حکومت کہین نہیں جا رہی، مدت پوری کریگی، اس ملک کو صرف تحریک انصاف بدل سکتی ہے، اتحادیوں کوساتھ لے کر چلیں گے، مافیا کا پیچھا چھوڑ دوں تو سب اچھا ہو جائے گا: عمران خان

حکومت کہین نہیں جا رہی، مدت پوری کریگی، اس ملک کو صرف تحریک انصاف بدل سکتی ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن روز حکومت ختم ہونے کے بیانات دے رہی ہے، حکومت کہیں نہیں جا رہی، اپنی مدت پوری کرے گی۔ اتحادی جماعتوں اور ارکان اسمبلی کے اعزاز دیئے گئے عشایئے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وہ اپوزیشن حکومت پر تنقید کررہی ہیہے جو تیس سال حکومت کر چکی۔ اس ملک کو صرف اور صرف تحریک انصاف ہی بدل سکتی ہے۔ مافیا کا پیچھا چھوڑ دوں تو سب اچھا ہو جائے گا۔ جو لوگ ملک کو تباہی کے دہانے پر لے گئے، ان سے کیسے ہاتھ ملاؤں؟ بہت پہلے بتایا دیا تھا کہ مشکل وقت آئے گا، تو یہ سب اکٹھے ہوں گے۔ یہ عوام کے مفاد میں نہیں، اپنی کرپشن کے دفاع کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی میں کوئی اختلافات نہیں، اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلیں گے، مشکل ترین حالات میں مجبوراً مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔ زیراعظم نے اتحادیوں سے ملاقاتون میں ا معاشی اہداف، مشکلات اور کورونا کی صورتحال میں ملک کو درپیش مسائل پر بھی بات چیت کی۔ انہوں نے ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔عشائیے سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں کوئی اختلافات نہیں، سب متحد ہیں۔ تحریک انصاف جمہوری پارٹی ہے، اس میں سب کو اظہار رائے کی آزادی ہے۔ حکومت تمام اتحادی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلے گی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ملک کو معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود حکومت نے ملکی معیشت مستحکم کرنے پر بھرپور توجہ دی۔انہوں نے کہا کہ کورونا صورتحال کے پیش نظر ارکان اسمبلی سے ملاقاتیں کم ہوئیں۔ اب انشاء اللہ تمام پی ٹی آئی اور اتحادی ارکان سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ کورونا صورتحال میں حکومت نے موثر حکمت عملی اپنائی۔ میں پہلے دن سے لاک ڈاؤن کے خلاف تھا، اس لئے وبا سے نمٹنے کیلئے سمارٹ لاک ڈاؤن کی طرف گئے۔ آج دنیا بھی لاک ڈاؤن کی بجائے سمارٹ لاک ڈاؤن کی طرف جا رہی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے ارکان اسمبلی کو بجٹ منظوری کے وقت حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ مشکل حالات میں اور شدید مالی مشکلات کے باوجود ٹیکس فری بجٹ دیا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت سنبھالی تو ملک چلانے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ معیشت بہتر ہوئی تو کورونا وائرس آ گیا۔ ارکان پارلیمنٹ کے مسائل سے واقف ہوں۔ مشکل ترین حالات میں مجبوراً مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔ذرائع کے مطابق ارکان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پر وزیراعظم کے سامنے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سوالات اٹھائے اور کہا کہ اچانک قیمتیں بڑھانے سے عوامی حلقوں میں تنقید ہو رہی ہے۔اس کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرول مہنگا ہونے کے باوجود ہم نے قیمت کم بڑھائی۔ پاکستان خطے میں سب سے سستا پٹرول فروخت کرنے والا ملک ہے۔دنیا نیوز کے مطابق اسد قیصر وزیر اعظم کے عشایئے میں آخری وقت پہنچے وہ 12ناراض ارکان اسمبلی کو منا کر عشایئے میں لائے

