پولیس افسر کے ظلم سے چھٹکار دلایا جائے،عمر بیٹنی

پولیس افسر کے ظلم سے چھٹکار دلایا جائے،عمر بیٹنی

  

ٹانک(نمائندہ خصوصی)ایس ایچ او تھانہ سٹی انور خٹک اور اس کے ساتھ حوالدار فرید اللہ نے ہمیں سود کرنے پر مجبور کردیامیرے نوجوان بچوں کو پرائیویٹ سیلوں میں رکھ کر پیسوں کا مطالبہ کر رہے ہیں. اگر حکومت پاکستان اور ملکی ادارے ہمیں پاکستانی تصور کرتے ہیں تو خدارا ہمیں ایس ایچ او انور خٹک کے ظلم سے چھٹکارا دلائیں. ایک لاکھ روپے بھی رشوت کے طور پر دے دیئے لیکن اس کے باوجود بھی میرے ایک بیٹے اورنگزیب کو غائب کر دیا ہے. میرے ایک بیٹے کے دوران تشدد دو دانت اور ہاتھ توڑ دئیے ہیں. اپنے بیٹوں کی مشکلات کو برداشت نہیں کرسکتا اس کے باوجود مذید بھی دس ہزار روپے رشوت دینے کو تیار ہوگیا لیکن ایس ایچ او کی ہٹ دھرمی پچاس ہزار پر ہی اٹک گئی. ان خیالات کا اظہار عمر گل بیٹنی اور اسکے بوڑھے بزرگ باپ نے میڈیا نمائندوں کیساتھ گفتگو کے دوران کیا. ان کے والد نے کا کہنا تھا کہ اگر میں نے اور میرے بیٹوں نے کوئی جرم کیا ہء تو ہمیں عدالت میں پیش کریے اور اگر میرے بیٹوں سے سیکوئی ایسا خطرناک جرم سرزد ہوگیا ہو جس سے ہمارے پیارے ملک کو خطرہ ہو تو میرے دونوں بیٹوں کو سرعام گولی ماردے لیکن مزید ہم پیسے دینے کے قابل نہیں رہے کیونکہ اس مہنگائی کے دور میں ہم اپنے بچوں کو پالنے کیلئے پریشان ہیں. پہلے بھی ایک لاکھ روپے اپنے بچوں کی خاطر ایس ایچ او انور کو دینے کے لیئے سود پر لیئے ہیں جس کا سود ہم نے دوگنا ادا کرنا ہوگا. ان کا کہنا تھا کہ ہم روزانہ کی بنیاد پر دیہاڑی کرنے والے لوگ ہیں. دن کو کچھ کماتے ہیں تو ہی شام کا چولہا جلتا ہے. اج تک پورے خاندان میں اور علاقے میں ہم پر کوئی یہ بات ثابت نہیں کرسکتا کہ ہم نے کوئی غیر قانونی کام کیا ہو. اگر ایس ایچ او کے پاس ہمارے خاندان کے حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت ہے تو عدالت میں پیش کرے اور عوام کو بتائے. انھوں نے کہا انور خٹک نے ہم سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ اپ لوگوں کے بازار میں انے پر پابندی ہو گی. اگر ہم بازار نہ ائیں تو ہم مزدوری کہاں سے کرینگے. پاک ارمی اور دیگر ذمہ دار اداروں سے ہمارا مطالبہ ہے کہ اس واقع کی تحقیقات کی جائے اور ہمیں انصاف دلایا جائے.

مزید :

پشاورصفحہ آخر -