خواجہ فرید یونیورسٹی میں میٹنگ کے دوران ملازمین پرحملہ

  خواجہ فرید یونیورسٹی میں میٹنگ کے دوران ملازمین پرحملہ

  

صاد ق آباد (نامہ نگار)خواجہ فرید یونیورسٹی رحیم یار خان کے جبری ریٹائر ملازمین پر آفت ٹوٹ پڑی، مقامی ہوٹل پر میٹنگ(بقیہ نمبر18صفحہ6پر)

کرنے والے ملازمین پر وائس چانسلر کے ساتھیوں محمد یاسر،مخدوم عباد سمیت درجنوں افراد نے حملہ کردیا، گھونسوں مکوں کی بارش کر دی تفصیل کے مطابق خواجہ فرید یونیورسٹی کی طرف سے حالیہ دنوں عرصہ پانچ سال تعینات 100کے قریب ملازمین کو جبری نکال دیا گیا ہے،یونیورسٹی کے اس اقدام کے خلاف یونیورسٹی سے نکالے گئے ملازمین اپنی بحالی کے مطالبات کے ساتھ سڑکوں پر ہیں، گذشتہ روز مقامی ہوٹل پر ملازمین اپنا اجلاس کر رہے تھے، کہ یونیورسٹی کے حاضر سروس ملازم جن میں سپورٹس آفیسر محمد یاسر، ٹرانسپورٹ آفیسر مخدوم عباد، ڈرائیور محمدقیصر،انٹرنل ایڈیٹر محمد عارف، اسٹنٹ آفیسر فرخ منصور جنجوعہ،بدر اسلام سمیت دیگر نامعلوم کے ہمراہ نے آکر دھاوا بول دیا،انہوں نے ملازمین کو تشدد نشانہ بناتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر انہوں نے احتجاج کا سلسلہ بند نہ کیا تو سب کو مقدمات میں گرفتار کروا دیا جائے گا، انہوں نے جام عبدالقادر کو تشدد کا نشانہ کئی گھنٹے حبس بے جا میں رکھا،موبائل سے ویڈیو ڈلیٹ کر دی، نوکری سے برطرف درجنوں ملازمین نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے خلاف پریس کلب صادق آباد کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کورونا کی وجہ سے حکومت کی طرف سے ملازمین کو نکالنے پر پابندی لگا رکھی ہے لیکن خواجہ فرید آئی ٹی اینڈ انجینئرنگ یونیورسٹی نے 100سے زائد ملازمین کو نکال کر ظلم کے پہاڑ توڑ ڈالے ہیں،عبدالقادر،عالم گیر نے بتایایا کہ نکالے گئے ملازمین کو چار ماہ سے تنخواہیں بھی نہیں دی گئی، درجہ چہارم کے ان ملازمین کے گھروں میں فاقے چل رہے ہیں، ملازمین اپنے مطالبات کے حق میں پچھلے رو روز سے سڑکوں پر ہیں، یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے احتجاج کرنے پر انتقامی دھمکیاں دی جارہی ہیں،گذشتہ روز جب جبری نکالے گئے ملازم مقامی ہوٹل میں اجلاس کر رہے تھے کہ وہاں پر خواجہ فرید یونیورسٹی کی سرکاری گاڑیوں میں سوار آفیسران اور چند نامعلوم افراد وہاں پر پہنچے تو انہوں نے آتے ہی گالم گلوچ کرتے ہوئے ہاتھاپائی شروع کر دی، اس دوران برطرف ملازمین نے بھاگ کر جان بچائی، اس ظلم و زیادتی کے خلاف برطرف ملازمین نے گورنرپنجاب، وزیراعلیٰ پنجاب،ڈی پی او رحیم یار خان سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

حملہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -