ویکسی نیشن کے باوجود فیس ماسک اور احتیاطی تدابیر ضروری

ویکسی نیشن کے باوجود فیس ماسک اور احتیاطی تدابیر ضروری

  

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) نے برطانیہ، کینیڈا، یورپ، چین اور ملائیشیا سے براہِ راست پروازوں میں 40فیصد اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ این سی او سی کے اجلاس میں کورونا وائرس کے متعلق کیسز اور نافذ العمل ایس او پیز پر غور کے بعد کیا گیا۔ پاکستان آنے والے کورونا مثبت مسافروں کے لئے گھروں میں قرنطینہ لازمی ہوگا تاہم منفی کیسوں کے لئے قرنطینہ کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ ائرپورٹوں پر بیرون ملک سے آنے والوں کے لئے کورونا ٹیسٹ کا عمل جاری رہے گا۔ ان فیصلوں کا اطلاق یکم جولائی سے کیا جائے گا۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے پاکستان اور بھارت سمیت چودہ ممالک سے آنے والی پروازوں پر پابندی میں 21جولائی تک توسیع کر دی ہے تاہم کارگو، بزنس اور چارٹر پروازوں پر پابندی کا اطلاع نہیں ہوگا۔12مئی کو پاکستان کی پروازوں پر پابندی عائد کی گئی تھی پھر اس میں 6جولائی تک توسیع کی گئی جو اب 21جولائی تک بڑھا دی گئی ہے۔ برطانیہ میں پاکستان سے جانے والوں کو اول تو ویزے ہی نہیں دیئے جا رہے تاہم جن کے پاس پہلے سے موجود ہیں یا جو پاکستانی برطانوی پاسپورٹ رکھتے ہیں وہ پاکستان سے برطانیہ میں داخل ہوں تو انہیں ائرپورٹ سے ہوٹلوں میں قرنطینہ کے لئے لے جایا جاتا ہے اور اس کے اخراجات مسافر خود ادا کرتے ہیں اس میں ایسے مسافروں کے لئے کوئی استثنا نہیں جنہوں نے ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوا رکھی ہیں۔

پاکستان میں مثبت کیسوں کی شرح میں بتدریج کمی ہو گئی ہے اور اب یہ شرح 2فیصد سے بھی کم ہے اور مسلسل دو روز سے پورے ملک میں مثبت کیس ایک ہزار سے کم رپورٹ ہو رہے ہیں۔ شرح اموات میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔ صحت یاب مریضوں کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے اور زیر علاج مریض کم ہو رہے ہیں وینٹی لیٹر پر بھی کم مریض دیکھے جا رہے ہیں۔ پنجاب میں نئے کیسوں کی شرح باقی صوبوں کی نسبت کم ہے صرف لاہور میں گزشتہ روز 62مثبت کیس سامنے آئے جو پورے پنجاب کے مریضوں کا لگ بھگ 40فیصد ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ صوبے کے بعض شہر (یا اضلاع) ایسے ہیں جہاں مثبت کیس نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں اس کے باوجود این سی او سی نے خبردار کیا ہے کہ جولائی میں کورونا کی چوتھی لہر آ سکتی ہے غالباً یہ خدشہ عیدالاضحی کے پیش نظر ظاہر کیا گیا ہے جو 21جولائی کو ہونے کا امکان ہے اس سے پہلے قربانی کے جانوروں کے جو بازار لگیں گے وہاں ایس او پیز پر زیادہ سختی سے عمل درآمد کی ضرورت ہو گی کیونکہ عموماً عید سے ہفتہ دس دن پہلے ان منڈیوں میں رش ہو جاتا ہے اور پچھلی عید پر دیکھا گیا تھا کہ ایس او پیز کا پوری طرح اہتمام نہیں کیا گیا۔