وزیر اعظم

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیر اعظم عمران خان نے اتوار کے روز اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا تاہم مسلم لیگ ق،بی این پیم مینگل اورشیخ رشید نے اس مین شرکت نہیں کی مسلم لیگ (ق) نے مصروفیات کے باعث وزیراعظم کے عشایے میں شرکت نہیں کی، شیخ رشید بیماری کی وجہ سے شریک نہ ہو سکے، تحریک انصاف کے ناراض ارکان بھی نہ مانے۔تفصیل کے مطابق ق لیگ، بی این پی مینگل اور عوامی مسلم لیگ نے وزیراعظم عمران خان کے عشائیے میں شرکت نہیں کی۔ مسلم لیگ (ق) نے موقف اختیار کیا قیادت کی مصروفیت کے باعث شریک نہیں ہو سکتے، تاہم بجٹ منظوری میں حکومت کی حمایت کریں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اہم ترین اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کی قیادت کو منانے کیلئے حکومتی رابطے بھی کسی کام نہ آئے۔ سپیکر اسد قیصر نے پہلے وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ سے ملاقات کی پھر چودھری پرویز الہیٰ کو فون بھی کیا اور عشائیے میں شرکت کی دعوت دی۔ق لیگ نے موقف اپنایا کہ حکومت کے اتحادی ہیں بجٹ میں بھرپورساتھ دیں گے لیکن پارٹی قیادت کی مصروفیت کے باعث عشائیہ میں شرکت نہیں کر سکتے۔ پرویز الہیٰ نے اسد قیصر کو جواب دیا جب آپ عشائیہ دیں گے تب ضرور آئیں گے۔بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل نے بھی وزیراعظم کے عشائیہ میں شرکت سے صاف انکار کر دیا تھا۔ اختر مینگل نے کہا کہ حکومت کے اتحادی نہیں رہے، اس لئے عشائیہ میں نہیں جا سکتے۔مسلم لیگ ق کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود آج اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کا عشایئے پر بلا رکھا ہے اس لئے وزیر اعظم کے عشایئے میں شرکت نہیں کر سکتے واضح رہے کہ مسلم لیگ ق نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)، بلوچستان عوام پارٹی(بی اے پی) اور گرینڈ ڈیمو کر یٹک الائنس (جی ڈی اے) سمیت آزاد ارکان کو دعوت دی ہے تاہم عشائیے میں تحریک انصاف کے رہنماؤں کو مدعو نہیں کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اس سلسلے میں چوہدری شجاعت حسین سے رابطہ کرکے ا نہیں منانے کی کوشش کی تاہم وہ کامیاب نہ ہوسکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اسد قیصر نے چوہدری شجاعت سے درخواست کی کہ ایک رکن قومی اسمبلی ہی بھجوادیں تاکہ ق لیگ کی نمائندگی ہو جائے تاہم چوہدری شجاعت نے ق لیگ کے کسی ایک رکن قومی اسمبلی کوبھی عشائیہ میں بھجوانے سے انکار کردیا۔سربراہ مسلم لیگ ق نے وزیراعظم کو پیغام میں کہا کہ بجٹ میں ووٹ دینے کا وعدہ تھا، ووٹ دیں گے لیکن آپ کا کھانا نہیں کھائیں گے۔رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے بھی طبیعت کی خرابی پر وزیراعظم سے معذرت کرلی ہے۔دوسری جانب بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) نے بھی عشائیے میں شرکت سے انکار کردیا ہے۔بی این پی کے رہنما جہانزیب جمالدینی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا عشائیہ حکومتی اتحادیوں کیلیے ہے، ان کی جماعت اب اتحادی نہیں رہی اس لیے ان کا وزیر اعظم کے عشائیہ میں شرکت کا کوئی جواز نہیں۔وزیراعظم عمران خان نے عشائیہ سے قبل اتحادی جماعتوں سے ملاقاتیں کی جس میں تحفظات اور شکوے دور کرنے کی یقین دہانیاں کرائیں۔ وزیراعظم نے اتحادیوں کو حکومتی اقدامات پر اعتماد میں لیا اور حکومتی امور میں ساتھ لے کر چلنے کی یقین دہانی کروائی۔وزیراعظم عمران خان سے بلوچستان عوامی پارٹی کے وفد نے ملاقات کی جس میں وفاقی وزیر زبیدہ جلال، میر خالد مگسی اور سردار اسرار ترین سمیت دیگر شریک ہوئے۔ اس ملاقات میں بجٹ منظوری اور بلوچستان کے مسائل کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔بلوچستان عوامی پارٹی نے بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں میں کٹوتی پر تحفظات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ ہے۔ بلوچستان کی احساس محرومی کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ حکومت کورونا صورتحال میں معاشی استحکام کے لیے کوشاں ہے۔ بلوچستان کے حوالے سے تمام اتحادی جماعتوں کے تحفظات دور کریں گے۔بعد ازاں وزیراعظم عمران خان سے ایم کیو ایم وفد نے بھی ملاقات کی۔ ایم کیو ایم کنوینر خالد مقبول صدیقی نے وفد کی سربراہی کی۔ وفاقی وزیر امین الحق سمیت دیگر ارکان شریک ہوئے۔اس ملاقات میں کراچی اور حیدر آباد میں ترقیاتی منصوبوں اور کے فور منصوبے میں پیش رفت پر بھی بات چیت کی گئی۔ ایم کیو ایم نے کراچی، حیدر آباد اور میر پور خاص کے لیے بجٹ میں رقم مختص کرنے پر شکریہ ادا کیا۔اس کے علاوہ جی ڈی اے وفد نے بھی وزیراعظم سے ملاقات کی جس میں وفاقی وزیر فہمیدہ مرزا اور رکن اسمبلی سائرہ بانو شریک تھے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم عمران سے رکن قومی اسمبلی اسلم بھوتانی اور غلام بی بی بھروانہ کی بھی ملاقات ہوئی۔

عشایۂ ملاقاتیں

مزید :

صفحہ اول -