چارسدہ، اے ایس آئی خان ولی شاہ قتل کیس نے مبینہ طور پر نیا موڑاختیار کر لیا

  چارسدہ، اے ایس آئی خان ولی شاہ قتل کیس نے مبینہ طور پر نیا موڑاختیار کر لیا

  

چارسدہ (بیو رو رپورٹ) چارسدہ پولیس کے اے ایس آئی خان ولی شاہ قتل کیس نے مبینہ طور پر نیا موڑاختیار کر لیا۔ پولیس آفیسر پیٹی بند بھائی کی فائرنگ سے قتل ہوئے تھے جو جائے وقوعہ سے فرار ہو ئے تھے۔ پولیس نے تین سال بعد نیم پاگل شہری کو افتخار کو اے ایس آئی کے قتل کیس میں گرفتار کیا۔ گرفتار ملزم کا دماغی معائنہ کرایا جائے اگر پاگل نہ ہو تو پھانسی دی جائے۔ملزم کے بھائی سعدا للہ خان نے میڈیاکے سامنے اہم انکشافات کر دئیے جبکہ دوسری جانب ڈی ایس پی خالد خان نے گرفتاری کو قانونی قرار دیا۔ تفصیلات مطابق 24جون 2017کو تھانہ مندنی کے حدود سپلمئی میں پولیس چھاپے کے دوران اے ایس آئی خان ولی شاہ اور ایک شہری امتیاز فائرنگ کے نتیجے میں قتل ہو ئے تھے۔پولیس نے واقعہ کے حوالے سے باقاعدہ ایف آئی آر درج کی تھی اور مقتول امتیاز اور افتخار پسران محمد نبی کو اشتہاری ملزمان قرار دیکر کر پولیس چھاپے کو قانونی قرار دیا تھا۔ اس حوالے سے مقتول امتیاز کے بھائی سعد اللہ خان، والدہ مسماۃ کالدار زوجہ محمد نبی مرحوم،مقتول کے چچازاد بھائی سلیمان ولد گل محمد،علاقے کے امام مسجد مولوی ارشد اقبال ولد محمد اقبال اور مقتول کے رشتہ دار امجد علی ولد حبیب اللہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے پولیس پر سنگین الزامات لگا ئے اور کہا کہ گزشتہ دنوں مندنی پولیس نے نئے ڈی پی او چارسدہ محمد شعیب خان کو پراگرس دکھا نے کیلئے مقتول امتیاز کے مبینہ پاگل بھائی افتخار کو اے ایس آئی خان ولی شاہ قتل کیس میں گرفتار کیا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے مقتول امتیاز کے لواحقین اور پیش امام نے کہا کہ مقتول امتیاز کے ایک بھائی آیاز نے اپنے بھائیوں امتیاز اور افتخار کے خلاف تھانہ مندنی میں 506کا مقدمہ درج کیا تھا مگر بعد ازاں عمائدین علاقہ نے جرگہ کے ذریعے تنازعہ ختم کیا اور تحریری راضی نامہ لکھ کر جرگہ ممبران اور فریقین تھانہ مندنی گئے جہاں پولیس نے موقف اختیار کیا کہ چونکہ دو روز بعد عید الفطر ہے اس لئے عید کے بعد راضی نامہ اور چالان عدالت میں جمع کرینگے مگر اگلے روز عید سے ایک دن پہلے پولیس نے چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرکے لیڈیز پولیس کے بغیر امتیاز اور افتخار کے گھر پر چھاپہ مار کر فائرنگ کی۔انہوں نے انکشاف کیا کہ اے ایس آئی خان ولی شاہ کمرے کے چھت پر ایک پولیس اہلکار کی فائرنگ سے جاں بحق ہو ئے تھے۔پولیس اہلکار اپنی غلطی پر خواس باختہ ہوکر جائے وقوعہ سے بھا گ رہا تھا مگر خوف کی وجہ سے ان سے چلا نہیں جا رہا تھا اور راستے میں ان سے سرکاری کلاشنکوف بھی گر گیا تھا جو اہل علاقہ نے اُٹھا یا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ پولیس اہلکارخوف کی حالت میں ایک کھائی میں گرپڑ ے جس کو ایک شہری نے موٹر سائیکل پر بٹھا کر چھیل پولیس چوکی پہنچا یا۔ پریس کانفرنس میں مقتول امتیاز کے لواحقین نے یہ بھی انکشاف کیا کہ واقعہ کے وقت امتیاز نے پولیس کو خود گرفتاری پیش کی مگر ظالم پولیس اہلکاروں نے ا ے ایس آئی خان ولی شاہ کا بدلہ لینے کیلئے امتیاز کو گھر سے باہر نکال کر اہل محلہ کے سامنے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پولیس نے ماورائے عدالت قتل کے بعد مقتول امتیا ز کے دوسرے بھائی افتخار کو انسداد دہشت گردی کے دفعات سمیت اے ایس آئی خان ولی شاہ قتل کیس میں نامزد کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے گھر میں خون کی ہولی دیکھ کر مقتول امتیاز کا بھائی افتخار ذہنی توازن کھو بیٹھے اور گزشتہ تین سال سے وہ پاگلوں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کے بعد پولیس نے شہریوں کو غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنایا جس میں دل کے عارضہ میں مبتلا ایک بزرگ شہری بھی تھے جو واقعہ کے بعد اپنی بے عزتی اور بے توقیری کی ڈر سے گھر سے نہیں نکلتے تھے۔وہ اپنے اہل خانہ اور اہل محلہ کے عزت نفس کی پامالی بر داشت نہ کر سکے اور اس صدمے کی وجہ سے موت کی وادی میں چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ افسوسناک واقعہ کے بعد پولیس نے گھروں کی تلاشی شروع کی اور متعدد ریفل،نقدی اور گھریلو سامان بھی لے گئے جس کا ریکارڈ تھانے میں موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کے بعد محکمہ پولیس کو اپنی کلا شنکوف کی فکر نے پاگل کیا تھا اور پورے علاقے کو دھمکیاں دیتے رہے کہ کلاشنکوف واپس نہ کیا تو خواتین کی گرفتاری سے بھی دریغ نہیں کرینگے جس کے بعد جرگہ کے ذریعے سرکاری کلاشنکوف ڈی ایس پی سجاد خان کو حوالہ کیا گیا مگر انہوں نے لوگوں کا اسلحہ واپس کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ ایس ایچ او سلیم تیمور خان غائب کر چکے ہیں۔انہوں نے ملزم افتخار کی گرفتاری کو ڈرامہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ میرے بھائی افتخار کو پولیس نے چھ دن پہلے غائب کیا تھا جس کے بعد اسے اپنی کارکردگی کے طور پر میڈیا کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مندی پولیس نے نئے ڈی پی او محمد شعیب خان کو پراگرس دکھانے کیلئے پاگل افتخار کو گرفتار کیا گیا حالانکہ پولیس کو پہلے سے ان کی ذہنی حالت کا علم تھا اور آئے روز پولیس کے ساتھ ان کی ہنسی مذاق ہو تی تھی۔ اگر افتخار پاگل نہیں تو بے شک ان کو پھانسی دی جائے۔انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے واقعہ کے حوالے سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ دوسری طرف اس حوالے سے سرکل ڈی ایس پی خالد خان نے اپنے موقف میں کہا کہ ملزم افتخار اے ایس آئی خان ولی شاہ قتل کیس میں پولیس کو مطلوب تھے اور قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی گئی۔ ملزم کے ذہنی حالت کے حوالے سے ڈی ایس پی کا موقف تھا کہ عدالت پیشی اور جیل جانے سے پہلے ملزم افتخار کا باقاعدہ میڈیکل کرایا گیا اگر لواحقین کے اپنے تحفظات ہیں تو وہ عدالت سے رجوع کریں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -