بجٹ 2020، تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے پر ملازمین اور پنشنر ز سراپا احتجاج

  بجٹ 2020، تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے پر ملازمین اور پنشنر ز سراپا احتجاج

  

صوابی(بیورورپورٹ)ضلع صوابی کے تمام سرکاری ملازمین اور پنشنرز نے وفاقی و صوبائی بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ کرنے کے خلاف احتجاج تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا اس سلسلے میں آل پاکستان پنشنرز ایسو سی ایشن ضلع صوابی کے قائم مقام صدر حاجی وارث خان، جنرل سیکرٹری فضل غنی اور دیگر نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر پنشن میں اضافہ نہ کرنا حکومت کی نا اہلی ہے۔ اور حکومت کا ملازمین اور پنشنرز کے ساتھ جانبدارانہ رویہ آفسوس ناک ہے۔ حکومت شروع ہی دنوں سے آئی ایم ایف کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق حکومت سرکاری ملازمین کی پنشن کی مدمیں ایک خطیر رقم 86ارب روپے خرچ کر تی ہے لہذا ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس رقم میں زیادہ تر حصہ پنشن یافتہ گریڈ سترہ سے اوپر سرکاری ملازمین وصول کر تے ہیں جب کہ یہی اوپر والے بیوروکریٹس دوران ملازمت اپنے لئے مراعات کی کوشش میں ہو تے ہیں۔ جب کہ غریب پنشن یافتہ طبقہ حکومت پر بوجھ سمجھتے ہیں اور پھر یہی بیوروکریٹس ریٹائرمنٹ کے بعد کسی ادارے کا سربراہ لگا دیا جاتا ہے جب کہ کم گریڈ والے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن قلیل ہونے کی وجہ سے جینا محال ہو تا ہے۔ بچوں کی تعلیمی اخراجات اور بیماری کی وجہ ادویات کا خرچہ برداشت سے باہر ہے۔ موجودہ حکومت ملکی امور چلانے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے جو دوسروں پر تنقید کر تے تھے آج ان سے خود سب بگڑ چکا ہے۔ ہر چیز میں بحران پیدا ہو گیا ہے کرکٹ میچ اور ملک چلانے میں بہت فرق ہو تا ہے ایسی ناکام حکومت پاکستان میں تاریخ میں پہلے کبھی نہیں آئی ہر مہینے کسی نہ کسی چیز کا بحران پیدا ہو جاتا ہے حکمران ہر وقت چندہ چندہ اور خیرات کی باتیں کر تے ہیں انہوں نے اپیل کی کہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کی پنشن میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے ورنہ پھر سڑکوں پر تادم مرگ احتجاج کرینگے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -