیصل عباس چدھڑ و انچارج، انچارج ہومی سائیڈ ظفر فرید کی سربراہی میں سائینٹیفک بنیادوں پر کام کرنیوالی پولیس ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے سی ڈی آر اور فون آئی ڈی کے تحت ملزمان کا سراغ لگالیا اور تمام کاروائی سے ڈی پی او غازی صلاح الدین، ڈی ایس پی سٹی میاں خالد محمود کو فوری آگاہ کیا جس کے بعد ڈی پی او غازی محمد صلاح الدین نے مذکورہ پولیس افسران سے میٹنگ کی جس میں ملزمان تک رسائی کا مربوط لائحہ عمل مرتب کیا گیا اگلے ہی روز پولیس کی خفیہ ٹیموں نے ملزمان کو ٹریس کرکے ان پر نظر رکھنا شروع کردی اور حالات سازگار دیکھتے ہوئے پولیس نے ملزمان کو لاہور سے گرفتار کرلیا، گرفتار ہونیوالے ڈاکوؤں کو تھانہ صدر شیخوپورہ لاکر تفتیش کی گئی تو اس خطرناک ڈکیت گینگ نے نہ صرف نوجوان علی رضا کے قتل کا اعتراف کیا بلکہ جرائم کی دیگر درجنوں وارداتوں کا بھی اعتراف کیا جن کی تفصیل ڈی پی او شیخوپورہ غازی محمد صلاح الدین نے پریس کانفرنس میں بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ پکڑے جانیوالے ملزمان کا تعلق سلیم عرف سیموں ڈکیت گینگ سے ہے جس کے سرغنہ سلیم عرف موٹا سمیت پانچ ارکان کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ ملزمان کا ایک مین ساتھی انکی اپنی ہی فائرنگ کی زد میں آکر ہلاک ہوچکا ہے اس بین الاضلائی ڈکیت گینگ کے ارکان لاہور کے رہائشی ہیں اور شیخوپورہ سمیت لاہور، فیصل آباد اور قصور کی پولیس کو مختلف مقدمات میں مطلوب ہیں یہ ریکارڈ یافتہ ملزمان ایک ضلع میں وارداتیں کرکے کچھ عرصہ کیلئے کسی دوسرے ضلع میں روپوش ہوجاتے اور پھر سے منظم اور مسلح ہو کر ڈکیتی و راہزنی کی وارداتیں انجام دیتے تھے ملزمان سے بھاری مقدار میں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے، ڈی پی اوغازی محمد صلاح الدین نے بتایا کہ اس ڈکیت گینگ نے امسال 7جنوری کو جھبراں کے تاجر سیٹھ مشتاق کے جواں سالہ بیٹے علی رضا کو دوران ڈکیتی قتل کیا جس کا مقدمہ تھانہ صدر شیخوپورہ میں درج کیا گیا یہ گینگ سات افراد پر مشتمل تھا جس میں ان کا ایک مین ساتھی ہلاک ہو چکا ہے پانچ گرفتار ہیں اور ان کا ایک ساتھی فرارہے جس کی تلاش کیلئے پولیس چھاپے ماررہی ہے اس ڈکیت گینگ کے ارکان واردات سے قبل ریکی کرتے اور بعد میں رینٹ پر گاڑی لے کر جائے واردات پر پہنچے یہ اسلحہ کے زور پر گھروں اور دکانوں میں داخل ہوتے اور لوگوں کو یرغمال بناکر لوٹ مار کرتے جبکہ حراساں کرنے کیلئے فائرنگ بھی کرتے اس کے علاوہ اس گینگ نے دوران تفتیش نہ صرف ضلع شیخوپورہ کے مختلف علاقوں میں وار داتیں کر نے بلکہ دیگر اضلاع میں بھی ڈکیتی و راہزنی کی وارداتوں کے ارتکاب کا انکشاف کیا ہے جن سے تفتیش جاری ہے۔

قارئین!جواں سالہ بیٹے کو کھونے والے تاجر مشتاق احمد کے اہلخانہ کو یقینا بیٹے کی جدائی کا صدمہ کبھی نہیں بھولے گا مگر ملزمان کی گرفتاری سے انہیں کچھ قرار ضرور حاصل ہوا ہے جنہوں نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شیخوپورہ غازی محمد صلاح الدین، ڈی ایس پی سٹی سرکل میا ں خالد محمود، ایس ایچ او تھانہ صدر شیخوپورہ فیصل عباس چدھڑاور انچارج ہومی سائیڈ ظفرفرید اور انکی ٹیم سے ملاقات کرکے انکا شکریہ ادا کیا اور ملزمان کو قرار واقعی عبرتناک سزا دلوانے کی اپیل کی تاکہ انکا حشر دیکھ کر آئندہ کوئی ایسے سنگین جرائم کے ارتکاب کی جرات نہ کرسکے جبکہ شہری حلقوں نے مذکورہ ڈکیت گینگ کی گرفتاری پرایس ایچ او تھانہ صدر شیخوپورہ فیصل عباس چدھڑ اورانچارج ہومی سائیڈ ظفر فرید کی کاوشوں اور انتھک محنت کو سراہتے ہوئے انہیں بھرپورخراج تحسین پیش کیا ہے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -