ہم پرائی جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے

ہم پرائی جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے
ہم پرائی جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے

  

اس وقت جب امریکہ نے ایک طرف افغانستان سے اپنی فوج کی باقاعدہ  واپسی کا اعلان کیا تو دوسری طرف پاکستان سے ہوائی اڈوں کی فراہمی کا مطالبہ بھی کر دیاتاکہ ضرورت پڑنے پر افغانستان میں کسی بھی قسم کی کارروائی کر سکے۔اس صورتحال پر دنیا بھر کے ماہرین نظریں جمائے بیٹھے تھے کہ خطے کی بدلتی صورتحال پر حالات کیا رخ اختیار کریں گے اور  یہ سوال سب سے زیادہ اہمیت کا حامل تھا کہ کیا پاکستان امریکہ کو اپنے ہوائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے گا یا نہیں؟۔گزشتہ دنوں جب ایک امریکی صحافی نے پاکستانی وزیراعظم سے دوران انٹرویو یہی سوال کیا کہ کیا امریکہ پاکستان کے ہوائی اڈوں کو استعمال میں لا کر افغانستان کے خلاف کارروائی کر سکے گا تو پاکستانی وزیراعظم نے جب دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ہر گز نہیں تو یہ جواب سن کر نہ صرف امریکی صحافی ششدر رہ گیا بلکہ وائٹ ہاؤس سمیت امریکہ کے باقی اتحادی ممالک کو بھی پیغام مل گیا کہ اب پاکستان سے اس طرح کی کوئی بھی امید رکھنا سود مند نہیں ہوگا۔یہاں ایک بات بہت اہم ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے اس اصولی موقف اپنانے پر اسلامی دنیا سمیت  اقوام عالم میں پاکستان کے وقار میں بہت زیادہ  اضافہ ہوا ہے۔ نائن الیون کے بعد جب امریکہ نے افغانستان  کے خلاف جنگ شروع کی تو کئی ممالک نے انفرادی فیصلے کئے کچھ نے امریکہ کا ساتھ دیا تو کئی لاتعلق ہو گئے۔پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر امریکہ نے پاکستان کو بھی اتحادی بنانے کی کوششیں شروع کر دیں اور اس وقت کی پاکستانی قیادت نے معروضی حالات کے پیش نظر امریکی اتحاد کا حصہ بننے کافیصلہ کیا۔

اس کے صلہ میں امریکہ نے پاکستان کو  نان نیٹو اتحادی کا درجہ بھی دلوا دیا لیکن ساتھ ساتھ ڈرون حملوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا  یوں تعلقات میں سرد مہری بڑھتی گئی اور دونوں ممالک کے درمیان فاصلوں کی ایک وسیع خلیج پیدا ہو گئی۔اس فیصلے نے بعد میں اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا اور سب سے زیادہ نقصان بھی پاکستان کو اٹھانا پڑا۔اس  جنگ کے شعلوں نے پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ہمارے یہاں بھی خود کش بم دھماکوں اور دہشت گردی کا ایک سلسلہ چل نکلا۔ دہشت گردی کی یہ آگ پھیلانے کے لئے پاکستان مخالف ایجنسیوں نے کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا ۔ اب ایک طرف تو پاکستان مختلف ملک دشمن قوتوں سے بر سر پیکار تھاتو دوسری جانب  ہمسایہ ملک مسلسل ایل او سی کی خلاف ورزیاں کر کے پاکستان میں دہشت گردی کی آگ بھڑکانے میں پیش پیش رہا۔

ہمسایہ ملک کس حد تک دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے اس کا جیتا جاگتا ثبوت کلبھوشن  یادیوکی شکل میں دنیا دیکھ چکی ہے۔اس جنگ میں پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا ،ہزاروں بے گناہ پاکستانی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔خیر جب وطن عزیز میں دہشت گردی کے واقعات بڑھنے لگے تو دنیاکی صف اول کی پاک فوج نے آپریشن ضرب عضب شروع کر کے دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی اور بعد میں آپریشن ردالفساد کے بعد پاک سر زمین کو دہشت گردوں سے پاک کر کے رکھ دیا  یہی وجہ ہے کہ آج  افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے بل بوتے پر ہمارے ہاں چہار سو امن و آشتی کی فضا قائم ہے جس  پر پاک فوج کو جتنی بھی داد و تحسین پیش کی جائے کم ہو گی۔سر دست صورتحال یہ ہے کہ پاکستان مخالف تمام ممالک اور ملک دشمن قوتوں کو منہ کی کھانا پڑی ہے اور دنیا کے نقشے پر پاکستان الحمدللہ ایک مضبوط اور توانا ملک کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے۔

ایک طرف پاکستان کو  افغان جنگ کا خمیازہ بھگتنا پڑا وہیں جب بھی امریکی حکام جنوبی ایشیا کے دورے پر آتے  تو مطالبات کی ایک نئی اور طویل فہرست تھما دی جاتی دوسرے الفاظ میں DO MORE کا ہی بھاشن دیا جاتااور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ڈو مور کا حکم بجا لاتے لاتے پاکستان نے  امریکہ کے ساتھ مزید چلنے سے انکار کر دیا۔لیکن جب گزشتہ دنوں پاکستانی وزیراعظم نے دو ٹوک الفاظ میں نو مور کا جواب دیا تو پاکستانیوں  کے سر فخر سے بلند ہو گئے۔اسی سلسلے میں وزیراعظم عمران خان کا ”واشنگٹن پوسٹ“ میں ایک مضمون بھی چھپا ہے جس میں انہوں نے برملا کہا کہ اب ہم کسی دوسرے کی جنگ میں حصہ نہیں لے سکتے۔ افغان باشندوں کا ذاتی معاملہ ہے وہ خود ہی مل بیٹھ کر حل کریں اور معاملات کا حل جنگیں نہیں سیاسی مذاکرات ہی ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔المختصر حالات کی نزاکت کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم کا فیصلہ قابل تعریف ہے کہ اب ہم پرائی جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے یہ الگ بات کہ اس واضح پیغام کے بعد ہر فورم پر پاکستان کی مخالفت شروع کر دی گئی ہے جس کی تازہ مثال ستائیس میں سے چھبیس پوائینٹس پر عملدرآمد کے بعد بھی ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھا ہے ۔لیکن اپنے روشن مستقبل کے لئے  ہمیں مشکل فیصلے لینا  پڑیں گے اور نئی منزلوں کے حصول کے لئے ہر طرح کے حالات کا سامنا کر کے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لانا ہوں گی۔اس دعا کے ساتھ اجازت کہ 

خدا کرے میری ارض پاک پہ اترے 

وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

مزید :

رائے -کالم -