آٹابحران، گندم سٹاک کرنیکا انکشاف مافیا پھرسرگرم، صورتحال سنگین

  آٹابحران، گندم سٹاک کرنیکا انکشاف مافیا پھرسرگرم، صورتحال سنگین

  

قصبہ کالا(نمائندہ پاکستان)کئی ماہ سے آٹے کا بحران موجود ہے جو کہ ابھی تک حل نہیں ہوسکا اور نہ ہی ذمہ داروں کو سزا مل سکی ہے پہلے آٹے کی قلت پیدا کی گئی اور اب 20 کلو (بقیہ نمبر36صفحہ6پر)

آٹے کے تھیلا کی قیمت ایک ہزار روپے تک پہنچ گئی آٹے کی قلت سے لے کر آٹے کی قیمتوں میں اضافہ تک حکومت کی ناقص پالسیاں سامنے آئی ہیں جس کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں آٹے کا ریٹ بڑھ جانے کی وجہ گندم مافیا ہے جس نے ہر ضلع میں سرکاری افسران کی پرواہ نہ کرتے ہوئے گندم ذخیرہ کرلی اور سرکاری افسران کسانوں زمینداروں اور گندم فروخت کرنے والے بیوپاریوں سے گندم باہر نہ نکلوا سکی اس میں کوئی شک نہیں کہ انتظامیہ سیپشل برانچ پولیس اور دوسرے خفیہ اداروں کی رپورٹس پر مختلف مقامات پر ذخیرہ کی گئی گندم کو قبضہ میں لے کر سرکاری گندم کے سنٹرز میں لے کر جاتی رہی ہے اور غلہ منڈیوں میں زیادہ مقدار میں پرائیویٹ گندم فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ذخیرہ اندزوں نے گندم چھپا لی کیوں کہ انھیں علم تھا کہ جب حکومت نے گندم خریداروں کا ہدف پورا کرلیا تو بعد میں انھیں پرائیویٹ گندم فروخت کرنے کی اجازت مل جائے گی اور وہ گندم کو زیادہ ریٹ میں فروخت کریں گے غلہ منڈیوں میں جو کا شتکار کسان گندم فروخت کرنے کے لیے لاتے ہیں وہ اپنے گھر کا خرچہ چلانے کے لیے غلہ منڈی کے آڑھیتوں سے ایڈوانس رقم لیتے ہیں تاکہ گھر کی ضرورت پوری کرسکیں۔اگر حکومت نے پرائیویٹ سیکٹر میں 1900 روپے تک گندم کا ریٹ بڑھانے والوں کو قابو نہ کیا اور فلور ملز کو گندم فراہم نہ کی گئی تو آنے والے دِنوں میں آٹے کی قیمت مزید بڑھ جائے گی جس کے ساتھ نان روٹی کی قیمت میں بھی اضافہ ہو جائے گا کیونکہ اس حکومت نے آٹے کے ریٹ مقرر نہیں کیئے اوپن مارکیٹ میں فلور ملز والے اور آٹا فروخت کرنے والے دوکاندروں نے اپنی مرضی کے مقرر کیئے ہوئے ہیں گندم مافیا ذخیرہ اندوزوں نے اپنی گندم سرکاری ریٹ 1400 روپے کی بجائے 1900 روپے تک فروخت کررہے ہیں اب وہ آئندہ سال بھی منافع کمانے کے لیے گندم ذخیرہ کرسکتے ہیں اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ گندم ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف ٹھوس منصوبہ بندی کرئے تاکہ آئندہ سال گندم کا ریٹ 1900روپے تک نہ بڑھ سکے۔

آٹان بحران

مزید :

ملتان صفحہ آخر -