زمینوں پر قبضے

زمینوں پر قبضے
زمینوں پر قبضے

  

آج کل حکومت کی اِس پالیسی کا بڑا چرچا ہے جو اُس نے زمینوں پر ناجائز قبضے ختم کرانے کے لئے اختیار کر رکھی ہے۔اب اِس سلسلے میں باقاعدہ ایک بل بھی پاس ہو چکا ہے۔ آئے دن اعدادوشمار اخبارات کی زینت بنتے ہیں کہ پنجاب گورنمنٹ نے اتنے ہزار ایکڑ اراضی پر غیرقانونی قبضہ ختم کرایا ہے۔ غالباً اِس مہم کا آغاز لاہور میں کھوکھر برادران کے خلاف ایکشن سے ہوا تھا۔ کھوکھر برادران طاقتور لوگ ہیں عین ممکن ہے انہوں نے کچھ سرکاری زمینوں پر قبضہ کر رکھا ہو، لیکن اُن کا تعلق چونکہ مسلم لیگ (ن) سے ہے اِس لئے لوگ شک کرتے ہیں کہ شاید یہ مہم بھی شریف برادران کو بدنام کرنے کے لئے شروع کی گئی ہے۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ کچھ اچھے کام بھی بعض وجوہات کی بنا پر شکوک و شبہات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ میرے پاس تفصیل نہیں کہ لاہور کے علاوہ اور کہاں کہاں اور کن افراد سے ناجائز قبضہ چھڑایا گیا ہے۔

پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر راولپنڈی سے پی ٹی آئی کے ایک ایم پی اے بھی بڑی بھرپور کہانی سنا رہے تھے کہ کس طرح انہوں نے مختلف طاقتور خاندانوں سے زمینوں کے قبضے چھڑوانے کے لئے مہم شروع کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اور لوگوں کے علاوہ پی ٹی آئی کی ایک اہم شخصیت نے بھی سرکاری زمینوں پر قبضہ کیا ہوا ہے اور جب انہوں نے یہ کام شروع کیا تو اُن طاقتور لوگوں نے اُن کا بائیکاٹ کر دیا۔تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ پچھلے دور میں وزیر داخلہ چودھری نثار نے اِن قبضہ گروپوں کے خلاف کارروائیاں کی تھیں۔

یہ کہانی تو شاملات اور غیرآباد سرکاری زمینوں پر قبضے کی ہے، لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ غیرقانونی قبضہ خواہ سرکاری زمین پر ہو یا کسی فرد کی زمین پر جرم ہے شاید نجی زمینوں پر قبضہ زیادہ بڑا جرم ہے، کیونکہ حکومت کو تو اِن باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا، لیکن ایک فرد کا نقصان کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں دو اہم کام حکومتوں نے کئے ہیں ایک اشتمال راضی اور دوسرا زمینوں کی کمپیوٹرائزیشن، لیکن اس سے مسائل کم ہوئے ہیں ختم بالکل نہیں ہوئے اور بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے غالباً1997ء میں مسلم لیگ کے وزیر خزانہ سرتاج عزیز نے زمینوں کے ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کی بات کی تھی۔ میں نے پی ٹی وی کی طرف سے اس سلسلے میں اُن کا انٹرویو کیا تھا۔ بعد میں پنجاب گورنمنٹ نے اس پر قابل قدر کام کیا۔ اب تک پنجاب میں تقریباً تمام زمینوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہو چکا ہے اور اس سلسلے میں کم از کم تحصیل کی سطح پر 145 لینڈ ریکارڈ سنٹر قائم کئے جا چکے ہیں،جہاں زمینوں کے انتقال ہوتے ہیں اور زمین کی فرد بھی آسانی سے لی جا سکتی ہے۔

میرا تعلق ایک زمیندار فیملی سے ہے ورثے میں اچھی خاصی زمین ملی، لیکن بدقسمتی سے زمین پورے ضلع،بلکہ دوسرے ضلع تک پھیلی ہوئی تھی دوسری بدقسمتی یہ رہی کہ میں گاؤں چھوڑ کر ملازمت کے سلسلے میں چاروں صوبوں میں رہائش پذیر رہا اور اب آخر کار ہمیشہ کے لئے اسلام آباد میں سیٹل ہو چکا ہو لہٰذا میں زمینوں پر ناجائز قبضے کے مسئلے سے دوچار ہوں۔ اتنا وقت گزر جانے کے باوجود اب بھی کئی مقامات پر ناجائز قبضہ ختم کرانے کی جدوجہد میں مصروف ہوں۔ ایسی صورت حال کا پہلا فائدہ تو رشتہ دار ہی اُٹھاتے ہیں، لیکن معاملہ انہی تک محدود نہیں ہے،بلکہ کئی اور لوگوں کے خلاف میں نے محکمہ مال میں کیس دائر کر رکھے ہیں جو سال ہا سال سے چل رہے ہیں اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کب کامیابی ہوگی۔ اس سلسلے میں ایسا لگتا ہے کہ قانون قبضہ کرنے والوں کے حق میں ہے، کیونکہ کیس سال ہا سال چلتا ہے اور سارے عمل میں محکمہ مال کا بنیادی کردار ہوتا ہے اور یہ تو کوئی راز کی بات نہیں کہ محکمہ مال میں رشوت کے بغیرآج بھی کوئی کام نہیں ہوتا۔ 

کمپیوٹرائزیشن کے بعد بھی ابھی تک پٹواری سے جان نہیں چھوٹی، کیونکہ جہاں کہیں کوئی تضاد یا اڑچن درپیش ہوتی ہے معاملہ پٹواری کو ریفر ہوتا ہے۔ کچھ عرصے پہلے اس سلسلے میں قانون میں ترمیم کی گئی تھی کہ فیصلہ ہونے کے بعد غیرقانونی قبضہ رکھنے والے کو چھ فصلوں کا جرمانہ دینا ہو گا بشرطیکہ قبضہ چھڑانے والا کیس دائر کرے۔ پہلی بات تو یہ کہ کیس دائر کرنے کا عملی مطلب یہ ہے کہ مزید خرچہ کیا جائے اور طویل عرصے تک تاریخیں بھگتی جائیں۔ دوسرا یہ کہ اگر ایک آدمی نے زمین پر بیس سال سے قبضہ کیا ہوا تھا اور وہ اُس کا مالی فائدہ اُٹھا رہا تھا تو چھ فصلوں کا جرمانہ اُس کے لئے کتنا تکلیف دہ ہو گا؟ یہ جرمانہ چھ فصلوں تک کیوں محدود رکھا جائے کیوں نہ اتنے عرصے کے لئے ہو جتنے عرصے سے وہ قبضہ کئے ہوئے ہے یا کم از کم جب سے اصل مالک نے اس سلسلے میں قانونی کارروائی شروع کی ہو پھر اگر کیس کا فیصلہ اصل مالک کے حق میں ہو بھی جاتا ہے تو پھر بھی عملی طور پر قبضہ چھڑوانا کافی مشکل ہے۔ اس کے لئے بار بار ڈی سی اور محکمہ مال سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ کیا ریونیو بورڈ کے اعلیٰ حکام یا وزیراعلیٰ جو خود بھی زمیندار ہیں اور اس مسئلے کو بخوبی سمجھتے ہیں اس معاملے پر غور کریں گے۔

مزید :

رائے -کالم -