دنیا میں بہت سے ملک ایسے ہیں جہاں ویکسی نیشن کا عمل تیز رفتاری سے جاری ہے اور جو لوگ ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوا چکے ہیں انہیں ماسک پہننے سے مستثنیٰ قرار بھی دیا گیا ہے تاہم عالمی ادارۂ صحت نے اب بھی خبردار کیا ہے کہ ویکسین لگوانے کے باوجود ماسک پہننا ضروری ہے اور ایس او پیز کی پابندی بھی ہونی چاہیے۔ ڈبلیو ایچ او کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر مارینا گیلاسیمو  کا کہنا ہے کہ لوگ صرف ویکسین کی دو خوراکوں کے استعمال سے محفوظ نہیں ہو سکتے۔ انہیں اب بھی اپنے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے صرف ویکسین سے برادری کی سطح پر وائرس کے پھیلاؤ کو نہیں روکا جا سکتا لوگوں کو گھر سے باہر فیس ماسک کا استعمال جاری رکھنا چاہیے۔ ہاتھوں کی صفائی، سماجی دوری اور ہجوم میں جانے سے گریز کرنا چاہیے۔ ایسی حفاظتی تدابیر ان لوگوں کے لئے بھی ضروری ہیں جو ویکسین لگوا چکے ہیں۔ یہ اطلاع بھی ہے کہ بھارت میں سب سے پہلے دریافت ہونے والی کورونا کی قسم ڈیلٹا اب دیگر ممالک میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔ خاص طور پر اس کا پھیلاؤ ان علاقوں میں بہت زیادہ ہے جہاں ویکسی نیشن کی شرح کم ہے اس لئے ایسے ملکوں کو زیادہ احتیاطی تدابیر کی ضرورت ہے۔کورونا کی بھارتی قسم بنگلہ دیش میں بھی تیزی سے پھیل گئی ہے۔جہاں  تمام سرکاری اور نجی دفاتر ایک ہفتے کے لئے بند کر دیئے گئے ہیں۔ ٹرانسپورٹ بھی بند کر دی گئی ہے۔ صرف ایمبولینس گاڑیاں ہی چل سکتی ہیں ان احکامات پر سختی سے عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ لوگ صرف انتہائی ضروری کام ہی سے گھروں سے باہر نکل سکیں گے۔ احکامات پر عملدرآمد کے لئے پولیس اور سیکیورٹی اہل کاروں کی خدمات بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔

مختلف ملکوں سے ایسی اطلاعات کے بعد یہ ضروری ہے کہ ہوائی سفر سے پابندیاں ہٹاتے وقت احتیاطی تدابیر کو نظر انداز نہ کیا جائے کیونکہ پاکستان میں کورونا وائرس کی آمد بین الاقوامی مسافروں ہی کے ذریعے ہوئی تھی  شروع شروع میں ان کی چیکنگ اور کورونا ٹیسٹوں کا ائرپورٹوں اور ملک میں داخلے کے دوسرے انٹری پوائنٹس پر کوئی اہتمام نہ تھا ایسے میں کورونا کے ”کیرئیر“ جب معاشرے میں گھل مل گئے تو کورونا کیس تیزی سے بڑھے اور پاکستان کو کورونا کی تین لہروں سے گزرنا پڑا اب تیسری لہر بمشکل دم توڑ رہی ہے تو ساتھ ہی چوتھی لہر سے بھی خبردار کر دیا گیا ہے ایسے میں احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کرنا نقصان دہ ہو گا ملک میں اگرچہ ویکسی نیشن کا عمل جاری ہے تاہم اس کی رفتار سست ہے۔ پہلی خوراک کے بعد دوسری خوراک میں لوگ زیادہ سنجیدہ نہیں ہیں۔ پھر ایسی اطلاعات بھی آئیں کہ جن لوگوں نے ایک قسم کی پہلی خوراک لگوائی انہیں دوسری خوراک کسی دوسری ویکسین کی لگا دی گئی اب ان کے اثرات یکساں ہیں یا نہیں اس بارے میں بھی ماہرین کو ہدایت نامہ جاری کرنا چاہیے۔ امریکہ میں تو ایف ڈی اے نے خبردار کیا ہے کہ فائزر موڈرنا ویکسین سے دل میں سوجن ہو سکتی ہے۔ اگرچہ یہ رسک محدود ہے تاہم اس سے اتنا اندازہ تو ہو ہی جاتا ہے کہ جو کمپنیاں اپنی ویکسین کو بہت بہتر قرار دے رہی ہیں ان کے بھی ضمنی اثرات موجود ہیں ایسے میں احتیاطی تدابیر کو اس وقت تک اختیار کرنا ضروری ہے جب تک کورونا کا پوری طرح خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ ہمارے ہاں تو ویکسین کے سائیڈ ایفیکٹس پر کوئی زیادہ دھیان نہیں دیا جا رہا جن ملکوں نے ویکسین ایجاد کی ہے وہ بدستور اسے بہتر بنانے میں لگے ہیں اور شاید وہ وقت بھی آجائے جب اس کی اثر پذیری کی شرح بڑھ جائے تاہم جو دور گزر رہا ہے وہ عبوری ہے اور زیادہ احتیاط کا متقاضی ہے ایسے میں جب ہم بیرونِ ملک سے زیادہ پروازوں کی اجازت دے رہے ہیں تو احتیاط بھی زیادہ کرنا ہوگی۔ برطانیہ اگر ویکسین لگوانے کے باوجود پاکستان سے جانے والوں کو سُرخ فہرست سے نہیں نکال رہا اور یو اے ای میں پاکستان سے جانے والی پروازوں کی سرے سے اجازت ہی نہیں تو اس میں کوئی نہ کوئی حکمت تو ہوگی۔ اس لئے ہمیں بھی فیصلے کرتے وقت زیادہ احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -