باڑہ،عرفان اللہ قتل کیخلاف احتجاجی دھرنا چھٹے روز بھی جاری

باڑہ،عرفان اللہ قتل کیخلاف احتجاجی دھرنا چھٹے روز بھی جاری

  

باڑہ(نمائندہ پاکستان) مبینہ سی ٹی ڈی مقابلے میں جاں بحق ہونے والے معلم عرفان اللہ کے قتل کے خلاف چھٹے روز باڑہ خیبر چوک میں احتجاجی دھرنا جاری رہا۔ دھرنے میں جمعیت علما اسلام کے ایم این اے مفتی عبدالشکور، ایم این اے جمال الدین، ممبر صوبائی اسمبلی شفیق آفریدی اور خیبر سیاسی اتحاد سے باڑہ کے مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین کے علاہ مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے شرکت کی۔ احتجاجی دھرنے میں ایم این اے علی وزیر اور منظور پشتون نے مقتول کی مغفرت کی دعا کیلئے شرکت کی۔ احتجاجی دھرنے میں مقررین نے کہا کہ سی ٹی ڈی جو کہ بے گناہ عوام کے قتل میں ملوث ہے کا خاتمہ کرکے اختیارات محدود کئے جائیں۔ مقررین نے کہا کہ انضمام کے باوجود قبائل عوام کے ساتھ پرانے فرسودہ نظام جیسے مظالم جاری ہیں انہوں نے کہا کہ ایک بے گناہ کو بغیر کسی جرم کے اٹھایا جاتا ہے اور کچھ دن بعد اسے مقابلے میں قتل کیا جاتا ہے جو غیر قانونی ہے اور ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں ملک میں اندھیر انگری چوپٹ راج کا قانون قائم ہے۔ مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مقتول کی جگہ ان کی بیوی یا خاندان کے کسی فرد کو اس پوسٹ پر تعینات کیا جائے اور واقعے کے خلاف جوڈیشنل انکوائری مقرر کرکے ان کے ورثا کو شہدا پیکیج دیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا قبائلی اضلاع بالخصوص خیبر میں دوسرے اضلاع کے پولیس کاروائیاں نہ کرے کیونکہ انضمام کے بعد مقامی پولیس کی موجودگی میں دوسرے اضلاع کے پولیس کی کوئی ضرورت نہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -