سیاست اور منتخب نمائندوں کا طرزِ عمل

سیاست اور منتخب نمائندوں کا طرزِ عمل
سیاست اور منتخب نمائندوں کا طرزِ عمل

  

پاکستان کو وجود میں آئے 73سال سے زائد ہو چکے ہیں۔ مقامِ افسوس ہے کہ قائد اعظمؒ کی وفات کے بعد پاکستان کی سیاست اور منتخب نمائندوں کا طرزِ عمل دن بدن روبہ زوال ہے۔ گذشتہ برسوں میں چند ایک کو چھوڑ کر یا تو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کو کالعدم قرار دے دیا گیا یا اُن کی حیثیت کو بے اثر کر دیا گیا۔ اب تک وطنِ عزیز تین مارشل لاء کے طوفانوں سے گذر چکا ہے جس کا ذمہ دار بھی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے منتخب نمائندوں کو قرار دیا گیا ہے۔ مزید افسوس ناک امر یہ ہے کہ ان مارشل لاؤں کے زیر سایہ بھی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات عمل میں لائے گئے۔ قائد اعظمؒ نے جس پاکستان کی بنیاد جس قومی نظریہ پر رکھی اُسے فراموش کر دیا گیا ہے۔  آج قائد اعظمؒ کے نظریہ پاکستان کے برعکس اِسے مذہبی ریاست بنانے کی کوشش کی جاتی ہے اور کبھی نیا پاکستان بنانے کے بیانات دیئے جاتے ہیں اور موجودہ حکمران اِسے ریاست مدینہ کی طرز کی ریاست بنانے کی باتیں کر رہے ہیں حالانکہ یہ سب باتیں قائد اعظمؒ کے نظریہ پاکستان سے متصادم ہیں۔

قائد اعظم نے اپنی 11 اگست 1947ء کی دستور ساز اسمبلی میں پالیسی ساز تقریر میں واضح طور پربیان کر دیا تھا کہ پاکستان کوئی مذہبی ریاست یعنی تھیورو کریٹ ریاست نہیں ہو گی اور ریاست کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہو گا کیونکہ مذہب ہر شخص کا ذاتی مسئلہ ہے۔ اُنہوں نے صاف طورپر کہا کہ ہندو ہندو نہیں رہے گا۔ مسلمان مسلمان نہیں رہے گا۔ مذہبی معنوں میں نہیں بلکہ ریاستی معنوں میں سب ریاست کے برابر کے شہری ہوں گے یعنی اُن کی قومیت  صرف پاکستانی ہو گی۔ جن مذہبی جماعتوں نے قیامِ پاکستان کے وقت پاکستان کی مخالفت کی تھی وہ اُس وقت سے آج تک اِسے ایک مذہبی ریاست بنانے پر تُلی ہوئی ہیں اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا اور مسیحی عوام جنہوں نے پاکستان کی حمایت کی تھی آج بھی زیرِ عتاب ہیں اور اُنہیں کوئی پوچھتا نہیں۔ آج قائد اعظم کی مخالف جماعتیں ملک پر حکمرانی کے لئے ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہیں۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے تقدس کو بھی پامال کیا جا رہا ہے اور ایک دوسرے سے دست و گریباں ہونے کے ساتھ ساتھ پنجابی میں گالیوں کی آواز بھی ایوانوں میں گونج رہی ہیں۔ 

قابلِ افسوس بات یہ ہے کہ حکمران جماعت پی ٹی آئی کے نمائندے اپوزیشن جماعتوں سے ایوانوں میں برسرِ پیکار ہیں بلکہ اُنہیں گندی گالیاں بھی دے رہے ہیں جنہیں سوشل میڈیا اور ٹیلی ویژن کی سکرین پر عوام دیکھ چکے ہیں اور اب تک کسی طرف سے بھی اس کی ایسی مذمت کی صدا سنائی نہیں دی جس میں اُن کرداروں کے خلاف کوئی کارروائی کا ذکر کیا گیا ہو۔ اِس سلسلے میں ملک کے عدل و انصاف کے تمام ادارے منقار زیر پر ہیں۔ اِن افسوس ناک اور شرمناک واقعات پر پاکستان کے عوام کے سر شرم سے جھک گئے ہیں اور وطنِ عزیز کی دنیا بھر میں اس صورتِ حال سے جو جگ ہنسائی ہو رہی ہے وہ ہم سب کے لئے دُکھ اور تکلیف کا باعث ہے۔

آج ضرورت اِس امر کی ہے کہ وطن دوست عوام میدانِ عمل میں آئیں اور اِس قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں موجودہ افسوس ناک صورتِ حال کے مرتکب کرداروں کو قرار واقعی سزا دلانے کے لئے حق و انصاف کے اداروں کو مجبور کریں۔ آئندہ ایسی صورتِ حال سے ایوانوں کو محفوظ رکھنے کے لئے عملی کردار ادا کریں اور اس سلسلے میں ضروری قانون سازی کی جائے۔

مزید :

رائے -کالم -