غریب پرویز خٹک کی آنکھوں سے تلاش نہ کریں 

غریب پرویز خٹک کی آنکھوں سے تلاش نہ کریں 
غریب پرویز خٹک کی آنکھوں سے تلاش نہ کریں 

  

وہ ایک مسکراتا چہرہ تھا!

دبلا پتلا، کام کرنے میں درمیانہ!

ہماری ملاقات ملتان میں کوئی سترہ برس قبل ہوئی۔ میں ایک سکول میں پرنسپل تھا اس نے بطور ٹیم ممبر جوائن کیا تھا۔ کچھ عرصہ ہم نے اسی سکول میں اکٹھے کام کیا اور پھر ایک سوفٹ ویئر ہاؤس میں بھی کام کیا … وقت نے زندگی کا ورق الٹا، وہ لاہور چلا گیا اور میں ایک اور سکول میں پرنسپل بن کر ملتان سے نکل آیا۔

زندگی ٹھیک گز ررہی تھی…پھر اس کی شادی ہوگئی، اور زندگی کا ایک تلخ باب شروع ہوا. ایک بیٹی  بھی پیدا ہوگئی۔ اس کا سسرال مالی لحاظ سے تگڑا تھا مگر بقول اس کے اس ''تگڑاپے'' کا اسے کوئی فائدہ نہ ہوا تھا بلکہ نقصان ہوا۔ اس نے شادی پر اپنی دھاک بٹھانے کے لئے بنک سے کریڈٹ کارڈ پر قرضہ لیا تھا … ایک نہیں، تین بنکوں سے. جو لوگ کریڈٹ کارڈ لون سے ''استفادہ'' کرچکے وہ اس سے بخوبی واقف ہوں گے۔ میں نے زندگی میں ایک بار کیا اور پھر ناک سے لکیریں نکال کر کارڈ کاٹ کر ایک بڑی سی نہر میں بہادیا. کاروباری طبقہ اس ''عیاشی'' کا متحمل ہوسکتا ہے، تنخواہ دار طبقہ ہرگز نہیں … ایک دن اس نے مجھے فون کیا کہ اسے کچھ پیسوں کی ضرورت ہے۔ میں نے پیسے بھجوا دیے…  پھر یہ سلسلہ چل نکلا، میں بھی حسب توفیق بھجوادیتا تھا۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا ہمارا ایک اور دوست لاہور سے اسے ماہانہ کچھ رقم باقاعدگی سے ادا کرتا رہا… ایک دن اس نے مجھے کہا کہ اگر آپ مجھے پچیس ہزار دے دیں تو میرے گھر کا سکون لوٹ آئے گا، بنکوں کے کارندے میرے گھر آنا بند ہوجائیں گے جو آئے دن میرے گھر آتے ہیں، مجھے بے عزت کرتے ہیں، گالم گلوچ کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ…. میں نے پچیس ہزار بھجوادیئے، مگر کہانی ختم نہ ہوئی بلکہ مزید پیچیدہ ہو گئی۔

معلوم ہوا کہ اس کے ذمے پانچ لاکھ کا کریڈٹ کارڈ قرضہ ہے۔ اس نے مجھے فون کیا کہ اب تو میرے سینے میں درد رہنے لگا ہے۔ آپ ایک بنک کا قرض اپنے ذمے لے لیں، ماہانہ قسط ادا کردیا کریں … میں بھی مناسب تنخواہ لینے والا بندہ ہوں جو ممکن تھا کیا مگر ''قرض'' بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ میں نے دوست کو بتائے بغیر کسی طرح اس کے ''تگڑے سسرال'' سے رابطہ کیا اور اس کی مشکلات سے آگاہ کیا۔ میرا خیال تھا چار پانچ لاکھ ان کے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا مگر بقول اس کے کہ کسی نے میرے سسرال کو بتایا ہے اور اب وہ پورے خاندان میں مجھے گندہ کرتے ہیں … قصہ مختصر، ہم دوستوں سے جو ہوسکا کیا مگر ایک دن اچانک وہ ہارٹ اٹیک سے اس دنیا سے رخصت ہوگیا… مجھے اس کا مسکراتا چہرہ یاد آتا ہے مگر افسوس ہوتا ہے کہ ظاہری نمودونمائش کے لئے ہم قرض لیتے ہیں … ہماری شادی بیاہ کی رسومات نے ہمیں ایسی حماقتوں پر مجبور کردیا ہے۔

ہمیں انفرادی سطح پر غیر ضروری قرضوں سے بچنے کی پوری کوشش کرنی چاہئے۔ انتہائی ناگزیر ضرورت کے لئے ایسا کریں۔ اگر ہر انفرادی کوشش کامیاب ہوگی تو قومی سطح پر بھی قرضوں کی لعنت کم ہوجائے گی۔ قرض لینے والے کو کہیں نہ کہیں ڈومور کرنا پڑتا ہے۔ اپنے ذاتی اور قومی اخراجات کم کریں. وزیراعظم نے Absolutely not کا جو بوجھ اٹھایا ہے اس کی قیمت بڑی بھاری ہے مگر قوموں کی زندگی میں ایسے بوجھ آیا کرتے ہیں، قومیں اپنے لیڈروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہیں، مگر کب؟؟ جب حکمران اور ان کے وزراء حکمران نہیں حقیقت میں لیڈرشپ کا رول ادا کرتے ہیں. وزیراعظم سب سے پہلے اپنی ٹیم کا امیج سافٹ کریں، اپوزیشن اور حکومتی ارکان کو ایک ترازو میں تولیں اور ہاں وزیراعظم پرویز خٹک کی آنکھوں سے غریب تلاش نہ کریں، حقیقت کی آنکھوں سے تلاش کریں تو ان کی یہ آنکھیں بھیگ جائیں گی. بڑھتی مہنگائی کو بھی حقیقت کی آنکھ سے دیکھ لیں اور اس پر قابو پالیں تو قوم کی زندگی سکھی ہوجائے گی  اور انہیں سلام پیش کرے گی. قوم ساتھ کھڑی ہوگی تو کسی کو ڈومور کہنے کی جرأت نہیں ہوگی۔ ترکی اگر آج آنکھیں دکھانے کے قابل ہوا ہے تو اس میں وقت لگا. اردوان کا سفر استنبول کے میئر کے طور پر ڈلیور کرنے سے شروع ہوا اور آج اس کا کام اور نام دونوں مرکز نگاہ ہیں. آج دنیا ترکی اور اردوان کو ہی جانتی ہے، کسی اور کو نہیں. پاکستان میں ایسا ہوسکتا ہے، قرض کی شراب سے چھٹکارا مل سکتا ہے، دنیا ہمیں سلام کر سکتی ہے، سبز پاسپورٹ والوں کو سیلوٹ کیا جاسکتا ہے. دنیا صرف عمران خان اور پاکستان کو مان سکتی ہے. مگر کب؟؟ جب عمران خان ڈلیور کرکے دکھائیں... پھر نو مور پر قائم بھی رہ سکیں گے. 

مزید :

رائے -کالم -