پیپلز پارٹی نے ووٹ نہ دینے پر کراچی کو کچرا کنڈی بنا دیا ہے: حلیم عادل شیخ

  پیپلز پارٹی نے ووٹ نہ دینے پر کراچی کو کچرا کنڈی بنا دیا ہے: حلیم عادل شیخ

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی نائب صدر و سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈرحلیم عادل شیخ نے کہاہے کہ پیپلزپارٹی نے کراچی کو کچرا کنڈی بنادیاہے،کراچی کو ووٹ نہ دینے کی سزا دی جارہی ہے،لاڑکانہ تک کو پیپلز ہارٹی نے نہیں بخشا وہاں کی عوام نے تو پیپلزپارٹی کو ووٹ دیئے پھر لاڑکانہ کو کیوں سہولیات نہیں دی گئیں، وزیراعلیٰ سندھ کہتے ہیں کہ کے فور منصوبہ وزیر اعظم نے بند کرادیا۔کے فور میں اربوں کی کرپشن کی گئی،کے فور سندھ حکومت نے رکوایا،75ارب میں کے فور تیار ہوسکتا ہے لیکن مکمل نہیں کیا گیا،کراچی میں کربلا جیسا ماحول پیدا کر دیا گیا عوام پانی کی بوند بوند کو ترس رہی ہے،چار ماہ سے سندھ حکومت نے کے فور منصوبے کو کیبنٹ سے منظوری نہیں کروایا،ان لوگوں کو ڈوب مرجانا چاہیے جو کے فور کی رپورٹ کیبنٹ میں نہیں لیکر جاتے۔ان خیالات کا ظہار انہوں نے اتوارکوانصاف ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ سندھ کے سب بڑے شہر کراچی سے لیکر حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر، لاڑکانہ سمیت تمام سندھ کو تباہ کر دیا ہے۔ اربن علاقوں میں کوئی ترقیاتی اسکمیں نہیں رکھی گئیں ہیں۔ کراچی کے تین اسپتال ابتدا سے وفاق کے پاس تھے۔ 18 ترمیم کے بعد سندھ حکومت کے حوالے کئے گئے وفاق نے کبھی نہیں کہا پچاس سالوں کو ہم نے خرچہ کیا ہے سندھ حکومت وفاق کو ادا کرے۔ لیکن اب سندھ کے وزیر صاحبہ کہتی ہیں ہم نے ان اسپتالوں پر پئسا خرچ کیا ہے کیا یہ پئسا انہوں نے اومنی اکاؤنٹس سے خرچ کیا ہے یا زرداری کے اکاؤنٹس سے آیا ہے۔ یہ بھی عوام کا پئسا تھا عوام پر لگایا گیا ان لوگوں نے تو این آئی سی وی ڈی کو 16 ارب کا مقروض بنا دیا ہے۔ موجودہ سندھ بجیٹ میں کراچی کے لئے کوئی بھی میگا پروجیکٹ کے لئے رقم نہیں رکھی گئی ہے۔ سندھ کے عوام دشمن بجٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ 100 ارب روپے نان ڈویلپمنٹ اسکیموں پر رکھے گئے ہیں جس کے ذریعے کرپشن کی جائے گی۔ سی ایم ہاؤس کے اخراجات کو بڑھایا جائے گا ہیلیکاپٹر کے سفر میں اضافہ کیا جائے گا۔ سندھ کا بجٹ حکمرانوں کی عیاشی کا بجٹ ہے۔کراچی کے لئیے کچھ نہیں رکھا، 12سالوں کے بعد بھی سندھ حکومت نے کراچی میں ایک بھی بس نہیں چلائی نہ ہی ایک بوند پانی کے اضافے کا پروجیکٹ شروع کیا ہے۔ 95 فیصد ٹیکس کراچی سے ملتا ہے لیکن سندھ حکومت نے کراچی کے ساتھ دشمنی کا مظاہرہ کیا گیا بجٹ میں سی ایم ہاؤس کے خرچے بڑھا دئیے بجٹ میں عیاشی کے لئئے گاڑیاں اور ہیلی کاپٹر کا بجٹ رکھا گیا کراچی کے اسپتال میں کرپشن کی گئی۔ پینتیس کروڑ این آئی سی وی ڈی ملازمین کی تنخواہ جاتی ہے۔ ندیم قمر کی 65 لاکھ ماہوار تنخوا ہے۔ پیپلز پارٹی والے کون ہوتے ہیں سندھ کے باسیوں کو رہاشی کا سرٹیفکٹ تقسیم کرنے والے سندھ میں رہنے والے ہر شہری سندھی ہے۔ سندھ اسمبلی میں سندھ کو لوٹنے والے کو تباہ برباد کرنے کی دعا کرائی تو پیپلز ہارٹی والے بھاگ گئیے دعا میں شامل نہیں ہوئے، قناصرو سسٹم نے موہنجو دڑو میں پچیس کروڑ کا ٹیکہ لگایا گیا سندھ کی ثقافت اجرک کی موئن جو دڑو میں بے حرمتی کی گئی. آثار قدیمہ کے نام پر اربوں کی کرپشن کی گئی، لاڑکانہ میں ایڈز پھیلا یا گیا۔ طیارے حادثے پر وزیر کو پھانسی دینے کی بات کرنے والے کراچی میں بلڈنگیں گرنے پر کیا ایکشن لیا۔؟ پی آئی اے میں پائلٹ کو جعلی لائنس پیپلز پارٹی کے دور میں دئیے گئیے تھے۔ اعجاز ہارون منی لانڈرنگ کرتا تھا اعجاز ہارون نے جعلی لائنسنس والے پائلٹ رکھے پیپلز پارٹی کی نفیسہ شاہ کے دو بہنوں نے پی آئی اے سے براہ راست فائدہ اٹھایا۔ نفیسہ شاہ کا خاندان پی آئی اے کا براہ راست بینی فشری ہے۔ پانی پر بھی کرپشن کی گئی۔ رتو ڈیرو میں پانی کی ٹنکی بنائی گئی مگر نلکوں سے آج تک پانی نہیں آیا۔ پیٹرول کی قیمت خطے میں اب بھی سب سے کم ہے پیٹرول کی قیمت پر بڑا سرکس لگایا گیا وفاق نے کراچی کو بارہ سو سے زائد ارب کا بجٹ دیا ہے۔ 67 ارب روپے مالیت کے سندھ کے 90 منصوبے وفاقی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہیں، وفاقی حکومت کے خلاف جس نے بھی تحریک چلانی ہے اپنا شوق پورا کرلے وفاق کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ سندھ حکومت کو گیس رائلٹی کی مد میں پچھلے10 سال میں وفاق نے332 ارب روپے دیے ہیں، مگر سندھ میں ایک بھی ماڈل ضلع نہیں بنایا جاسکا، سب سے زیادہ گیس پیدا کرنے والے ضلع گھوٹکی کی بھی حالت نہیں بدلی ہے۔ جب تک صوبائی سطح پر مالیاتی ایوارڈ کی تقسیم کا عمل شروع نہیں ہوگا سندھ میں ترقی نہیں ہوگی۔

مزید :

صفحہ آخر -