چین نے لداخ میں مزید 3اہم مقامات پر قبضہ کر لیا، 2بھارتی فوجی ہلاک،پاکستان نے ایل او سی پر ایک اور انڈین جاسوس ڈرون مار گرایا

چین نے لداخ میں مزید 3اہم مقامات پر قبضہ کر لیا، 2بھارتی فوجی ہلاک،پاکستان نے ...

  

بیجنگ، نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)لداخ میں بھارت کو مسلسل پریشانیوں کا سامنا ہے، چین نے ایل اے سی پر مزید تین سٹریٹجک پوزیشنز پر کنٹرول حاصل کرلیا جس میں دولت بیگ اولڈی، گلوان ویلی کے اہم حصے شامل ہیں، بھارتی فوج پینگانگ میں فنگرٹو تک محدود ہو کر رہ گئی۔چینی فوج نے علاقے میں مشقیں بھی شروع کر دیں، لداخ میں مزید دو بھارتی فوجی مارے گئے، بین الاقوامی میڈیا کے مطابق چین نے15 جون سے پہلے علاقے میں اپنے فوجیوں کی ٹریننگ کے لیے مارشل آرٹ کے 20 ٹرینرز بھیجے تھے۔1996 میں ہونے والے معاہدے کے مطابق دونوں ممالک علاقے میں بندوق اور آتشی مواد نہیں رکھ سکتے۔ دوسری جانب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ہمالیائی سرحد پر چینکے ساتھ کشیدگی کے بارے میں کہا کہ لداخ میں بھارت کی سرزمین پر آنکھ اٹھا کر دیکھنے والوں کو سخت جواب دیا جائے گا۔ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ ’لداخ میں بھارتی حدود پر نظر رکھنے والوں کو کرارا جواب دے دیا گیا ہے‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’اگر بھارت دوستی نبھانا جانتا ہے تو وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا اور مناسب جواب دینا بھی جانتا ہے‘۔تاہم بھارتی وزیر اعظم نے اپنے بیان میں چین کا نام نہیں لیا۔ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے بہادر فوجیوں نے یہ دکھا دیا کہ وہ کبھی بھی بھارت کی شان پر آنچ نہیں آنے دیں گے، بھارت ہلاک ہونے والے بہادروں کو سلام پیش کرتا ہے، انہوں نے ہمیشہ بھارت کو محفوظ رکھا اور ان کی قربانی کو یاد رکھا جائے گا‘۔واضح رہے کہ بھارت اور چین کے فوجیوں کے مابین 15 جون کو ہونے والے تصادم میں 20 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔امریکا کی خلائی ٹیکنالوجی کمپنی میکسار ٹیکنالوجیز کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں دکھایا گیا تھا کہ وادی گلوان کے ساتھ چینی تنصیبات نظر آرہی ہیں۔آسٹریلیا کے اسٹریٹجک پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے مصنوعی سیارہ ڈیٹا کے ماہر نیتھن روسر نے کہا تھا کہ اس تعمیر سے پتا چلتا ہے کہ کشیدگی میں کمی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ماہرین کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست جنگ کے امکانات انتہائی کم ہیں البتہ کشیدگی میں کمی میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

بھارت چین کشیدگی

راولپنڈی(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) پاک فوج نے ایک اور بھارتی جاسوس ڈرون مار گرایا ہے۔ کواڈ کاپٹر ایل او سی کے تتہ پانی سیکٹر میں آٹھ سو پچاس میٹر پاکستانی حدود میں آگیا تھا۔آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے اپنی ٹویٹ میں بتایا ہے کہ پاک فوج نے رواں سال 9واں بھارتی کواڈ کاپٹر مار گرایا ہے۔ حالیہ تباہ ہونے والا بھارتی کواڈ کاپٹر ایل اوسی سے 850 میٹر پاکستانی حدود میں داخل ہوا تھا۔ بھارتی جاسوس ڈرون ایل او سی کے تتہ پانی سیکٹر میں گرایا گیا۔خیال رہے کہ پانچ جون کو بھی پاک فوج نے ایل او سی کے خنجر سیکٹر میں بھارتی کواڈ کاپٹر کو مار گرایا تھا۔ یہ جاسوس کواڈ کاپٹر 500 میٹر تک پاکستانی حدود میں داخل ہوا تھا۔اس سے قبل پاک فوج نے لائن آف کنٹرول کے علاقے رکھ چکری سیکٹر میں انڈین ڈرون کو تباہ کیا تھا۔ یہ بھارتی کواڈ کاپٹر جاسوسی کے لیے پاکستانی حدود میں 650 میٹر تک گھس آیا تھا۔یاد رہے کہ گزشتہ سال پاک فوج نے بھارت کے 3 ڈرون مار گرائے تھے، اس میں پہلا کواڈ کاپٹر سال کے پہلے دن یعنی یکم جنوری کو باغ سیکٹر میں گرایا گیا تھا۔بعد ازاں ایک روز بعد ہی بھارت نے دوبارہ پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی تھی جسے پاک فوج نے ناکام بناتے ہوئے ستوال سیکٹر میں جاسوس ڈرون مار گرایا تھا۔علاوہ ازیں فروری میں پلوامہ واقعے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کشیدہ اور فضائی جھڑپ بھی ہوئی تھی جس کے کچھ روز بعد بھارت کا ایک جاسوس ڈرون پاکستانی حدود میں 150 میٹر گھس آیا تھا جسے ایل او سی کے رکھ چکری سیکٹر میں گرادیا گیا تھاکہ عمران خان نے اگست 2018ء میں وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد بھارت کے ساتھ دو طرفہ تعلقات استوار کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا لیکن بھارت کی جانب سے مثبت جواب نہیں دیا گیا تھا۔اس دوران پاک بھارت کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا جب 27 فروری کو پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر مگ 21 طیارے کو مار گرایا تھا۔مگ 21 چلانے والے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو بھی حراست میں لیا گیا تھا جسے بعد ازاں پاکستان نے جذبہ خیرسگالی کے تحت رہا کر دیا تھا اور انہیں واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے کیا گیا تھا۔

بھاتی ڈرون تباہ

مزید :

صفحہ اول -